اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ وَ اِیْتَآئِ ذِی الْقُرْبٰى وَ یَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ وَ الْبَغْیِۚ-یَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ(۹۰)

بےشک اللہ حکم فرماتا ہے انصاف اور نیکی (ف۲۰۴) اور رشتہ داروں کے دینے کا (ف۲۰۵) اور منع فرماتاہے بے حیائی (ف۲۰۶) اور بری بات (ف۲۰۷) اور سرکشی سے (ف۲۰۸) تمہیں نصیحت فرماتا ہے کہ تم دھیان کرو

(ف204)

حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ انصاف تو یہ ہے کہ آدمی لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی گواہی دے اور نیکی اور فرائض کا ادا کرنا اور آپ ہی سے ایک اور روایت ہے کہ انصاف شرک کا ترک کرنا اور نیکی اللہ کی اس طرح عبادت کرنا گویا وہ تمہیں دیکھ رہا ہے اور دوسروں کے لئے وہی پسند کرنا جو اپنے لئے پسند کرتے ہو ، اگر وہ مومن ہو تو اس کے برکاتِ ایمان کی ترقی تمہیں پسند ہو اور اگر کافِر ہو تو تمہیں یہ پسند آئے کہ وہ تمہارا اسلامی بھائی ہو جائے ۔ انہیں سے ایک اور روایت ہے اس میں ہے کہ انصاف توحید ہے اور نیکی اخلاص اور ان تمام روایتوں کا طرزِ بیان اگرچہ جُداجُدا ہے لیکن مآل و مدعا ایک ہی ہے ۔

(ف205)

اور ان کے ساتھ صلہ رحمی اور نیک سلوک کرنے کا ۔

(ف206)

یعنی ہر شرمناک مذموم قول و فعل ۔

(ف207)

یعنی شرک و کُفر و معاصی تمام ممنوعاتِ شرعیہ ۔

(ف208)

یعنی ظلم و تکبر سے ۔ ابنِ عینیہ نے اس آیت کی تفسیر میں کہا کہ عدل ظاہر و باطن دونوں میں برابر حق و طاعت بجا لانے کو کہتے ہیں اور احسان یہ ہے کہ باطن کا حال ظاہر سے بہتر ہو اور فَحشاء و منکَر و بغی یہ ہے کہ ظاہر اچھا ہو اور باطن ایسا نہ ہو ۔ بعض مفسِّرین نے فرمایا اس آیت میں اللہ تعالٰی نے تین چیزوں کا حکم دیا اور تین سے منع فرمایا عدل کا حکم دیا اور وہ انصاف و مساوات ہے ، اقوال و افعال میں اس کے مقابل فَحشا یعنی بے حیائی ہے ، وہ قبیح اقوال و افعال ہیں اور احسان کا حکم فرمایا وہ یہ ہے کہ جس نے ظلم کیا اس کو معاف کرو اور جس نے برائی کی اس کے ساتھ بھلائی کرو ، اس کے مقابل منکَر ہے یعنی محسن کے احسان کا انکار کرنا اور تیسرا حکم اس آیت میں رشتہ داروں کو دینے اور ان کے ساتھ صلہ رحمی اور شفقت و مَحبت کا فرمایا ، اس کے مقابل بغی ہے اور وہ اپنے آپ کو اونچا کھینچنا اور اپنے علاقہ داروں کے حقوق تلف کرنا ہے ۔ ابنِ مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ یہ آیت تمام خیر و شر کے بیان کو جامع ہے ، یہی آیت حضرت عثمان بن مظعون کے اسلام کا سبب ہوئی جو فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نُزول سے ایمان میرے دل میں جگہ پکڑ گیا ، اس آیت کا اثر اتنا زبردست ہوا کہ ولید بن مغیرہ اور ابو جہل جیسے سخت دل کُفّار کی زبانوں پر بھی اس کی تعریف آ ہی گئی ۔ اس لئے یہ آیت ہر خطبہ کے آخر میں پڑھی جاتی ہے ۔

وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ اِذَا عٰهَدْتُّمْ وَ لَا تَنْقُضُوا الْاَیْمَانَ بَعْدَ تَوْكِیْدِهَا وَ قَدْ جَعَلْتُمُ اللّٰهَ عَلَیْكُمْ كَفِیْلًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ(۹۱)

اور اللہ کا عہد پورا کرو (ف۲۰۹) جب قول باندھو اور قسمیں مضبوط کرکے نہ توڑو اور تم اللہ کو (ف۲۱۰) اپنے اوپر ضامن کرچکے ہو بےشک اللہ تمہارے کام جانتا ہے

(ف209)

یہ آیت ان لوگوں کے حق میں نازِل ہوئی جنہوں نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسلام پر بیعت کی تھی ، انہیں اپنے عہد کے وفا کرنے کا حکم دیا گیا اور یہ حکم انسان کے ہر عہدِ نیک اور وعدہ کو شامل ہے ۔

(ف210)

اس کے نام کی قسم کھا کر ۔

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّتِیْ نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًاؕ-تَتَّخِذُوْنَ اَیْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَیْنَكُمْ اَنْ تَكُوْنَ اُمَّةٌ هِیَ اَرْبٰى مِنْ اُمَّةٍؕ-اِنَّمَا یَبْلُوْكُمُ اللّٰهُ بِهٖؕ-وَ لَیُبَیِّنَنَّ لَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ(۹۲)

اور (ف۲۱۱) اس عورت کی طرح نہ ہو جس نے اپنا سُوت مضبوطی کے بعد ریزہ ریزہ کرکے توڑ دیا (ف۲۱۲) اپنی قسمیں آپس میں ایک بے اصل بہانہ بناتے ہو کہ کہیں ایک گروہ دوسرے گروہ سے زیادہ نہ ہو (ف۲۱۳) اللہ تو اس سے تمہیں آزماتا ہے (ف۲۱۴) اور ضرور تم پر صاف ظاہر کردے گا قیامت کے دن (ف۲۱۵) جس بات میں جھگڑتے تھے (ف۲۱۶)

(ف211)

تم عہد اور قسمیں توڑ کر ۔

(ف212)

مکّۂ مکرّمہ میں ریطہ بنت عمرو ایک عورت تھی جس کی طبیعت میں بہت وہم تھا اور عقل میں فتور ، وہ دوپہر تک محنت کر کے سُوت کاتا کرتی اور اپنی باندیوں سے بھی کتواتی اور دوپہر کے وقت اس کاتے ہوئے کو توڑ کر ریزہ ریزہ کر ڈالتی اور باندیوں سے بھی توڑواتی ، یہی اس کا معمول تھا ۔ معنی یہ ہیں کہ اپنے عہد کو توڑ کر اس عورت کی طرح بے وقوف نہ بنو ۔

(ف213)

مجاہد کا قول ہے کہ لوگوں کا طریقہ یہ تھا کہ ایک قوم سے حلف کرتے اور جب دوسری قوم اس سے زیادہ تعداد یا مال یا قوت میں پاتے تو پہلوں سے جو حلف کئے تھے توڑ دیتے اور اب دوسرے سے حلف کرتے ۔ اللہ تعالٰی نے اس کو منع فرمایا اور عہد کے وفا کرنے کا حکم دیا ۔

(ف214)

کہ مطیع اور عاصی ظاہر ہو جائے ۔

(ف215)

اعمال کی جزا دے کر ۔

(ف216)

دنیا کے اندر ۔

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُؕ-وَ لَتُسْــٴَـلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(۹۳)

اور اللہ چاہتا تو تم کو ایک ہی امت کرتا (ف۲۱۷) لیکن اللہ گمراہ کرتا ہے (ف۲۱۸) جسے چاہے اور راہ دیتا ہے(ف۲۱۹) جسے چاہے اور ضرور تم سے (ف۲۲۰) تمہارے کام پوچھے جائیں گے (ف۲۲۱)

(ف217)

کہ تم سب ایک دین پر ہوتے ۔

(ف218)

اپنے عدل سے ۔

(ف219)

اپنے فضل سے ۔

(ف220)

روزِ قیامت ۔

(ف221)

جو تم نے دنیا میں کئے ۔

وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اَیْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَیْنَكُمْ فَتَزِلَّ قَدَمٌۢ بَعْدَ ثُبُوْتِهَا وَ تَذُوْقُوا السُّوْٓءَ بِمَا صَدَدْتُّمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِۚ-وَ لَكُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ(۹۴)

اور اپنی قسمیں آپس میں بے اصل بہانہ نہ بنالو کہ کہیں کوئی پاؤں(ف۲۲۲)جمنے کے بعد لغزش نہ کرے اور تمہیں برائی چکھنی ہو (ف۲۲۳) بدلہ اس کا کہ اللہ کی راہ سے روکتے تھے اور تمہیں بڑا عذاب ہو (ف۲۲۴)

(ف222)

راہِ حق و طریقۂ اسلام سے ۔

(ف223)

یعنی عذاب ۔

(ف224)

آخرت میں ۔

وَ لَا تَشْتَرُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًاؕ-اِنَّمَا عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۹۵)

اور اللہ کے عہد پر تھوڑے دام مول نہ لو(ف۲۲۵) بےشک وہ(ف۲۲۶) جو اللہ کے پاس ہے تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو

(ف225)

اس طرح کہ دنیائے ناپائیدار کے قلیل نفع پر اس کو توڑ دو ۔

(ف226)

جزاء و ثواب ۔

مَا عِنْدَكُمْ یَنْفَدُ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍؕ-وَ لَنَجْزِیَنَّ الَّذِیْنَ صَبَرُوْۤا اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۹۶)

جو تمہارے پاس ہے (ف۲۲۷) ہوچکے گا اور جو اللہ کے پاس ہے (ف۲۲۸) ہمیشہ رہنے والا ہےاور ضرور ہم صبر کرنے والوں

(ف227)

سامانِ دنیا یہ سب فنا ہو جائے گا اور ختم ۔

(ف228)

اس کا خزانۂ رحمت و ثوابِ آخرت ۔

(ف229)

یعنی ان کی ادنٰی سی ادنٰی نیکی پر بھی وہ اجر و ثواب دیا جائے گا جو وہ اپنی اعلٰی نیکی پر پاتے ۔ (ابوالسعود) کو ان کا وہ صلہ دیں گے جو ان کے سب سے اچھے کام کے قابل ہو (ف۲۲۹)

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّهٗ حَیٰوةً طَیِّبَةًۚ-وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۹۷)

جو اچھا کام کرے مرد ہو یا عورت اور ہو مسلمان (ف۲۳۰) تو ضرور ہم اسے اچھی زندگی جِلائیں گے(ف۲۳۱) اور ضرور انہیں ان کا نیگ(اجر) دیں گے جو ان کے سب سے بہتر کام کے لائق ہو

(ف230)

یہ ضرور شرط ہے کیونکہ کُفّار کے اعمال بیکار ہیں ۔ عملِ صالح کے موجبِ ثواب ہونے کے لئے ایمان شرط ہے ۔

(ف231)

دنیا میں رزقِ حلال اور قناعت عطا فرما کر اور آخرت میں جنّت کی نعمتیں دے کر ۔ بعض عُلَماء نے فرمایا کہ اچھی زندگی سے لذّتِ عبادت مراد ہے ۔

حکمت : مومن اگرچہ فقیر بھی ہو اس کی زندگانی دولتمند کافِر کے عیش سے بہتر اور پاکیزہ ہے کیونکہ مومن جانتا ہے کہ اس کی روزی اللہ کی طرف سے ہے جو اس نے مقدر کیا اس پر راضی ہوتا ہے اور مومن کا دل حرص کی پریشانیوں سے محفوظ اور آرام میں رہتا ہے اور کافِر جو اللہ پر نظر نہیں رکھتا وہ حریص رہتا ہے اور ہمیشہ رنج و تعب اور تحصیلِ مال کی فکر میں پریشان رہتا ہے ۔

فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ(۹۸)

تو جب تم قرآن پڑھو تو اللہ کی پناہ مانگو شیطان مردود سے (ف۲۳۲)

(ف232)

یعنی قرآنِ کریم کی تلاوت شروع کرتے وقت اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ پڑھو یہ مستحب ہے ۔ اعوذ الخ کے مسائل سورۂ فاتحہ کی تفسیرمیں مذکور ہو چکے ۔

اِنَّهٗ لَیْسَ لَهٗ سُلْطٰنٌ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ(۹۹)

بےشک اس کا کوئی قابو ان پر نہیں جو ایمان لائے اور اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں (ف۲۳۳)

(ف233)

وہ شیطانی وسوسے قبول نہیں کرتے ۔

اِنَّمَا سُلْطٰنُهٗ عَلَى الَّذِیْنَ یَتَوَلَّوْنَهٗ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِهٖ مُشْرِكُوْنَ۠(۱۰۰)

اس کا قابو تو انہیں پر ہے جو اس سے دوستی کرتے ہیں اور اسے شریک ٹھہراتے ہیں