حدیث نمبر 572

روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ کیا اور آپ کے ساتھ فتح مکہ میں حاضرہوا تو آپ نے مکہ معظمہ میں اٹھارہ شب قیام کیا دو رکعتیں ہی پڑھتے رہے فرمادیتے تھے اے شہر والو تم چار پڑھ لو ہم مسافر ہیں ۱؎(ابوداؤد)

شرح

۱؎ اس کی شرح پہلےگزر چکی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھارہ روز کی مستقل نیت نہ کی تھی جیساکہ غازی جہاد میں مذبذب رہتے ہیں کہ کب لوٹیں،ایسے ہی آپ بھی تذبذب میں رہے۔خیال رہے کہ یہاں اٹھارہ دن کا ذکر ہے اور حدیث ابن عباس میں جو ابھی گزر گئی انیس۱۹ دن کا ذکر تھا،یعنی رات اٹھارہ اور دن انیس تھے یا وہاں غزوہ طائف وغیرہ کا ذکر ہے۔بہرحال حدیث میں تعارض نہیں۔اس حدیث سےمعلوم ہوا کہ مسافر امام کو چاہیئے بعد نماز اپنے مسافر ہونے کا اعلان کردے تاکہ مقیم مقتدی اپنی رکعتیں پوری کرلیں۔