وضو کے مسائل}

مسئلہ : جن اعضا ء کا وضو میں دھونا فرض ہے ان اعضاء پر کوئی ایسی چیز لگ جائے کہ جس کے نیچے پانی نہ بہے گا س کا چُھڑانا بہت ضروری ہے مثلاً گھر میں مچھلی آئی مچھلی کی کھال کے جو گول سے دائرے ہیں وہ اگر ہاتھوں پر چمٹ جائیں تو اس کے نیچے حصّے پر پانی نہیں بہتا اس سے ملتی جُلتی کئی چیزیں ہیں جو اگر جسم کے اعضاء وضو پر چمٹ جائیں تووہاں پانی نہیں پہنچتا لہٰذا اُن چیزوں کا چھڑانا فرض ہے جب تک وہاں پانی نہ بہے گا اس وقت تک وضو نہ ہوگا۔

مسئلہ : ہمارے گھروں میں خواتین کے اندر یہ بیماری پھیل چکی ہے جِسے نیل پالش کہتے ہیں نیل پالش اگر ناخن پر لگائی جائے تو اس کی ایک تہہ ناخنوں پر جم جاتی ہے لہٰذا اگر یہ تہہ جم گئی تو اس کے نیچے پانی نہ بہے گا تووضو نہیں ہوگا اگر غُسل فرض تھا توغُسل بھی نہیں ہوگا اوراگر وضو اور غُسل نہ ہوا تو پھر ہماری نمازوں کا کیا بنے گا؟ اگر ایسی حالت میں انتقال ہوگیا تواللہ تعالیٰ کے دربار میں ناپاک پہنچے گی اس سے بڑھ کر کیا بدنصیبی ہوسکتی ہے۔

مسئلہ : ناخن پالش اورمہندی میں فرق ہے ناخن پالش کی تہہ جم جاتی ہے لیکن مہندی لگانے کے بعد اگر دھولیا جائے تو وہ اپنارنگ چھوڑ کر چلی جاتی ہے تہہ نہیں جمتی لہٰذا وضو بھی ہوجائے گا اورغُسل بھی ہوجائے گا۔

مسئلہ : عورت آٹا گوند ھ رہی تھی اگر کچھ آٹا ان کے ناخنوں پر لگ جائے تویہ معاف ہے وضو ہوجائے گا۔

مسئلہ :سیمنٹ یا گارے کاکام کرنے والے افراد اچھی طرح ہاتھ اور پاؤں دھولیں لیکن پھربھی کچھ گارا وغیرہ ہاتھ یاپاؤں پر لگ جائے تویہ معاف ہے ۔

مسئلہ : کبھی کبھی ناخن بڑھ جاتے ہیں ناخن بڑھنے میں ناخن کے درمیان میںمیل وغیرہ جم جائے تو سیاہی چمکتی ہے تواس کو بھی فقہاء نے معاف رکھاہے۔

مسئلہ : جب چہرہ دھویاجائے تو عموماً قدرتی طور پر آنکھیں بند کرنے کے بعد جتنا مقام کُھلا رہ جاتاہے اس پر پانی بہانا ضروری ہے آنکھ کے اندر پانی بہانا ضروری نہیں بلکہ پلکوں کا بھیگنا اورگیلا ہونا ضروری ہے ۔

مسئلہ : عورتیں ناک میں نتھ استعمال کرتی ہیں اگر اس کا سوراخ بند ہوگیا ہوتویہ معاف ہے لیکن اگر ناک میںنتھ ہے تواسے بھی ہِلایا جائے اورکوشش کی جائے کہ اس کے سوراخ میںبھی پانی پہنچ جائے یہ بھی ضروری ہے ۔

مسئلہ : بہت سے لوگ ٹوپی پہنے ہوتے ہیں کپڑے کی ٹوپی کے اُوپر ہی مسح کرلیتے ہیں یہ مسح نہیں ہوگا چونکہ مسح نہیں ہوگا