أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الٓمّٓ ۞

ترجمہ:

الف لام میم

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الف لام میم یہ کتاب حکیم کی آیات ہیں (یہ کتاب) نیکی کرنے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے جو لوگ نماز قائم رکھتے ہیں اور زکوۃ ادا کرتے ہیں اور وہی آخرت پر یقین رکھتے ہیں وہی اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر قائم ہیں اور وہی کامیاب ہیں (لقمان : ٥۔ ١)

بسم اللہ کے اسرار 

اس سورت کو باقی سورتوں کی طرح اللہ عزوجل کے نام سے شروع کیا ہے ‘ اللہ کا عمل اور اس کی رحمت ہر چیز کو شامل ہے ‘ وہ رحمن ہے اور اس نے اپنی حکمت کیعموم سے اپنی تمام مخلوق کو نعمتیں عطا فرمائی ہیں ‘ اور وہ رحیم ہے سو اس کے وہ خواص جو دائماً اس کی محبت میں رہتے ہیں ان کے لیے اس نے اپنی جنت کے راستے روشن کردیئے ہیں۔

امام ابو القاسم عبدالکریم بن ھوازن القشیری انیشاپوری المتوفی ٤٦٥ ھ لکھتے ہیں :

بسمہ اللہ ایک ایسا کلمہ ہے کہ جو شخص بھی اس کو سنتا ہے وہ یہ اقرار کرتا ہے کہ اس نے ایسا کوئی کلمہ نہیں سنا ‘ وہ اس کے سوا کوئی اور کلمہ نہیں سننا چاہتا اور جو شخص اس کو سن لیتا ہے اس کا دل خوش ہوجاتا ہے اور اس کی کلفت دور ہوجاتی ہے ‘ دنیا میں اس کی نعمت اور عقبیٰ میں اس کا حصہ مکمل ہوجاتا ہے ‘ اللہ کا نام سن کر پھر کسی اور چیز کی طرف اس کی رغبت نہیں رہتی خواہ وہ چیز کتنی ہی عظیم الشان ہو ‘ اس کے دل میں صرف اس نام والے مالک و مولیٰ سے ملاقات اور اس کے دیدار کی تمنا رہ جاتی ہے اور اس کے علاوہ اور کوئی تمنا اور کوئی خواہش نہیں ہوتی۔ (الطائف الاشارات ج ٣ ص ١٦‘ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤٢٠ ھ)

امام قشیری نے بسم اللہ میں لفظ اللہ سے محبت اور اس کے سماع کی لذت کا ذکر کیا ہے یہ اولیاء کا ملین اور عارفین کا حصہ ہے ‘ ہم ایسے غافل اور ناقص لوگ تو پورا قرآن کریم پڑھ لیتے ہیں اور ہم پر کوئی کیفیت مرتب ہوتی ہے نہ دل میں کوئی سچی امنگ بیدار ہوتی ہے۔

الف لام میم کے اسرار 

بعض علماء نے کہا کہ الف ‘ لام ‘ میم کے تین حرفوں سے اس جملہ کی طرف اشارہ ہے : میں اللہ ہوں ‘ تمام صفات کمال کے ساتھ متصف ہوں ‘ گناہوں کو بخشنا اور اجرو ثواب عطا فرمانا میرا ہی کام ہے ‘ الف سے انا کی طرف اشارہ ہے جس کا معنی ہے میں اور لام سے اللہ کی طرف اشارہ ہے اور میم سے منی کی طرف اشارہ ہے ‘ اور بعض عارفین نے کہا الف سے عارفین کی الفت کی طرف اشارہ ہے اور لام سے اس لطف و کرم کی طرف اشارہ ہے جو وہ محسنین پر فرماتا ہے اور میم سے اس کے مجد (بزرگی) اور ثناء کی طرف اشارہ ہے ‘ اس نے اپنی نعمتوں کی وجہ سے دوستوں کے دنوں سے انکا کو اٹھا لیا اور اپنی عطا کے لطف کے سبب سے اپنے اصفیاء کے دلوں میں اپنی محبت کو ثابت کردیا اور اپنی بزرگی کی وجہ سے وہ تمام مخلوق سے مستغنی ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 31 لقمان آیت نمبر 1