وَ اِذَا بَدَّلْنَاۤ اٰیَةً مَّكَانَ اٰیَةٍۙ-وَّ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یُنَزِّلُ قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُفْتَرٍؕ-بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ(۱۰۱)

اور جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت بدلیں (ف۲۳۴) اور اللہ خوب جانتا ہے جو اتارتا ہے (ف۲۳۵) کافر کہیں تم تو دل سے بنا لاتے ہو (ف۲۳۶) بلکہ ان میں اکثر کو علم نہیں (ف۲۳۷)

(ف234)

اور اپنی حکمت سے ایک حکم کو منسوخ کر کے دوسرا حکم دیں ۔

شانِ نُزول : مشرکینِ مکّہ اپنی جہالت سے نسخ پر اعتراض کرتے تھے اور اس کی حکمتوں سے نا واقف ہونے کے باعث اس کو تمسخُر بناتے تھے اور کہتے تھے کہ محمّد (مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک روز ایک حکم دیتے ہیں دوسرے روز اور دوسرا ہی حکم دیتے ہیں ، وہ اپنے دل سے باتیں بناتے ہیں ، اس پر یہ آیت نازِل ہوئی ۔

(ف235)

کہ اس میں کیا حکمت اور اس کے بندوں کے لئے اس میں کیا مصلحت ہے ۔

(ف236)

اللہ تعالٰی نے اس پر کُفّار کی تجہیل فرمائی اور ارشاد کیا ۔

(ف237)

اور وہ نسخ و تبدیل کی حکمت و فوائد سے خبردار نہیں اور یہ بھی نہیں جانتے کہ قرآنِ کریم کی طرف افتراء کی نسبت ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ جس کلام کے مثل بنانا قدرتِ بشری سے باہر ہے وہ کسی انسان کا بنایا ہوا کیسے ہو سکتا ہے لہذا سیدِعالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خِطاب ہوا ۔

قُلْ نَزَّلَهٗ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ لِیُثَبِّتَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ(۱۰۲)

تم فرماؤ اسے پاکیزگی کی روح (ف۲۳۸) نے اتارا تمہارے رب کی طرف سے ٹھیک ٹھیک کہ اس سے ایمان والوں کو ثابت قدم کرے اور ہدایت اور بشارت مسلمانوں کو

(ف238)

یعنی حضرت جبریل علیہ السلام ۔

وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا یُعَلِّمُهٗ بَشَرٌؕ-لِسَانُ الَّذِیْ یُلْحِدُوْنَ اِلَیْهِ اَعْجَمِیٌّ وَّ هٰذَا لِسَانٌ عَرَبِیٌّ مُّبِیْنٌ(۱۰۳)

اور بےشک ہم جانتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں یہ تو کوئی آدمی سکھاتا ہے جس کی طرف ڈھالتے (اشارہ کرتے)ہیں اس کی زبان عجمی ہے اور یہ روشن عربی زبان (ف۲۳۹)

(ف239)

قرآنِ کریم کی حلاوت اور اس کے علوم کی نورانیت جب قلوب کی تسخیرکرنے لگی اور کُفّار نے دیکھا کہ دنیا اس کی گرویدہ ہوتی چلی جاتی ہے اور کوئی تدبیر اسلام کی مخالفت میں کامیاب نہیں ہوتی تو انہوں نے طرح طرح کے افتراء اٹھانے شروع کئے ، کبھی اس کو سحر بتایا ، کبھی پہلوں کے قصّے اور کہانیاں کہا ، کبھی یہ کہا کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ خود بنا لیا ہے اور ہر طرح کوشش کی کہ کسی طرح لوگ اس کتابِ مقدس کی طرف سے بدگمان ہوں ، انہیں مکاریوں میں سے ایک مکر یہ بھی تھا کہ انہوں نے ایک عجمی غلام کی نسبت یہ کہا کہ وہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سکھاتا ہے ۔ اس کے رد میں یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی اور ارشاد فرمایا گیا کہ ایسی باطل باتیں دنیا میں کون قبول کر سکتا ہے جس غلام کی طرف کُفّار نسبت کرتے ہیں وہ تو عجمی ہے ، ایسا کلام بنانا اس کے تو کیا امکان میں ہوتا تمہارے فُصَحاء و بُلَغاء جن کی زبان دانی پر اہلِ عرب کو فخر و ناز ہے وہ سب کے سب حیران ہیں اور چند جملے قرآن کی مثل بنانا انہیں محال اور ان کی قدرت سے باہر ہے تو ایک عجمی کی طرف ایسی نسبت کس قدر باطل اور بے شرمی کا فعل ہے ۔ خدا کی شان جس غلام کی طرف کُفّار یہ نسبت کرتے تھے اس کو بھی اس کلام کے اعجاز نے تسخیر کیا اور وہ بھی سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حلقہ بگوشِ طاعت ہوا اور صدق و اخلاص کے ساتھ اسلام لایا ۔

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِۙ-لَا یَهْدِیْهِمُ اللّٰهُ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۱۰۴)

بےشک وہ جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے(ف۲۴۰)اللہ انہیں راہ نہیں دیتااور ان کے لیے دردناک عذاب ہے(ف۲۴۱)

(ف240)

اور اس کی تصدیق نہیں کرتے ۔

(ف241)

بسبب انکارِ قرآن و تکذیبِ رسول علیہ السلام کے ۔

اِنَّمَا یَفْتَرِی الْكَذِبَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِۚ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ(۱۰۵)

جھوٹ بہتان وہی باندھتے ہیں جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے(ف۲۴۲)اور وہی جھوٹے ہیں

(ف242)

یعنی جھوٹ بولنا اور افتراء کرنا بے ایمانوں ہی کا کام ہے ۔

مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ جھوٹ کبیرہ گناہوں میں بد ترین گناہ ہے ۔

مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِهٖۤ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَ قَلْبُهٗ مُطْمَىٕنٌّۢ بِالْاِیْمَانِ وَ لٰكِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَیْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِۚ-وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ(۱۰۶)

جو ایمان لا کر اللہ کا منکر ہو (ف۲۴۳) سوا اس کے جو مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر جما ہوا ہو (ف۲۴۴)ہاں وہ جو دل کھول کر (ف۲۴۵)کافر ہو ان پر اللہ کا غضب ہے اور ان کو بڑا عذاب ہے

(ف243)

اس پر اللہ کا غضب ۔

(ف244)

وہ مغضوب نہیں ۔

شانِ نُزول : یہ آیت عمار بن یاسر کے حق میں نازِل ہوئی انہیں اور ان کے والد یاسر اور ان کی والدہ سمیہ اور صہیب او ربلال اور خبّاب اور سالم رضی اللہ تعالٰی عنہم کو پکڑ کر کُفّار نے سخت سخت ایذائیں دیں تاکہ وہ اسلام سے پِھر جائیں لیکن یہ حضرات نہ پھرے تو کُفّار نے حضرت عمار کے والدین کو بہت بے رحمیوں سے قتل کیا اور عمار ضعیف تھے ، بھاگ نہیں سکتے تھے ، انہوں نے مجبور ہو کر جب دیکھا کہ جان پر بن گئی تو بادل نخواستہ کلمۂ کُفر کا تلفُّظ کر دیا ، رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبر دی گئی کہ عمار کافِر ہو گئے ، فرمایا ہر گز نہیں عمار سر سے پاؤں تک ایمان سے پر ہیں اور اس کے گوشت اور خون میں ذوقِ ایمانی سرایت کر گیا ہے پھر حضرت عمار روتے ہوئے خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے ، حضور نے فرمایا کیا ہوا ؟ عمار نے عرض کیا اے خدا کے رسول بہت ہی برا ہوا اور بہت ہی برے کلمے میری زبان پر جاری ہوئے ، ارشاد فرمایا اس وقت تیرے دل کا کیا حال تھا ؟ عرض کیا دل ایمان پر خوب جما ہوا تھا ، نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شفقت و رحمت فرمائی اور فرمایا کہ اگر پھر ایسا اتفاق ہو تو یہی کرنا چاہیئے ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی ۔ ( خازن)

مسئلہ : آیت سے معلوم ہوا کہ حالاتِ اکراہ میں اگر دل ایمان پر جما ہوا ہو تو کلمۂ کُفر کا اجرا جائز ہے جب کہ آدمی کو اپنے جان یا کسی عضو کے تلف ہونے کا خوف ہو ۔

مسئلہ : اگر اس حالت میں بھی صبر کرے اور قتل کر ڈالا جائے تو وہ ماجور اور شہید ہوگا جیسا کہ حضرت خبیب رضی اللہ تعالٰی عنہ نے صبر کیا اور وہ سولی پر چڑھا کر شہید کر ڈالے گئے ، سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں سید الشُہداء فرمایا ۔

مسئلہ : جس شخص کو مجبور کیا جائے اگر اس کا دل ایمان پر جما ہوا نہ ہو وہ کلمۂ کُفر زبان پر لانے سے کافِر ہو جائے گا ۔

مسئلہ : اگر کوئی شخص بغیر مجبوری کے تمسخُر یا جہل سے کلمۂ کُفر زبان پر جاری کرے کافِر ہو جائے گا ۔ (تفسیری احمدی)

(ف245)

رضا مندی اور اعتقاد کے ساتھ ۔

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِۙ-وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ(۱۰۷)

یہ اس لیے کہ انھوں نے دنیا کی زندگی آخرت سے پیاری جانی(ف۲۴۶)اور اس لیے کہ اللہ (ایسے)کافروں کو راہ نہیں دیتا

(ف246)

اور جب یہ دنیا ارتداد پر اقدام کرنے کا سبب ہے ۔

اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ سَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْۚ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ(۱۰۸)

یہ ہیں وہ جن کے دل اور کان اور آنکھوں پر اللہ نے مُہر کر دی ہے(ف۲۴۷)اور وہی غفلت میں پڑے ہیں (ف۲۴۸)

(ف247)

نہ وہ تدبُّر کرتے ہیں نہ مواعظ و نصائح پر کان رکھتے ہیں ، نہ طریقِ رشد و صواب کو دیکھتے ہیں ۔

(ف248)

کہ اپنی عاقبت و انجامِ کار کو نہیں سوچتے ۔

لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ(۱۰۹)

آپ ہی ہو ا کہ آخرت میں وہی خراب ہیں(ف۲۴۹)

(ف249)

کہ ان کے لئے دائمی عذاب ہے ۔

ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ هَاجَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا فُتِنُوْا ثُمَّ جٰهَدُوْا وَ صَبَرُوْۤاۙ-اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠(۱۱۰)

پھر بےشک تمہارا رب ان کے لیے جنہوں نے اپنے گھر چھوڑے (ف۲۵۰) بعد اس کے کہ ستائے گئے (ف۲۵۱) پھر انہوں نے (ف۲۵۲) جہاد کیا اور صابر رہے بےشک تمہارا رب اس (ف۲۵۳) کے بعد ضرور بخشنے والا ہے مہربان

(ف250)

اور مکّۂ مکرّمہ سے مدینۂ طیّبہ کو ہجرت کی ۔

(ف251)

کُفّار نے ان پر سختیاں کیں اور انہیں کُفر پر مجبور کیا ۔

(ف252)

ہجرت کے بعد ۔

(ف253)

ہجرت و جہاد و صبر ۔