أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الَّذِيۡنَ يُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ يُوۡقِنُوۡنَؕ ۞

ترجمہ:

جو لوگ نماز قائم رکھتے ہیں اور زکوۃ ادا کرتے ہیں اور وہی آخرت پر یقین رکھتے ہیں

نماز قائم کرنے کے معانی 

اس کے بعد محسنین اور نیکی کرنے والوں کی صفات ذکر فرمائیں کہ وہ نماز قائم رکھتے ہیں ‘ اور زکوۃ ادا کرتے ہیں ‘ اور وہی آخرت پر یقین رکھتے ہیں ‘ ہرچند کہ محسین کی اور بھی صفات ہیں ‘ لیکن یہ صفات دوسری صفات سے زیادہ اہم اور زیادہ افضل ہیں اس لیے ان کا خصوصیت سے ذکر فرمایا۔ نماز کو قائم کرنے کا معنی یہ ہے کہ نماز کو اس کی تمام شرائط اور اس کے تمام ظاہری اور باطنی آداب کے ساتھ ادا کرنا ‘ اور نماز کی شرائط دو قسم کی ہیں ایک اس کے جواز کی شرائط ہیں یعنی نماز کو اس کے فرائض اور واجبات کے ساتھ اس کے وقت میں ادا کرنا ‘ اور نماز کو اس کی سنن اور آداب کے ساتھ پڑھنا ‘ ان شرائط کے ساتھ نماز پڑھنے سے اس کی فرضیت انسان کے ذمہ سے ساقط ہوجاتی ہے ‘ اور دوسری شرائط ہیں نماز کی مقبولیت کی شرائط یعنی نماز کو اخلاص اور خضوع اور خشوع کے ساتھ پڑھا جائے اور جو نماز اخلاص اور تقویٰ یعنی خوف خدا کے جذبہ سے نہیں پڑھی جائے گی وہ قبول نہیں ہوگی ‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

اللہ صرف متقین (خوف خدا رکھنے والوں) کے عمل کو قبول فرماتا ہے۔ (المائدہ، ٢٧ )

اور اقامت صلوۃ کا دوسرا معنی ہے نماز کو حضور قلب کے ساتھ ہمیشہ پڑھنا۔

اور اقامت صلوۃ کا تیسرا معنی ہے نماز کے اوقات ‘ اس کے ارکان ‘ واجبات سنن اور آداب کی حفاظت کرنا ‘ خلاصہ یہ ہے کہ نماز قائم کرنے کا معنی ہے نماز کو اس کی شرائط کے ساتھ پڑھنا ‘ نماز کو دائماً پڑھنا اور نماز کی حفاظت کرنا۔

ان معانی پر غور کرنے سے اقامت صلوۃ کا ایک اور معنی حاصل ہوتا ہے اور وہ ہے نماز کی ادائیگی کا نظام قائم کرنا ‘ جو شخص کسی گھر کا بڑا اور سرپرست ہو وہ بچوں کو نماز پڑھنے کی تربیت دے اور مار مار کر ان سے نماز پڑھوائے ‘ حدیث میں ہے :

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تمہارے بچوں کی عمر سات سال کی ہوجائے تو انہیں نماز کا حکم دو اور جب ان کی عمر دس سال کی ہوجائے تو ان کو مار مار کر نماز پڑھائو اور ان کے بستر الگ الگ کردو۔(مسند احمد ج ٢ ص ١٨٠ طبع قدیم ‘ سنن بیہقی ج ٣ ص ٨٤‘ حلیۃ الاولیاء ج ٢ ص ١٨٠ تاریخ بغداد ج ٢ ص ٢٧٨)

اور جو افراد اس کے زیر کفالت ہیں ان سے سختی سے نماز پڑھوائے ‘ قرآن مجید میں ہے :

اے ایمان والو ! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو دوزخ کی آگ سے بچائو۔ (التحریم : ٦)

اور ملک کے سربراہ پر لازم ہے کہ وہ دفاتر میں ‘ محکموں میں اور تمام اداروں میں نماز پڑھنے کا نظام قائم کرے اور جو لوگ نماز نہ پڑھیں انہیں قرار واقعی سزا دی جائے ‘ حدیث میں ہے :

حضرت عبداللہ ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اس وقت تک لوگوں سے قتال کرتا رہوں حتی کہ وہ یہ شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے اور (سیدنا) محمد اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں ‘ پس جب وہ ایسا کرلیں گے تو وہ مجھ سے اپنی جانوں اور مالوں کو محفوظ کرلیں گے ‘ ماسوا حق اسلام کے اور ان کا حساب اللہ پر ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٥‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٢‘ مسند احمد رقم الحدیث : ١٣٠٨٧)

حضرت عبد اللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے ہر شخص ماحفظ ہے اور تم میں سے ہر شخص سے اس کی رعیت (ماتحت افراد) کے متعلق سوال کیا جائے گا ‘ امام (سربراہ مملکت) محافظ ہے اور اس سے اس کی رعیت (عوام) کے متعلق سوال کیا جائے گا ‘ ایک شخص اپنے اہل و عیال کا محافظ ہے اور اس سے اس کی رعیت (زیر کفالت افراد) کے متعلق سوال کیا جائے گا ‘ اور عورت اپنے خاوند کے گھر کی محافظہ ہے اور اس سے اس کی رعیت (گھر کی چیزوں) کے متعلق سوال کیا جائے گا ‘ اور خادم اپنے مالک کے مال کا محافظ ہے اور اس سے اس کی رعیت کے متعلق سوال کیا جائے گا ‘ اور ایک شخص اپنے باپ کے مال کا محافظ ہے اور اس سے اس کی رعیت کے متعلق سوال کیا جائے گا ‘ اور تم میں سے ہر شخص محافظ ہے اور اس سے اس کی رعیت کے متعلق سوال کیا جائے گا۔(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٨٩٣‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٧٠٥‘ مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٢٠٦٤٩ )

قاضی ابو الولید محمد بن احمد بن رشد مالکی متوفی ٥٩٥ ھ لکھتے ہیں :

جو شخص نماز کی فرضیت کا انکار نہ کرتا ہو ‘ لیکن نماز کا تارک ہو اور کہنے کے باوجود بھی نماز نہ پڑھتا ہو ‘ اس کے متعلق امام احمد ‘ اسحاق اور ابن المبارک نے یہ کہا ہے کہ وہ کافرہو گیا اور اس کو قتل کرنا واجب ہے ‘ اور امام مالک اور امام شافعی کا مذہب یہ ہے کہ اس شخص کو حداً قتل کردیا جائے اور امام ابوحنیفہ اور اہل ظاہر کا مذہب یہ ہے کہ اس کو قید کیا جائے اور اس پر تعزیز لگائی جائے حتی کہ وہ نماز پڑھنے لگے۔ ( بدلیۃ المجتہد ج ١ ص ٦٥‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت)

علامہ بدر الدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں :

امام ابوحنیفہ اور مزنی نے یہ کہا ہے کہ تارک نماز کو قید میں رکھا جائے گا حتی کہ وہ توبہ کرلے۔(عمدۃ القاری ج ١ ص ٢٩٠‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤٢١ ھ)

اس سے معلوم ہوا کہ نماز قائم کرنے کا معنی یہ ہے کہ نماز کی ادائیگی کا نظام قائم کیا جائے اور ہر حاکم اپنے ماتحت افراد سے نماز پڑھو ائے اور ان پر نظر رکھی جائے ‘ جو نماز نہیں پڑھتے ان کو نماز پڑھنے کا حکم دیا جائے اور اگر وہ پھر بھی نماز نہ پڑھیں تو ان کو قرار واقعی سزادی جائے۔

امام ابوالقاسم عبدالکریم بن ھوازن القشیری النیشاپوری المتوفی ٤٦٥ ھ لکھتے ہیں :

اقامت صلوۃ کا معنی یہ ہے کہ نماز کو اس کی ظاہری شرائط کے موافق ادا کیا جائے ‘ شرم گاہ کو ڈھانپا جائے ‘ پہلے وضوء کیا جائے ‘ قبلہ کی طرف منہ کیا جائے ‘ نماز کو اس کا وقت داخل ہونے کے بعد شروع کیا جائے ‘ پاک جگہ میں نماز پڑھی جائے اور نماز کی باطنی شرائط کے مطابق نماز پڑھی جائے ‘ اپنے دل و دماغ کو دنیاوی افکار اور تعلقات سے خالی کرلیا جائے ‘ اپنے تمام عیوب اور گناہوں سے توبہ کر کے اپنے دل کو پاک اور صاف کرلیا جائے ‘ کیونکہ وہ جہاں بھی ہوگا اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہوگا ‘ پس اگر وہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے عیوب کو نہ دیکھے تو وہ عیوب اور گناہوں کے اقدام سے بازر ہے ‘ یہ باطنی شرم گاہ کا چھپانا ہے اور باطنی جگہ کی پاکیزگی یہ ہے کہ اس کے دل میں کوئی دعویٰ بلاتحقیق نہ ہو ‘ اور باطنی وقت کے دخول کا معنی یہ ہے کہ اس کو علم ہو کہ اس کا دل اس وقت اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں جھکا ہوا ہے اور متذلل اور متواضع ہے اور بڑائی اور تکبر سے خالی ہے ‘ اور اپنے دل کے قبلہ کی طرف متوجہ ہو اور اس کا دل پوری طرح اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو۔(لطائف الاشارات ج ٣ ص ١٦‘ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ١٤٢٠ ھ)

زکوۃ کا لغوی اور اصطلاحی معنی 

نیز فرمایا : اور زکوۃ ادا کرتے ہیں ‘ یعنی زکوۃ کو اس کی شرائط کے مطابق مستحقین کو ادا کرتے ہیں ‘ اور اہل سنت و جماعت کے مستحق افراد کو زکوۃ دیتے ہیں ‘ کیونکہ الاشباہ والنظائر میں لکھا ہوا ہے کہ اہل بدعت اور بدمذہبوں کو دینے سے زکوۃ ادا نہیں ہوتی ‘ زکوۃ کا لغوی معنی ہے پاکیزہ اور صالح ہونا ‘ قرآن مجید میں ہے :

جس نے اپنے نفس کو گناہوں سے پاک کرلیا وہ کامیاب ہوگیا۔ (الاعلیٰ : ١٤)

اور زکوۃ ادا کرنے سے انسان کا مال میل کچیل سے پاک اور صاف ہوجاتا ہے اور انسان خود بھی گناہوں سے پاک ہوجاتا ہے۔

اور زکوۃ کا معنی ہے مال کا بڑھنا اور زیادہ ہونا ‘ قرآن مجید میں ہے :

اور تم اللہ کی خوشنودی اور اس کی رضا کے لیے جو زکوۃ دیتے ہو ‘ سو وہی لوگ اپنے مال کو دگنا کرنے والے اور بڑھانے والے ہیں۔ (الروم : ٣٩)

اور جو لوگ پابندی سے اور اخلاص کے ساتھ زکوۃ ادا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے مال کو زیادہ کردیتا ہے ‘ بڑھا دیتا ہے اور دگنا چوگنا کردیتا ہے۔

اور زکوۃ کا معنیٰ ہے مدح کرنا اور کسی کی تعریف اور ستائش کرنا ‘ قرآن مجید میں ہے :

کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو خود اپنیمدح اور تعریف کرتے ہیں بلکہ اللہ ہی جس کی چاہتا ہے مدح اور تعریف کرتا ہے۔ (النساء : ٤٩ )

اور جو لوگ فقراء اور مساکین کو زکوۃ دیتے ہیں وہ ان کی مدح کرتے ہیں اور دیگر لوگ بھی ان کی تعریف اور تحسین کرتے ہیں کہ یہ سخی لوگ ہیں۔ اور زکوۃ کی اصطلاحی تعریف یہ ہے : جو مال بہ قدر نصاب ہو اس کی حاجات اصلیہ (خوراک ‘ لباس اور رہائش) سے زائد ہو اور اس مال پر ایک سال گزرچکا ہو ‘ اس مال کا چالیسواں حصہ کسی غیرہاشمی سنی مسلمان شخص کو دیا جائے جو خود نصاب کا مالک نہہو یا نصاب کا مالک تو ہو لیکن مقروض ہو یا مسافر ہو یا اللہ کی راہ (مثلاً جہاد یا دین کی طلب) میں ہو ‘ اور نصاب ساڑھے باون تولہ چاندی یا سھڑھے سات تولہ سونا ہے یا ساڑھے باون تولہ چادی کی مالیت پر مشتمل روپیہ یا مال تجارت ہے۔ جو مال زکوۃ میں دیا جائے اس کو اپنی ملکیت سے بالکل منقطع کر لیاجائے ‘ جمہور فقہاء احناف کے نزدیک یہ ضروری ہے کہ جس کو زوۃ دی جائے اس کو اس مال کا مالک بنادیا جائے ‘ اور ائمہ ثلاثہ محققین احناف اور غیر مقلدین کے نزدیک مال زکوۃ کا مالک بنانا شرط نہیں ہے ‘ اگر کسی مقروض کا قرض اتار دیا جائے یا کسی مسجد یا دینی مدرسہ کسی یتیم خانہ یا کسی ہسپتال میں زکوۃ کی رقم لگادی جائے تب بھی زکوۃ ادا ہوجائے گی ‘ اس کی تفصیل ہم التوبہ : ٦٠‘ تبیان القرآن ج ٥ ص ١٨١۔ ١٦٦ میں بیان کرچکے ہیں۔

علامہ محمد بن علی بن محمد الحصکفی الحنفی المتوفی ١٠٨٨ ھ نے لکھا ہے کہ قرآن مجید میں بیاس ٨٢ جگہ زکوۃ کو نماز کے ساتھ متصل بیان فرمایا ہے (صحیح عدد بتیس (٣٢) جگہ ہے) اور زکوۃ ٢ ھ میں رمضان کے روزوں کی فرضیت سے پہلے فرض کی گئی ہے اور اس پر اجماع ہے کہ زکوۃ انبیاء پر فرض نہیں ہے۔ (درمختار روالمحتار ج ٣ ص ١٦٠‘ بیروت ‘ ١٤١٩ ھ)

انبیاء (علیہم السلام) پر زکوۃ کا فرض نہ ہونا 

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ اس کی شرح میں لکھتے ہیں :

انبیاء (علیہم السلام) پر زکوۃ اس لیے فرض نہیں ہے زکوۃ میل کچیل سے پاک کرتی ہے اور انبیاء میل کچیل سے منزہ ہوتے ہیں ‘ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ قرآن مجید میں ‘ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا :

میں جب تک زندہ ہوں اللہ نے مجھے نماز پڑھنے اور زکوۃ ادا کرنے کی وصیت کی ہے۔ (مریم : ٣١)

اس سے مراد نفس کی پاکیزگی ہے یعنی میں اپنے نفس کو ان رذائل سے پاک رکھوں جو انبیاء (علیہم السلام) کے مقام کے نامناسب ہیں ‘ یا مجھے زکوۃ کے احکام کی تبلیغ اور پہنچانے کی وصیت کی ہے ‘ اور اس سے زکوۃ فطر مراد نہیں ہے ‘ کیونکہ زکوۃ کی عدم فرضیت انبیاء (علیہم السلام) کی خصوصیات میں سے ہے اور اس خصوصیت کے اعتبار سے زکوۃ مال اور زکوۃ بدن میں کوئی فرق نہیں ہے۔(ردالمختار ج ٣ ص ١٦٠‘ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٤١٩ ھ)

زکوۃ کی تاکید اور اس کے فضائل کے متعلق احادیث 

حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے دولت مند مسلمانوں پر ان کے اموال میں فقراء کے لیے اتنی مقدار فرض کی ہے جس سے فقراء کی ضرورتیں پوری ہوجائیں اور فقراء اسی وقت بھوک اور لباس کے نہ ہونے کی مشقت میں مبتلا ہوں گے جب دولت مند ان کو ضائع کردیں گے ‘ سنو اللہ تعالیٰ ایسے مال داروں سے سخت حساب لے گا اور ان کو درد ناک عذاب میں مبتلا کرے گا۔(المعجم الکبیر للطبرانی رقم الحدیث : ٤٥٣‘ حافظ الھیشمی نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے ‘ مجمع الزوئد ج ٣ ص ٦٢ )

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ان مالداروں پر افسوس ہے جن کے متعلق قیامت کے دن فقراء یہ کہیں گے : اے ہمارے رب ! تو نے ہمارے جو حقوق ان پر فرض کیے تھے ان مالداروں نے ہمارے ان حقوق پر ظلم کیا ‘ تب اللہ تعالیٰ فرمائے گا : مجھے اپنے عزت و جلال کی قسم ! میں تم کو ضرور جزادوں گا ‘ اور میں ان کو ضرور دور رکھوں گا ‘ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت کی تلاوت کی :

اور وہ لوگ جن کے مالوں میں مقررہ حصہ ہے مانگنے والوں کا اور محروم کا۔ (المعارج : ٢٥۔ ٢٤ )

(المعجم الکبیر للطبرانی رقم الحدیث : ٦٩٣‘ اس حدیث کی سند میں الحارث بن النعمان ضعیف راوی ہے ‘ مجمع الزوائد ج ٣ ص ٦٢ )

علقمہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے تو ان سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارے اسلام کی تکمیل یہ ہے کہ تم اپنے مالوں کی زکوۃ ادا کرو۔(مسند البز اررقم الحدیث : ١٨٧٦‘ المعجم الکبیر للطبرانی ج ١٨ ص ٨‘ اس حدیث کے راوی صحیح اور ثقہ ہیں)

حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں نماز قائم کرنے اور زکوۃ ادا کرنے کا حکم دیا اور فرمایا جس نے زکوۃ ادا نہیں کی اس کی نماز (قبول) نہیں ہے۔(المعجم الکبیر للطبرانی رقم الحدیث : ١٠٠٩٥‘ حافظ الھیشمی نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے ‘ مجمع الزوائد ج ٣ ص ٦٣ )

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا یارسول اللہ ! یہ بتائیے کہ اگر ایک شخص اپنے مال کی زکوۃ ادا کردے تو ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے اپنے مال کی زکوۃ ادا کردی تو اس کا شر دور ہوگیا۔(المعجم الاوسط للبرانیرقم الحدیث : ١٦٠٢)

حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہو اور وہ اپنے مال کی زکوۃ ادا نہ کرے وہ مال قیامت کے دن ایک گنجا سانپ بنادیا جائے گا اس کے پھن پر انگور کے برابر دو عدود ہوں گے اس کو طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا ‘ پھر وہ اس شخص کو اپنے جبڑوں سے پکڑے گا پھر کہ گا میں تیر امال ہوں اور میں تیرا خزانہ ہوں پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی :

جو لوگ اس مال میں بخل کرتے ہیں جو ان کو اللہ نے اپنے فضل سے عطا کیا ہے وہ اس (بخل) کو اپنے لیے اچھا گمان نہ کریں بلکہ وہ ان کے لیے بہت بدتر ہے ‘ جس چیز میں انہوں نے بخل کیا ہے اس کا طوق بنا کر قیامت کے دن ان کے گلے میں ڈال ڈیا جائے گا۔ (آل عمران : ١٨٠)(صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٤٠٣‘ مسند احمد رقم الحدیث : ٨٤٦‘ عالم الکتب) ۔

حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا اللہ کی قسم ! میں اس شخص سے ضرور قتال کروں گا جس نے نماز اور زکوۃ میں فرق کیا کیونکہ زکوۃ مال کا حق ہے اور اللہ کی قسم ! وہ بکری کا بچہ جس کو وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں دیتے تھے اگر وہ اس کو مجھے دینے سے منع کریں تو میں اس کے منع کرنے پر ان سے ضرور قتال کروں گا ‘ حضرت عمر (رض) نے کہا پس اللہ کی قسم یہ وہ چیز ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر (رض) کا سینہ کھول دیا تھا پس میں نے جان لیا کہ یہی حق ہے۔(صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٤٠٠‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٠‘ سنن ابو دائود رقم الحدیث : ١٥٥٦‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٦٠٧‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٣٤٤٣ )

عوام کی زکوۃ یہ ہے کہ جس مال پر بہ قدر نصاب پر ایک سال گزر چکا ہو اور وہ اس کی ضروریات اصلیہ سے زائد ہو اس مال میں سے چالیسواں حصہ ادا کردیا جائے ‘ اور خواص کی زکوۃ یہ ہے کہ اپنے دلوں سے دنیا کی محبت کا زنگ اتارنے کے لیے اور دلوں کو صاف کرنے کے لیے ضرورت سیزائد تمام مال راہ خدا میں دے دیا جائے ‘ اور اخص الخاص کی زکوۃ یہ ہے کہ اپنے معبود کے لیے اپنے مقصود کے حصول کے لیے اپنے وجود کو خرچ کردیا جائے۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور وہی آخرت پر یقین رکھتے ہیں آخرت سے مراد ہے دار آخرت جہاں اعمال کی جزاء دی جائے گا ‘ اس کو آخرت اس لیے کہتے ہیں کہ یہ دنیا سے متاخر ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 31 لقمان آیت نمبر 4