حدیث نمبر 573

روایت ہےحضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں ظہر دو رکعت پڑھیں اور اس کے بعد دو رکعتیں اور ایک روایت میں ہے کہ فرمایا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضر و سفر میں نماز پڑھی آپ کے ساتھ حضر میں ظہر چار رکعتیں پڑھیں اور اس کے بعد دو رکعتیں پڑھیں اور آپ کے ساتھ سفر میں ظہر دو رکعتیں پڑھیں اور اس کے بعد دو رکعتیں ۱؎ اور عصر دو رکعتیں پڑھیں اورپھر اس کے بعد کچھ نہ پڑھا اور مغرب حضر و سفر میں برابر تین رکعتیں ہی پڑھیں نہ حضر میں کم کیں اور نہ سفر میں یہ دن کے وتر ہیں اور اس کے بعد دو رکعتیں ۲؎(ترمذی)

شرح

۱؎ اس سے صاف معلوم ہوا کہ سفرمیں صرف فرض میں قصر ہوگا سنتوں میں نہ قصر ہے نہ ان کے منافی۔یہ حدیث گزشتہ حدیث ابن عمر کی شرح ہے جس میں فرمایا گیا تھا کہ حضرت ابن عمر سفر میں نماز نفل پڑھنے والوں پر ناراض ہوئے۔

۲؎ یعنی مغرب کے فرض دن کے وتر ہیں،ان میں قصرنہیں کہ قصر چار رکعت میں ہوتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ رات کے وتربھی تین ہیں۔