حدیث نمبر 574

روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک میں تھے جب کوچ سے پہلےسورج ڈھل جاتا تو ظہر اورعصر جمع کرلیتے ۱؎ اور اگر سورج ڈھلنے سے پہلےکوچ کردیتے تو ظہر پیچھے کرتے حتی کہ عصر کے لیے اترتے۲؎ یونہی مغرب میں جب کوچ سے پہلے سورج چھپ جاتا تو مغرب اورعشاء جمع کرلیتے اور اگر سورج چھپنے سے پہلے کوچ کرتے تو مغرب میں دیر لگاتے حتی کہ عشاء کے لیئے اترتے پھر ان دونوں کو جمع فرمالیتے۳؎(ابوداؤد،ترمذی)

شرح

۱؎ اس طرح کہ عصر کے وقت میں پڑھ لیتے،اس کا نام جمع تقدیم ہے یعنی نماز اپنے وقت سے پہلے ادا کرلینا۔

۲؎ اور ظہرعصر کے وقت پڑھتے اس کا نام جمع تاخیر ہے یعنی نماز کا وقت کے بعد پڑھنا۔

۳؎ یہاں جمع حقیقی ہی مراد ہے جمع صوری کا اس میں احتمال نہیں۔یہ حدیث امام شافعی کی انتہائی دلیل ہے کہ سفر میں جمع تقدیم بھی جائز ہے اور جمع تاخیر بھی۔اس کے متعلق چند طرح گفتگو ہے:اولًا یہ کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔ابوداؤد نے فرمایا کہ جمع تقدیم کے بارے میں کوئی حدیث صحیح نہ ملی۔(میرک ازمرقاۃ)دوسرے یہ کہ مسلم،بخاری میں حضرت ابن مسعود کی روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوکبھی غیر وقت میں نماز پڑھتے نہ دیکھاحالانکہ آپ غزوہ تبوک میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور آپ کے ساتھ باجماعت نمازیں اس موقعہ پر ادا کرتے رہے،چونکہ حضرت ابن مسعود معاذ ابن جبل سے زیادہ فقیہ بھی ہیں اور زیادہ حافظ بھی اس لیئے ان کی حدیث کو زیادہ ترجیح ہوگی۔تیسرے یہ کہ یہ حدیث آیت قرآنی جو ہم پیش کرچکے اور ان متواتر احادیث کے خلاف ہے جن میں نماز کے اوقات کا ذکر ہے لہذا یہ حدیث ہرگز قابل عمل نہیں۔خیال رہے کہ عرفہ اور مزدلفہ میں نمازیں اپنے وقت سے نہ ہٹیں بلکہ وقت اپنی حدود سے ہٹ گئے اس طرح کہ عرفہ میں وقت عصر ظہر میں آگیا نہ کہ نماز عصر وقت ظہر میں اور مزدلفہ میں وقت مغرب عشاء میں پہنچ گیا نہ کہ مغرب وقت عشاء میں حتی کہ اگر کوئی حاجی اس دن مغرب عشاء کے وقت سے پہلے پڑھ لے تو ہوگی ہی نہیں،نیز وہ احادیث متواتر المعنی ہیں۔یہ فرق خیال میں رہے بہت باریک ہے۔