أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِ اٰيٰتُنَا وَلّٰى مُسۡتَكۡبِرًا كَاَنۡ لَّمۡ يَسۡمَعۡهَا كَاَنَّ فِىۡۤ اُذُنَيۡهِ وَقۡرًا‌ۚ فَبَشِّرۡهُ بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ۞

ترجمہ:

اور جب اس شخص پر ہماری آیات تلاوت کی جاتی ہیں ‘ وہ تکبر کرتا ہوا پیٹھ پھیر لیتا ہے گویا کہ اس نے سنا ہی نہیں جیسے اس کے دونوں کانوں میں ڈاٹ لگی ہوئی ہے ‘ سو آپ اس کو درد ناک عذاب کی خوشخبری دے دیجئے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب اس شخص پر ہماری آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو وہ تکبر کرتا ہوا پیٹھ پھیر لیتا ہے گویا کہ اس نے سنا ہی نہیں۔ جیسے اس کے دونوں کا نوں میں ڈاٹ لگی ہوئی ہے سو آپ اس کو دردناک عذاب کی خوش خبری دے دیجئے (لقمان : ٧)

کفار کی سزا کے ذکر اور مومنوں کی جزا کے ذکر کا تقابل 

اس سے پہلی دو آیتوں میں سے اللہ تعالیٰ کافر معاند کے حال کا بیان فرمایا تھا کہ جب اس پر ہماری آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو وہ تکبر کرتا ہوا پیٹھ موڑ لیتا ہے ‘ اور ان دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کا حال بیان فرمایا ہے کہ جب ان پر اللہ تعالیٰ کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو وہ ان کا استقبال کرتے ہیں اور ان کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ‘ کفار ان آیتوں سے پیٹھ موڑ لیٹے ہیں اور تکبر کرتے ہیں اس کے مقابلہ میں مومنین ان آیتوں کو قبول کرتے ہیں اور ان پر عمل کرتے ہیں ‘ جو شخص ان آیات کو سن کر قبول کرے اور ان پر عمل کرے تو اس کا درجہ اس شخص سے زائد ہوگا جو ان آیتوں کو قبول تو کرے لیکن ان کے تقاضوں پر عمل نہ کرے۔

پھر اللہ تعالیٰ نے کافروں کے عذاب کا ذکر کیا تو واحد کا صیغہ ذکر فرمایا کہ اس کو درد ناک عذاب کی بشارت دے دیجئے اور مومنین کے ثواب کا ذکر کیا تو جمع کے صیغہ کے ساتھ کیا کہ ان ہی کے لیے نعمت والی جنتیں ہیں ‘ اور عذاب کے ساتھ صراحۃً دوام اور خلود کا ذکر نہیں فرمایا اور مومنوں کے ثواب میں دوام اور خلود کا ذکر فرمایا : کہ ان میں وہ ہمیشہ رہنے والے ہیں ‘ پھر اس کی مزیدتاکید فرمائی کہ یہ اللہ کا برحق وعدہ ہے۔ کافروں کے عذاب کے ساتھ بشارت کا ذکر فرمایا اور بشارت اس چیز کی دی جاتی ہے جو بہت عظیم ہو ‘ یعنی کافروں کو بہت عظیم عذاب دیا جائے گا ‘ اور مومنوں کے اجر وثواب میں نعمت والی جنتوں کا ذکر فرمایا اور اس کے ساتھ بشارت کا ذکر نہیں فرمایا ‘ یعنی ہرچند کہ جنت بھی بہت بڑا اجر وثواب ہے لیکن بشارت اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت اور رضا کی دی ہے فرمایا :

یبشر ھم ربہم برحمۃ منہ و رضوان و جنت لھم فیھا نعیم مقیم (التوبہ : ٢١) ان کا رب ان کو اپنی رحمت اور اپنی رضا کی بشارت دیتا ہے اور ان جنتوں کی جن میں ان کے لیے دائمی نعمت ہے۔

اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کاراضی ہوناہی سب سے بڑی نعمت ہے۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف جنت کے ساتھ بھی بشارت کا ذکر فرمایا ہے :

وابشرو بالجنۃ التی کنتم توعدون (حم السجدۃ : ٣٠) اور اس جنت کی بشارت قبول کرو جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔

اس کا جواب یہ ہے کہ اس کے بعد کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی مہمانی کا ذکر ہے اور بشارت کا تعلق اس مہمانی کے ساتھ ہے ‘ وہ آیتیں یہ ہیں :

نحن اولیؤ کم فی الحیوۃ الدنیا و فی الاخرۃ ج ولکم فیھا ما تشتھی انفسکم ولکم فیھا ما تدعون نزلامن غفوررحیم (حمٓ السجدۃ : ٣٢۔ ٣١) تمہاری دنیا کی زندگی میں بھی ہم تمہارے کار ساز تھے اور آخرت میں بھی رہیں گے ‘ جنت میں تمہارے لیے ہر وہ چیز ہے جس کو تمہارا دل چاہے گا اور جس کو تم طلب کرو گے یہ غفوررحیم کی طرف سے تمہاری مہمانی ہے۔ (حمٓ السجدۃ : ٣٢۔ ٣١) (تفسیر کبیر ج ٩ ص ١١٦‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 31 لقمان آیت نمبر 7