أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

هُدًى وَّرَحۡمَةً لِّلۡمُحۡسِنِيۡنَۙ ۞

ترجمہ:

(یہ کتاب) نیکی کرنے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے

قرآن مجید کا ہدایت اور رحمت ہونا اور محسنین کا معنی 

اور فرمایا : یہ کتاب نیکی کرنے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے ‘ اس کو ہدایت اس لیے فرمایا کہ اس کتاب میں نیکی اور پاکیزگی کے ساتھ زندگی گزارنے کے لیے ہدایت ہے ‘ یا زندگی کے ہر شعبہ کو صحیح اور صالح طریقہ سے گزارنے کی ہدایت ہے یا زندگی کے ہر باب میں عبادت کے طریقہ کی ہدایت ہے یا اس کتاب میں ایک فرد ‘ ایک خاندان اور ایک ملک کو فساد اور بگاڑ سے دور رکھنے اور صلاح اور فلاح سے مزین کرنے کی ہدایت ہے ‘ اور لوگوں کے عقائد اور اعمال کی صحت اور ثواب اور آخرت میں عذاب سے بچنے اور ثاب کے حاصل کرنے کی ہدایت ہے اور یہ عبادت کرنے والوں کے لیے ہدایت ہے اور عارفین کے لیے دلیل اور حجت ہے۔

یہ کتاب حق اور صدق کی طرف ہدایت دیتی ہے اور جو اس کی تصدیق کرے او اس پر عمل کرے اس کے لیے رحمت ہے ‘ اس آیت میں فرمایا ہے یہ کتاب محسنین کے لیے رحمت ہے ‘ محسنین سے مراد ہے نیک عمل کرنے والے ‘ اور قرآن اور حدیث ہیں محسنین کا اطلاق صرف نیک عمل کرنے والے مومنین پر کیا جاتا ہے ‘ ہرچند کہ یہ کتاب تمام انسانوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے لیکن اس آیت میں محسنین کی تخصیص اس لیے کی گئی ہے کہ اس کتاب کی ہدایت اور رحمت سے صرف محسنین ہی فائدہ اٹھاتے ہیں۔

محسن اس شخص کو کہتے ہیں جو قرآن مجید کی رسی پکڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوجائے یہی وجہ ہے کہ جب حضرت جبریل نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا کہ احسان کیا چیز ہے تو آپ نے فرمایا تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو (صحیح بخاری رقم الحدیث : ٥٠‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٨)

سو جو شخص اس صفت کے ساتھ متصف ہوگا وہ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہے گا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کے جمال کا مشاہدہ کرے گا ‘ اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہے گا وہ اللہ تعالیٰ کی رسی کو پکڑے گا اور اللہ کی رسی کو پکڑنے کا معنی یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر توکل اور اس پر اعتماد کرے اس کے کلام کو برحق مانے اور اس کے احکام پر عمل کرے ورنہ اللہ تعالیٰ سمت اور جہت سے پاک ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 31 لقمان آیت نمبر 3