یَوْمَ تَاْتِیْ كُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِهَا وَ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۱۱)

جس دن ہر جان اپنی ہی طرف جھگڑتی آئے گی (ف۲۵۴) اور ہر جان کو اس کا کیا پورا بھردیا جائے گا اور ان پر ظلم نہ ہوگا (ف۲۵۵)

(ف254)

وہ روزِ قیامت ہے جب ہر ایک نَفْسِی نَفْسِیْ کہتا ہوگا اور سب کو اپنی اپنی پڑی ہوگی ۔

(ف255)

حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ روزِ قیامت لوگوں میں خصومت یہاں تک بڑھے گی کہ روح و جسم میں جھگڑا ہوگا ، روح کہے گی یاربّ نہ میرے ہاتھ تھا کہ میں کسی کو پکڑتی ، نہ پاؤں تھاکہ چلتی ، نہ آنکھ کہ دیکھتی ، جسم کہے گا یاربّ میں تو لکڑی کی طرح تھا نہ میرا ہاتھ پکڑ سکتا تھا ، نہ پاؤں چل سکتا تھا ، نہ آنکھ دیکھ سکتی تھی ، جب یہ روح نوری شعاع کی طرح آئی تو اس سے میری زبان بولنے لگی ، آنکھ بینا ہوگئی ، پاؤں چلنے لگے جو کچھ کیا اس نے کیا ۔ اللہ تعالٰی ایک مثال بیان فرمائے گا کہ ایک اندھا اور ایک لُولا دونوں ایک باغ میں گئے ، اندھے کو توپھل نظر نہیں آتے تھے اور لُولے کا ہاتھ ان تک نہیں پہنچتا تھا تو اندھے نے لُولے کو اپنے اوپر سوار کر لیا اس طرح انہوں نے پھل توڑے تو سزا کے وہ دونوں مستحِق ہوئے ۔ اس لئے روح اور جسم دونوں ملز م ہیں ۔

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْیَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَىٕنَّةً یَّاْتِیْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْ عِ وَ الْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ(۱۱۲)

اور اللہ نے کہاوت بیان فرمائی (ف۲۵۶) ایک بستی (ف۲۵۷) کہ امان و اطمینان سے تھی (ف۲۵۸) ہر طرف سے اس کی روزی کثرت سے آتی تو وہ اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرنے لگی (ف۲۵۹) تو اللہ نے اسے یہ سزا چکھائی کہ اسے بھوک اور ڈر کا پہناوا پہنایا (ف۲۶۰) بدلہ ان کے کیے کا

(ف256)

ایسے لوگوں کے لئے جن پر اللہ تعالٰی نے انعام کیا اور وہ اس نعمت پر مغرور ہو کر ناشکری کرنے لگے کافِر ہوگئے ۔ یہ سبب اللہ تعالٰی کی ناراضی کا ہوا ، ان کی مثال ایسی سمجھو جیسے کہ ۔

(ف257)

مثل مکّہ کے ۔

(ف258)

نہ اس پر غنیم چڑھتا نہ وہاں کے لوگ قتل و قید کی مصیبت میں گرفتار کئے جاتے ۔

(ف259)

اور اس نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکذیب کی ۔

(ف260)

کہ سات برس نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بددعا سے قحط اور خشک سالی کی مصیبت میں گرفتار رہے یہاں تک کہ مردار کھاتے تھے پھر امن و اطمینان کے بجائے خوف و ہراس ان پر مسلّط ہوا اور ہر وقت مسلمانوں کے حملے اور لشکر کشی کا اندیشہ رہنے لگا ۔

وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْهُمْ فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ(۱۱۳)

اور بےشک ان کے پاس انہیں میں سے ایک رسول تشریف لایا (ف۲۶۱) تو انہوں نے اسے جھٹلایا تو انہیں عذاب نے پکڑا (ف۲۶۲) اور وہ بے انصاف تھے

(ف261)

یعنی سیدِ انبیاء محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔

(ف262)

بھوک اور خوف کے ۔

فَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا۪-وَّ اشْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ(۱۱۴)

تو اللہ کی دی ہوئی روزی (ف۲۶۳) حلال پاکیزہ کھاؤ (ف۲۶۴) اور اللہ کی نعمت کا شکر کرو اگر تم اسے پوجتے ہو

(ف263)

جو اس نے سیدِ عالَم محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دستِ مبارک سے عطا فرمائی ۔

(ف264)

بجائے ان حرام اور خبیث اموال کے جو کھایا کرتے تھے لوٹ غصب اور خبیث مکاسب سے حاصل کئے ہوئے ۔ جمہور مفسِّرین کے نزدیک اس آیت میں مخاطَب مسلمان ہیں اور ایک قول مفسِّرین کا یہ بھی ہے کہ مخاطَب مشرکینِ مکّہ ہیں ۔ کلبی نے کہا کہ جب اہلِ مکّہ قحط کے سبب بھوک سے پریشان ہوئے اور تکلیف کی برداشت نہ رہی تو ان کے سرداروں نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ سے دشمنی تو مرد کرتے ہیں ، عورتوں اور بچوں کو جو تکلیف پہنچ رہی ہے اس کا خیال فرمایئے ، اس پر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اجازت دی کہ ان کے لئے طعام لے جایا جائے ۔ اس آیت میں اس کا بیان ہوا ، ان دونوں قولوں میں اوّل صحیح تر ہے ۔ (خازن)

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖۚ-فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۱۱۵)

تم پر تو یہی حرام کیا ہے مُردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جس کے ذبح کرتے وقت غیر خدا کا نام پکارا گیا (ف۲۶۵) پھر جو لاچار ہو (ف۲۶۶) نہ خواہش کرتا اور نہ حد سے بڑھتا (ف۲۶۷) تو بےشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے

(ف265)

یعنی اس کو بُتوں کے نام پر ذبح کیا گیا ہو ۔

(ف266)

اور ان حرام چیزوں میں سے کچھ کھانے پر مجبور ہو ۔

(ف267)

یعنی قدرِ ضرورت پر صبر کر کے ۔

وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هٰذَا حَلٰلٌ وَّ هٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَؕ-اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ(۱۱۶)

اور نہ کہو اسے جو تمہاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھو (ف۲۶۸) بےشک جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا بھلا نہ ہوگا

(ف268)

زمانۂ جاہلیت کے لوگ اپنی طرف سے بعض چیزوں کو حلال ، بعض چیزوں کو حرام کر لیا کرتے تھے اور اس کی نسبت اللہ تعالٰی کی طرف کر دیا کرتے تھے ، اس کی ممانعت فرمائی گئی اور اس کو اللہ پر افتراء فرمایا گیا ۔ آج کل بھی جو لوگ اپنی طرف سے حلال چیزوں کو حرام بتا دیتے ہیں جیسے میلاد شریف کی شیرینی ، فاتحہ ، گیارہویں ، عرس وغیرہ ایصالِ ثواب کی چیزیں جن کی حرمت شریعت میں وارد نہیں ہوئی ۔ انہیں اس آیت کے حکم سے ڈرنا چاہیئے کہ ایسی چیزوں کی نسبت یہ کہہ دینا کہ یہ شرعاً حرام ہیں اللہ تعالٰی پر افتراء کرنا ہے ۔

مَتَاعٌ قَلِیْلٌ۪-وَّ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۱۱۷)

تھوڑا برتنا ہے (ف۲۶۹) اور ان کے لیے دردناک عذاب(ف۲۷۰)

(ف269)

اور دنیا کی چند روزہ آسائش ہے جو باقی رہنے والی نہیں ۔

(ف270)

ہے آخرت میں ۔

وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَیْكَ مِنْ قَبْلُۚ-وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ(۱۱۸)

اور خاص یہودیوں پر ہم نے حرام فرمائیں وہ چیزیں جو پہلے تمہیں سنائیں (ف۲۷۱) اور ہم نے ان پر ظلم نہ کیا ہاں وہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے (ف۲۷۲)

(ف271)

سورۂ انعام میں آیت وَعَلیَ الَّذِیْنَ ھَادُوْا حَرَّمْنَا کُلَّ ذِیْ ظُفُرٍ الآیہ میں ۔

(ف272)

بغاوت و معصیت کا ارتکاب کر کے جس کی سزا میں وہ چیزیں ان پر حرام ہوئیں جیسا کہ آیت فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِیْ ھَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَیْھِمْ طَیِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَھُمْ میں ارشاد فرمایا گیا ۔

ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ عَمِلُوا السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْۤاۙ-اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠(۱۱۹)

پھر بےشک تمہارا رب ان کے لیے جو نادانی سے (ف۲۷۳) بُرائی کر بیٹھیں پھر اس کے بعد توبہ کریں اور سنور جائیں بےشک تمہارا رب اس کے بعد(ف۲۷۴) ضرور بخشنے والا مہربان ہے

(ف273)

بغیر انجام سوچے ۔

(ف274)

یعنی توبہ کے ۔