انبیاء کرام علیھم السلام کی اجتہادی خطاء اور صحابہ اہلبیت علیھم الرضوان کی اجتہادی خطاء اور فرق……..؟؟

معصوم و محفوظ کا معنی و فرق…………!!

میں نے توبہ رجوع کیا تو یہ لازم آئے گا وہ لازم آئے گا۔۔۔۔۔۔؟؟

.

آیات اور احادیث کو دلیل بناتے ہوئے علماء کرام نے واضح طور پر لکھا کہ انبیائے کرام علیھم السلام سے خطائے اجتہادی ہو سکتی ہے،بعض انبیاء کرام سے اجتہادی خطاء ہوئی ہے

لیکن

وہ خطائے اجتہادی پر قائم دائم نہیں رہتے بلکہ اللہ تعالی ان کی اصلاح فرما دیتا ہے۔۔۔۔جب بعض انبیائے کرام سے غیر دوامی خطائے اجتہادی ہو سکتی ہے بلکہ ہوئی ہے تو صحابہ کرام اہلبیت عظام وغیرہ سے بدرجہ اولی خطائے اجتہادی ہو سکتی ہے بلکہ بعض صحابہ کرام بعض اہل بیت سے خطا اجتہادی واقع ہوئی ہے…انبیائے کرام اور صحابہ و اہل بیت کی اجتہادی خطا میں فرق یہ ہے کہ انبیائے کرام کی اللہ اصلاح فرما دیتا ہے لہذا ان کی خطا اجتہادی عارضی و وقتی ہوتی ہے جو جلد ہی ختم ہو جاتی ہے

جبکہ

صحابہ کرام اہل بیت عظام اولیاء کرام آئمہ وغیرہ کی اجتہادی خطا پر اللہ تعالی اصلاح کے لئے وحی نہیں فرماتا اس لیے غیر نبی کی اجتہادی خطا دائمی بھی ہوسکتی ہے بلکہ کئیوں کی ہوئ بھی ہے

.

①وجاز الخطا في اجتهاد الأنبياء الا انهم لا يقرون عليه

ترجمہ:

انبیائے کرام کے اجتہاد میں خطا واقع ہونا جائز ہے مگر یہ کہ وہ خطائے اجتہادی پر قائم نہیں رہتے (بلکہ اللہ تعالی انکی اصلاح فرما دیتا ہے)

[التفسير المظهري ,6/215]

.

②لأن الأنبياء معصومون من الغلط والخطأ لئلا يقع الشك في أمورهم وأحكامهم , وهذا قول شاذ من المتكلمين. والقول الثاني: وهو قول الجمهور من العلماء والمفسرين ولا يمتنع وجود الغلط والخطأ من الأنبياء كوجوده من غيرهم. لكن لا يقرون عليه وإن أقر عليه غيرهم

خلاصہ:

وہ جو کہتے ہیں کہ انبیاء کرام غلطی اور خطا سے معصوم ہے یہ قول شاذ متکلمین کا ہے

جمہور علماء اور مفسرین کا قول یہ ہے کہ انبیائے کرام سے اجتہادی غلطی اور اجتہادی خطا ہوجاتی ہے لیکن وہ اس پر قائم نہیں رہتے (بلکہ اللہ تعالی انکی اصلاح فرما دیتا ہے)غیر انبیاء سے خطا اجتہادی ہوتی ہے تو اس کے لیے ضروری نہیں کہ وہ اس پر قائم نہ رہیں بلکہ بعض کچھ اس پر قائم بھی رہتے ہیں

[اتفسير الماوردي = النكت والعيون ,3/457بحذف یسییر]

.

③أن الخطأ إذا وقع من نبي بقول أو فعل فإن الله تعالى يصححه على الفور، مما يبين وجوب الأسوة والقدوة بهم، وأن ذلك لا يؤثر على الاقتداء والتأسي بهم؛ لأن خطأهم مصحح بخلاف خطأ غيرهم

خلاصہ:

جب کسی نبی علیہ الصلاۃ والسلام کے قول یا فعل میں خطااجتہادی ہوتی ہے تو اللہ تعالی فورا اس کی تصحیح فرما دیتا ہے(لہذا انبیاءکرام کی خطا اجتہادی وقتی ہوتی ہے جس پر وہ قائم نہیں رہتے اللہ تعالی ان کی اصلاح فرما دیتا ہے)بر خلاف غیر انبیاء کی خطا کے کہہ غیر انبیاء سے جب خطا اجتہادی ہوتی ہے تو اللہ تعالی اس کی اصلاح نہیں فرماتا(لہذا غیر انبیاء کی خطا اجتہادی کبھی وقتی ہوتی ہے کبھی دوامی)

[أصول أهل السنة والجماعة ,1/6]

.

④وَقَالُوا: يَجُوزُ الْخَطَأُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ إِلَّا أَنَّهُمْ لَا يُقِرُّونَ عَلَيْهِ

ترجمہ:

علامہ فرماتے ہیں کہ انبیاء کرام سے خطاء جائز ہے مگر یہ کہ وہ خطا پر قائم نہیں رہے تھے

[تفسير البغوي – طيبة ,5/333]

.

⑤ فأخطأ في الاجتهاد،وهذا شأن الأنبياء لا يُقَرُّون على الخطأ

ترجمہ:

نبی پاک سے اجتہاد میں خطاء ہوئی اور یہ انبیائے کرام کی شان ہے کہ وہ خطاء پر قائم نہیں رہتے(بلکہ اللہ تعالی انکیاصلاح فرما دیتا ہے)

[الكوثر الجاري إلى رياض أحاديث البخاري ,6/36ملخصا]

.

.

⑥يجوز وقوع الخطأ منهم، لكن لا يقرّون عليه،

ترجمہ:

انبیائے کرام سے خطا اجتہادی کا واقع ہونا جائز ہے لیکن وہ خطا پر قائم نہیں رہتے( بلکہ اللہ تعالی انکی اصلاح فرما دیتا ہے)

[روضة الناظر وجنة المناظر ,2/354]

.

⑦يجوز عليهم، ولا يقرون عليه

انبیائے کرام سے خطا اجتہادی کا واقع ہونا جائز ہے لیکن وہ خطا پر قائم نہیں رہتے( بلکہ اللہ تعالی انکی اصلاح فرما دیتا ہے)

[التمهيد في أصول الفقه ,4/317]

.

⑧انبیاء (علیہم السلام) اپنی عصمت میں زلات (لعزشوں، اجتہادی خطاء، مکروہ تنزیہی یا خلاف اولی کا ارتکاب) سے مامون(محفوظ) نہیں ہوتے

(تبیان القرآن تحت سورہ الاعلی آیت6)

.

دوسرے یہ کہ نبی بھی اجتہاد کرسکتے ہیں کیونکہ ان دونوں حضرات کے یہ حکم اجتہادی تھے نہ کہ وحی۔ تیسرے یہ کہ نبی کے اجتہاد میں خطا بھی ہوسکتی ہے

(نور العرفان تحت سورہ الانبیاء آیت79)

.

⑨حضرت آدم علیہ السلام سے اجتہاد میں خطا ہوئی اور خطائے اجتہادی معصیت نہیں ہوتی۔

(خزائن العرفان تحت سورہ بقرہ ایت36)

.

10نوح (علیہ السلام) یا تو اس نہی کو بھول گئے یا ان سے خطا اجتہادی ہوئی

(نور العرفان تحت سورہ المومنون آیت27)

.

11) اس لئے کہ انبیاء (علیہم السلام) معصوم ہوتے ہیں۔ یہ ہوسکتا ہے کہ اجتہاد میں خطا ہوجائے۔ چنانچہ آپ کو بھی اجتہاد میں خطا ہوئی اور خطا اجتہادی معصیت نہیں ہوتی۔

(عرفان القرآن تحت سورہ بقرہ ایت36)

.

12)تفسیر صراط الجنان میں ہے کہ:

(1)اجتہاد برحق ہے اور اجتہاد کی اہلیت رکھنے والے کو اجتہاد کرنا چاہیے۔

(2)… نبی علیہ السلام بھی اجتہاد کرسکتے ہیں کیونکہ ان دونوں حضرات کے یہ حکم اجتہاد سے تھے نہ کہ وحی سے ۔

(3)… نبی علیہ السلام کے اجتہاد میں خطا بھی ہوسکتی ہے تو غیر نبی میں بدرجہ اولی غلطی کا احتمال ہے۔

(4)… خطا ہونے پر اجتہاد کرنے والا گنہگار نہیں ہوگا۔

(5)… ایک اجتہاد دوسرے اجتہاد سے ٹوٹ سکتا ہے البتہ نص اجتہاد سے نہیں ٹوٹ سکتی۔

(6)… نبی علیہ السلام خطاء اجتہادی پر قائم نہیں رہتے۔ اللہ تعالی اصلاح فرما دیتا ہے۔

(صراط الجنان تحت سورہ انبیاء آیت78)

.

13)جمهور المحدثين والفقهاء على أنه يجوز للأنبياء عليهم السلام الاجتهاد في الأحكام الشرعية ويجوز عليهم الخطأ في ذلك لكن لا يقرون عليه

ترجمہ:

جمہور.و.اکثر محدثین و فقہاء کا نظریہ ہے کہ انبیائے کرام کے لئے اجتہادی خطا جائز ہے لیکن وہ اجتہادی خطا پر قائم نہیں رہتے ( بلکہ اللہ تعالی انکی اصلاح فرما دیتا ہے)

[تفسير الألوسي = روح المعاني ,7/68]

۔

ان تمام حوالہ جات سے بالکل واضح ہے کہ کیا انبیاء کرام علیہم السلام سے اجتہادی خطا ہو سکتی ہے بلکہ بعض انبیاء سے اجتہادی خطاء ہوئی بھیری ہے لیکن وہ اس پر قائم نہ رہے کیونکہ اللہ نے اصلاح فرما دی۔۔۔المعتقد ص112 میں لکھا ہے کہ انبیائے کرام کی اجتہادی خطا کا قول بعید ہے مہجور ہے”

یہ قول خود غیر معتبر اور خلاف اسلاف و خلاف اصول ہے، مصنف کا تسامح ہے یا عجلت یا سبقت قلم ہے یا قول شاذ ہے جیساکہ حوالہ نمبر 2میں لکھا ہے کہ ایسا قول شاذ ہے

.

معصوم اور محفوظ کا فرق۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟

اسلاف نے دوٹوک فرمایا کہ اہل بیت اور صحابہ کرام مجتہدین ہیں ان سے خطا کا صدور ممکن ہے…اولیاء(صحابہ اہلبیت دیگر اولیاء)معصوم نہیں محفوظ ہیں..محفوظ کامطلب ہےکہ اکثر ان سے گناہ،خطاء معصیت نہیں ہوتی..اگر ہوتی ہےتو وہ اس پر ڈٹےنہیں رہتے(توبہ رجوع کرلیتےہیں)جبکہ معصوم کا معنی ہے کہ گناہ و خطاء معصیت کا صدور ممکن ہی نہیں…انبیاء کرام اور فرشتے معصوم ہیں ان کے علاوہ کوئی معصوم نہیں(دیکھیے بستان العارفین66،فتاوی حدیثیہ230)

۔

بعض صحابہ، بعض اہلبیت سے اجتہادی خطاء و تفردات واقع ہوئے ہیں جن پر کوئی طعن مذمت بےادبی کے فتوے نہیں لگائے گئے، ظنی تفردات پےرجوع توبہ کا جبر نہ کیا گیا

.

①بعض صحابہ کی اجتہادی خطاء:

اسلاف علماء میں سے بعض نے بعض صحابہ کرام پر اجتہادی خطا کا اطلاق کیا ہے…..مثلا

ماہر محقق متکلم امام اہلسنت سعدالدین تفتازانی بغیر کسی منقولہ حوالے کے اپنے اجتہاد و دلیل سے مخالفین سیدنا علی پر اجتہادی بغاوت اجتہادی خطا کا اطلاق کرتے ہوئے لکھتے

ہیں:

واما فی حرب جمل و حرب صفین فالمصیب علی لا کلتا الطائفتین ولا احدھما من غیر تعیین المخالفون بغاۃ لخروجھم علی الامام الحق لشبھۃ لا فسقۃ او کفرۃ

ترجمہ:

اور جو جنگ جمل اور جنگ صفین ہوئیں ان تمام میں حضرت علی حق و درست تھے مخالفین(سیدہ عائشہ سیدنا زبیر و طلحہ و معاویہ رضی اللہ عنھم اجمعین) اجتہادی خطاء پر تھے، دونوں حق و درست نہیں تھے(مطلب ایسا نہین کہ سیدنا علی کو بھی حق کہا جائے اور ان سے اختلاف کرنے والے مثل سیدنا طلحہ و زبیر و عائشہ و معاویہ وغیرہ بھی کو بھی حق پر کہا جائے ایسا ہرگز نہیں بلکہ سیدنا علی ہی حق پر تھے اور مخالفین اجتہادی خطاء پر تھے)

اور ایسا بھی نہیں کہ کہا جائے کہ بلاتعیین کوئی ایک حق پر تھا(مطلب ایسا بھی مت سمجھو کہ شاید سیدنا معاویہ و زبیر و طلحہ و عائشہ حق پر ہو یا شاید علی حق پر ہوں، ایسا مشکوک نظریہ بھی ٹھیک نہیں بلکہ واضح حق عقیدہ اہلسنت یہی ہے کہ سیدنا علی حق و درست تھے)اور مخالفیں(سیدہ عائشہ سیدنا زبیر و طلحہ و معاویہ بمع گروہ) اجتہادی باغی تھے کہ امام برحق پر خروج کیا شبہ کی وجہ سے، ہاں(شبہ، اجتہادی بغاوت ، اجتہادی خطاء) کی وجہ سے انہیں فاسق و گناہ گار اور کافر نہیں کہہ سکتے

(شرح المقاصد3/533)

.

امام اہلسنت سیدی امام احمد رضا علیہ الرحمۃ کے عظیم خلیفہ قبلہ مفتی امجد علی اعظمی اپنی مشھور و معتبر کتاب بہار شریعت میں فرماتے ہیں کہ:

حضرت طلحہ و حضرت زبیر رضی ﷲ تعالی عنھما تو عشرہ مبشرہ سے ہیں، ان صاحبوں(سیدہ عائشہ حضرت طلحہ حضرت زبیر)سے بھی بمقابلہ امیر المومنین مولی علی کرم ﷲ تعالی وجہہ الکریم خطائے اجتہادی واقع ہوئی۔(بہار شریعت جلد اول حصہ اول ص40)

.

.

②صحابہ کرام ائمہ کے ظنیات فروعیات میں تفردات،مخالفت جمھور غیر معتبر و مفتی بہ قول کئ گذرے…. کسی نے ان پر مذمت نہ کی , توبہ رجوع کا جبر نہ کیا…..سیدی امام احمد رضا لکھتے ہیں:

اتباع سواد اعظم کا حکم اور من شذ شذ من فی النار(جو جدا ہوا وہ جہنم میں گیا۔ ت)کی وعید صرف دربارہ عقائد ہے مسائل فرعیہ فقہیہ کو اس سے کچھ علاقہ نہیں،صحابہ کرام سے ائمہ اربعہ تك رضی ﷲ تعالٰی عنہم اجمعین کوئی مجتہد ایسا نہ ہوگا جس کے بعض اقوال خلاف جمہور نہ ہوں،سیدنا ابوذر رضی ﷲ تعالٰی عنہ کا مطلقًا جمع زر کو حرام ٹھہرانا،ابو موسی اشعری رضی ﷲ تعالٰی عنہ کا نوم کو اصلا حدث نہ جاننا،عبدﷲ بن عباس رضی ﷲ تعالٰی عنہما کا مسئلہ ربا،امام اعظم رضی ﷲ تعالٰی عنہ کامسئلہ مدت رضاع،امام شافعی رضی ﷲتعالٰی عنہ کا مسئلہ متروك التسمیہ عمدًا،امام مالك رضی ﷲ تعالٰی عنہ کا مسئلہ طہارت سؤر کلب وتعبد عنسلات سبع،امام احمد رضی ﷲ تعالٰی عنہ کا مسئلہ نقض وضو بلحم جز ور وغیرہ ذلك مسائل کثیرہ کو جو اس وعید کا مورد جانے خود شذ فی النار(جو جدا ہو جہنم میں ڈالا گیا۔ت)کا مستحق بلکہ اجماع امت کا مخالف

(فتاوی رضویہ18/497.498)

.

③اہلبیت میں سے بعض کی اجتہادی خطاء، لغزش اور غیر مفتٰی بہ اقوال:

علامہ عبد العلي محمد بن نظام الدين محمد السهالوي الأنصاري اللكنوي فرماتے ہیں،ترجمہ:

اہل بیت دیگر مجتہدین کی طرح ہیں ان پر خطاء جائز ہے بلکہ وہ کبھی خطا کرتے ہیں اور کبھی درستگی کو پاتے ہیں۔۔اہل بیت سے لغزش واقع ہونا بھی جائز ہے جیسے کہ بی بی فاطمہ سے لغزش واقع ہوئی۔۔۔۔اسی طرح اہل بیت کے صحابہ کرام سے الگ تفردات گزرے ہیں جس پر اگرچہ فتوی نہیں دیا گیا لیکن کوئی مذمت بھی نہیں کی گئی ۔۔۔صحابہ کرام اور اہل بیت عظام دونوں یہ سمجھتے تھے کہ ان سے خطائے اجتہادی کا صدور ہو سکتا ہے بلکہ ہوا ہے جیسے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی خطا اجتہادی حاملہ متوفی زوجھا کی عدت کے معاملے میں واقع ہوءئ اور بھی بہت سے واقعات ہیں جن میں اہل بیت اور صحابہ کرام کے اجتہادی خطائیں تفردات واقع ہوئے ہیں جو جمہور کے خلاف تھے لیکن فتوی جمہور پر دیا گیا لیکن تفردات والے پر بھی مذمت نہ کیا گیا

(دیکھیے فوتح الرحموت2/279ملخصا ملتقطا)

.

شیخ الحدیث و التفسیر علامہ غلام رسول سعیدی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

بہرحال حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے اس باب(مطالبہ میراث،مطالبہ فدک اور بظاہر ناراضگی) میں جو جاری ہوا وہ ان کا اجتہاد تھا۔۔۔۔اس باب میں صحت اور صواب(درستگی)حضرت ابوبکر صدیق کے ساتھ تھا(لیھذا سیدہ کا اجتہاد اجتہادی خطاء تھا)

(نعمة الباری شرح بخاری 14/841)

.

عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ يَأْخُذُ مِنْ غَلَّةِ فَدَكَ نَفَقَتَهُ وَنَفَقَةَ مَنْ يَعُولُهُ، وَيَجْعَلُ الْبَاقِيَ فِي السِّلَاحِ وَالْكُرَاعِ، فَلَمَّا مَاتَ ادَّعَتْ فَاطِمَةُ عليها السلام أنه كان ينحلها فدكا، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنْتِ أَعَزُّ النَّاسِ عَلَيَّ فَقْرًا، وَأَحَبُّهُمْ إِلَيَّ غِنًى، لَكِنِّي لَا أَعْرِفُ صِحَّةَ قَوْلِكِ، وَلَا يَجُوزُ أَنْ أَحْكُمَ فَأَجْرَى أَبُو بَكْرٍ ذَلِكَ عَلَى مَا كَانَ يُجْرِيهِ الرَّسُولُ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْفِقُ مِنْهُ عَلَى مَنْ كَانَ يُنْفِقُ عَلَيْهِ الرَّسُولُ، وَيَجْعَلُ مَا يَبْقَى فِي السِّلَاحِ وَالْكُرَاعِ، وَكَذَلِكَ عُمَرُ جَعَلَهُ فِي يَدِ عَلِيٍّ لِيُجْرِيَهُ عَلَى هَذَا الْمَجْرَى، وَرَدَّ ذَلِكَ فِي آخِرِ عَهْدِ عُمَرَ إِلَى عُمَرَ، وَقَالَ: إِنَّ بِنَا غِنًى وَبِالْمُسْلِمِينَ حَاجَةٌ إِلَيْهِ، وَكَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّه عَنْهُ يُجْرِيهِ كَذَلِكَ، ثُمَّ صَارَ. إِلَى عَلِيٍّ فَكَانَ يُجْرِيهِ هَذَا الْمَجْرَى/ فَالْأَئِمَّةُ الْأَرْبَعَةُ اتَّفَقُوا عَلَى ذَلِكَ

خلاصہ:

باغ فدک کی آمدنی میں سے رسول کریم اپنا خرچہ اور اپنے اہل و عیال کا خرچہ نکال لیا کرتے تھے اور باقی آمدنی اسلحہ اور آلات کی خریداری واغیرہ میں صرف کرتے تھے۔۔۔جب آپ علیہ الصلاۃ و السلام کی ظاہری وفات ہوئی تو سیدہ فاطمہ نےفدک کی ملکیت کا قول کیا…سیدنا ابوبکر نےفرمایا آپ کا قول ٹھیک نہیں،(آپکی اجتہادی خطاء ہے)آپ کےقول پر عمل کرنا جائز نہیں…ہاں آپ کو،آل رسول،ازواج رسول وغیرہ کو فدک وغیرہ سےخرچہ ملتا رہےگا جیسے کہ رسول کریم دیا کرتے تھے اسی طرح سیدنا علی سمیت چاروں خلفاء کرام نے یہی حکم جاری رکھا

(تفسیر کبیر تحت سورہ حشر آیت6ملخصا)

.

تین موقف اور توبہ رجوع کرنے سے یہ لازم آئے گا وہ لازم آئے گا کا جواب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!

میری نظر میں سیدہ فاطمہ کی اجتہادی خطاء والے معاملے میں قابل قبول درج ذیل موقف ہوسکتے ہیں

①یہ کہا جائے کہ سیدنا بی بی فاطمہ نے باغ فدک وغیرہ کا مطالبہ کیا،سیدنا ابوبکر صدیق نے حدیث سنا کر ملکیت میں دینے کا انکار کیا مگر باغ فدک وغیرہ سے اہلبیت کا خرچہ ادا کرنے کا اقرار کیا، سیدہ مطالبہ سے دستبردار ہوکر واپس چلی گئیں…….بس اتنا بیان کیا جائے کسی کو اجتہادی خطاء نہ کہا جائے….یعنی سکوت کیا جائے،کف لسان کیا جائے معصوم عن الخطاء کی نفی کی جائے امکان خطاء کہا جائے…خطاء ہوئی اس سے اجتناب.و.سکوت کیا جائے…کیونکہ قطعی روایات سے معلوم نہیں کہ سیدہ نے اجتہاد کرکے اپنا حق سمجھ کر مطالبہ کیا یا حدیث لانورث سے لاعلمی کی وجہ سے مطالبہ کیا معلوم نہیں لیھذا سکوت بہتر

مگر

سنی عالم ماہر سرگرم اگر سیدہ فاطمہ کو اجتہادی خطاء پر کہے تو زیادہ سے زیادہ اسے اسکا تفرد و اجتہادی خطاء شمار کرکے غیرمتفقہ غیرمفتی بہ قول کہا جائے مگر اسے بےادب و گستاخ نہ کہا جائے دیگر معاملات سرگرمیوں خدمات میں اسے معتبر و قابل ستائش کہا جائے…فقیر کا یہی موقف ہے

②یہ کہا جائے کہ سیدنا ابوبکر حق پے تھے اور سیدہ کا ادب و احترام کرتے ہوئے فضائل بیان کرتے ہوئے ساتھ میں یہ بھی کہے کہ سیدہ فاطمہ سے وقتی اجتہادی خطاء ہوئی جوکہ کوئی مذمت و گناہ کی بات نہیں…

۔

لیکن جو اجتہادی خطاء نہ کہے اسے ناحق نہ کہا جائے مذمت و رافضیت نا کہا جائے…کیونکہ سیدہ فاطمہ سے خطاء اجتہادی ہوئی ہو یہ قطعی ثابت نہیں ہے بلکہ ظنی طور پر دلائل ہیں۔۔۔۔یہ کہنا کہ سیدہ فاطمہ کو خطائے اجتہادی پر کہے بغیر رافضیت کا رد نہیں ہو سکتا یہ کہنا ٹھیک نہیں ہے۔۔۔امکان خطا کہا جائے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کے فیصلے کو حق کہا جائے تو اس سے بھی رافضیت کا رد ہوجاتا ہے۔۔۔سیدہ فاطمہ کی طرف نسبت خطائے اجتہادی سے توبہ نہ کرنے کی یہ تاویل کرنا کہ اسلاف سے بھی توبہ کرانی ہوگی۔۔۔یہ بات بھی ٹھیک نہیں کیونکہ اسلاف نے قطعی طور پر باسند صحیح سیدہ فاطمہ کو خطائے اجتہادی نہیں کہا تو خطائے اجتہادی کہنے والے کی توبہ سے اسلاف کی توبہ کروانا لازم نہیں آتا۔۔۔۔لہذا اجتہادی خطا کی نسبت سیدہ فاطمہ کی طرف کرنے سے توبہ کر کے رجوع کرکے پہلا موقف یا تیسرا موقف اپنانا بھی ٹھیک ہے،اس سے کوئ شرعی خرابی لازم نہیں آتی تی ، اس سے بھی رد رافضیت ہو جاتی ہے۔۔۔۔اصل قاعدہ تو یہ ہے کہ خطائے اجتہادی کی جواز کی نسبت انبیاء صحابہ اہل بیت کی طرف کی جا سکتی ہے لیکن خطائے اجتہادی واقع ہوئی یہ نسبت بغیر دلیل کے نہیں کی جا سکتی لہذا بعض انبیاء کرام کی طرف خطائے اجتہادی کی نسبت کی گئی ہے تو اس کی بھی مضبوط دلیل موجود ہے۔۔۔۔اسی طرح بعض صحابہ اہلبیت وغیرہ کی طرف خطائے اجتہادی واقع ہونے کی نسبت کی گئی ہے تو اس کی بھی دلیل موجود ہے۔۔۔۔سیدہ فاطمہ سے خطائے اجتہادی ہوئی اس کی کوئی صحیح دلیل ہمارے علم میں نہیں ہے لہذا سکوت ہی بہتر ہے۔۔۔سیدہ فاطمہ کی طرف خطائے اجتہادی کی نسبت اکا دکا ظنی اقوال سے اشارتا ثابت ہوتی ہے اس لیے جو شخص خطائے اجتہادی کی نسبت سیدہ فاطمہ کی طرف کرے اسے اہل سنت سے خارج نہیں کیا جاسکتا گستاخ بےادب حرامی وغیرہ نہیں کہا جا سکتا بلکہ اسے تفرد اور غیر مفتی بہ غیرمضبوط قول کہا جائے گا

③یہ کہا جائے کہ سیدنا ابوبکر حق پے تھے سیدہ فاطمہ سے حدیث پاک لانورث سے لاعلمی کی وجہ سے ناحق مطالبہ و خطاء ہوئی جوکہ درحقیقت نہ خطاء ہے نہ اجتہادی خطاء۔۔۔اور قول نمبر ایک اور قول نمبر دو والے آداب بھی ملحوظ خاطر رکھے

.

اللہ کریم خوب جانتا ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام صحابہ کرام اہل بیت عظام جیسی عظیم الشان ہستیوں کی اجتہادی خطاوں پر لکھنا ہمارا کوئی شوق نہیں تھا۔۔۔۔جب دیکھا کہ انبیاء کرام علیہم السلام سے ، اہل بیت سے اجتہادی خطا کی مطلق نفی کی جا رہی ہے۔۔۔۔معصوم اور محفوظ کی غلط تشریح کی جا رہی ہے

اور

جو علماء شیعہ کا رد کرتے ہوئے سیدہ کے فضائل بھی بیان کرتے ہوئے اکا دکا ظنی دلائل سے خطائے اجتہادی کہہ بیٹھے ان پر خارج از اہل سنت حرامی کنجر کتا نہ جانے کون کون سی گالیاں دی جا رہی ہیں تو ایسے موقع پر ضروری محسوس ہوا کہ اس موضوع پر لکھا جائے

✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر

facebook,whatsApp,telegram nmbr

03468392475