أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنۡ رَّبِّهِمۡ‌ وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ۞

ترجمہ:

وہی اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر قائم ہیں اور وہی کامیاب ہیں

آخرت پر یقین اور ہدایت پر قائم رہے کا معنی 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا :اور وہی آخرت پر یقین رکھتے ہیںوہی اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر قائم ہیں اور وہی کامیاب ہیں 

آخرت سے مراد ہے دار آخرت جہاں اعمال کی جزاء دی جائے گا ‘ اس کو آخرت اس لیے کہتے ہیں کہ یہ دنیا سے متاخر ہے۔ اور فرمایا وہی یقین رکھتے ہیں ‘ یعنی مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے میں اور حساب و کتاب میں کوئی شک نہیں رکھتے ‘ اہل اللہ کے نزدیک دنیا حجابات جسمانیہ ظلمانیہ کا نام ہے اور آذخرت حجابات روحانیہ نورانیہ کا نام ہے اور سالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ جسمانی حجاب اتارے اور روحانی حجاب کی طرف متوجہ ہو پھر ان حجابات کو بھی اتارے اور حقیقت کا مشاہدہ کرے۔

ارو فرمایا وہی اپنے رب کی طرف سے ہدایت نہ دے۔ اس آیت میں معتزلہ کا رد ہے جو کہتے ہیں کہ انسان ازخود ہدایت حاصل کرتا ہے ‘ علماء کہتے ہیں کہ ہدایت یافتہ ہونے کی چار علامتیں ہیں ‘ جب اس سے کوئی گناہ ہوجائے تو وہ اس پر نادم ہو اور توبہ کرے ‘ جب اس پر کوئی دنیاوی مصیبت آئے تو وہ صبر کرے اور کہ انا اللہ وانا الیہ راجعون ‘ اور جب اس کو کوئی نعمت ملے تو وہ اللہ تعالیٰ کی حمد کرے اور اس کا شکر ادا کرے اور جب وہ کسی کو کوئی چیز عطاکرے تو اس پر احسان نہ جتائے ‘ اور جب کسی انسان کو اپنے کسی برے کام پر افسوس ہو اور نیک کام کرنے کی خوشی ہو تو یہ اس کے ایمان پر قائم رہنے کی علامت ہے۔

مفلحین کا معنی 

ان ہدایت یافتہ لوگوں کے متعلق فرمایا یہ مفلحون ہیں ‘ مفلح اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنے ہر مطلوب کے حصول میں کامیاب ہو اور اس کو ہور درد اور تکلیف دہ چیز سے نجات حاصل ہو اور یہ اس کا مقام ہے جو عقائد صحیحہ کا حامل ہو ‘ اعمال صالحہ سے دائماً متصف ہو اور اعمال سیئہ (برے اعمال) سے دائماً مجتنب ہو ‘ کامیابی اور مطلوب کے حصول کی دو قسمیں ہیں ‘ دنیاوی کامیابی اور اخروی کامیابی ‘ دنیاوی کامیابی کا حصول ان چیزوں پر موقوف ہے جن سے انسان کی زندگی آسانی اور سہولت کے ساتھ اور عیش اور آرام کے ساتھ گزر جائے ‘ اور اخروی کامیابی میں چار چیزیں ہیں بقا ہو اور فنا نہ ہو ‘ عزت ہو اور ذلت نہ وہ ‘ غنا ہو اور فقر نہ ہو ‘ علم ہو اور جہل نہ ہو ‘ بعض روایات میں ہے کہ مومن ‘ قلت ‘ یا علت (بیماری) یا ذلت سے خالی نہیں ہوتا۔ (کشف الحفاء رقم الحدیث : ٢٦٨٠)

نیز نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے :

المھم ان العیش عیش الاخرۃ : 

اے اللہ ! خوشگوار زندگی تو صرف آخرت کی زندگی ہے۔(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٨٣٤‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٨٠٥‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٨٥٧‘ مسند احمد ج ٣ ص ١١٨)

یعنی مومن جب تک دنیا میں رہے گا تو وہ مصائب و آلام ‘ خوادث روزگار اور تکلیفوں اور بیماریوں کا سامنا کرتا رہے گا ‘ نیز قرآن مجید میں ہے :

اور تم میں سے بعض کو ارذل عمر (سخت بڑھاپے) کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے تاکہ اس کو کسی چیز کے علم کے بعد اس کا بالکل علم نہ رہے۔ (الحج : ٥)

یعنی جب انسان بہت بوڑھا ہوجاتا ہے تو اس کا مزاج اور اس کا دماغ بچوں کی طرح ہوجاتا ہے اس کا حافظہ ختم ہوجاتا ہے اور جس طرح وہ اپنے بچپن میں مسائل سے ناواقف اور نابلد تھا اسی طرح بڑھاپے میں ناواقف ہوجاتا ہے لیکن یہ عام دنیا دار لوگوں کے بڑھاپے کی کیفیت ہے لیکن خواص مومنین ‘ علماء کرام اور اولیاء عظام کا حال اس طرح نہیں ہوتا ‘ ان کو جو عقائد صحیحہ اور احکام شرعیہ کا علم ہوتا ہے وہ دنیا میں ‘ برزخ میں اور آخرت میں قائم رہتا ہے اور یہی لوگ مفلحین ہیں پس صاحب عقل پر لازم ہے کہ وہ اہل فلاح کی جماعت میں داخل ہونے کی کوشش کرے ‘ اور یہ اس وقت ہوگا جبوہ تزکیہ نفس کرے گا اور اپنے دل کو گناہوں کے زنگ اور برے کاموں کے میل کچیل سے پاک اور صاف کرے گا تاکہ و مقربین کے مقام کی طرف ترقی کرے اور آخرت میں جنات الفردوس کو حاصل کے ‘ اور ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہم کو مفلحین اور ابرار کے ساتھ لاحق کردے۔ (آمین)

القرآن – سورۃ نمبر 31 لقمان آیت نمبر 5