أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ رُسُلًا اِلٰى قَوۡمِهِمۡ فَجَآءُوۡهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ فَانْتَقَمۡنَا مِنَ الَّذِيۡنَ اَجۡرَمُوۡا ‌ؕ وَكَانَ حَقًّا عَلَيۡنَا نَصۡرُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور بیشک ہم نے آپ سے پہلے (بھی) رسولوں کو ان کی قوموں کی طرف بھیجا وہ ان کے پاس دلائل لے کر گئے تو ہم نے مجرموں سے انتقام لیا ‘ اور ہم پر پر مومنوں کی مدد کرنا (ہمارے فضل سے) واجب ہے

اس کے بعد فرمایا اور بیشک ہم نے آپ سے پہلے (بھی) رسولوں کو ان کی قوموں کی طرف بھیجا ‘ وہ ان کے پاس دلائل لے کر گئے تو ہم نے مجرموں سے انتقام لیا۔

اس آیت میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی ہے ‘ کیونکہ آپ کو اس پر غم ہوتا تھا کہ آپ کفار مکہ کے سامنے دلائل اور براہین بیان کرتے تھے مگر ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے غم کو زائل کرتے ہوئے فرمایا : یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ہمیشہ سے کفار رسولوں کی تکذیب کرتے چلے آئے ہیں۔

پھر فرمایا تو ہم نے مجرموں سے انتقام لیا اور ہم پر مومنوں کی مدد کرنا (ہمارے فضل سے) واجب ہے ‘ آیت کے اس حصہ میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کے لیے بشارت ہے۔

حضرت ابو الدرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جس شخص نے اپنے مسلمان بھائی کی عزت کی مدافعت کی تو اللہ عزوجل پر یہ حق ہے کہ قیامت کے دن اس سے جہنم کی آگ دور کر دے۔

(مسند احمد ج ٦ ص ٤٤٩‘ طبع قدیم ‘ مسند احمد رقم الحدیث : ٢٧٦٠٤‘ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٣ ھ ‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٩٣١‘ حلیۃ الاولیاء ج ٨ ص ٢٥٨۔ ٢٥٧‘ السنن الکبری للبیہقی ج ٨ ص ١٦٨ )

القرآن – سورۃ نمبر 30 الروم آیت نمبر 47