جلالی صاحب اور مسئلۂ خطا

بات شروع ہوئی ایک ملعونہ کی ٹی وی پر کی گئ بکواس سے جس میں اس نے مسئلۂ فدک میں سیدنا صدیقِ اکبر کو غاصب و ظالم قرار دیا. اس کے رد میں ادارۂ صراطِ مستقیم کی جانب سے عدالتِ صدیقِ اکبر سیمینار کا انعقاد ہوا جس میں جلالی صاحب نے مسئلۂ فدک پر اہل سنت کے دلائل پیش کیے اور روافض کا رد کیا. دورانِ گفتگو تاجدارِ گولڑہ کی کتاب تصفیہ مابین سنی و شیعہ کی عبارت کی تشریح کرتے ہوئے کہا “سیدہ پاک غیر معصوم ہیں سو ان سے مطالبۂ فدک میں غلطی ہوگئ”. ایک دوسرے خطاب میں اسی عبارت کی تشریح میں یہ کہا ” کہ سیدہ جب فدک مانگ رہی تھیں تب خطا پر تھیں”. اس کے بعد کسی نامعلوم شریر نے جلالی صاحب کی کلپ کاٹ کر سوشل میڈیا پر ڈال دی اور ہنگامہ برپا ہوگیا. لفظِ خطا کے عجب عجب معانی و احکام بیان ہونے لگے. جب معاملہ زیادہ بگڑا تو جلالی صاحب نے ایک وضاحتی بیان جاری کیا اور ذرا سختی کے باعث اپنوں ہی کو “علمی یتیم” وغیرہ کہہ ڈالا اور معترضین کو مہلت دی کہ عبارتِ تصفیہ کی مجھ سے بہتر تشریح کرکے دکھاؤ. پھر جب ان کو تشفی بخش وضاحت نہ ملی تو از خود وضاحت فرمائی کہ جو لفظِ خطا میں نے بولا تھا اس سے مراد خطائے اجتہادی تھی. لیکن وہاں بھی اسی سختی کا مظاہرہ فرمایا کہ ایرانی فکر پہ سب بولتے ہیں وغیرہ وغیرہ اور فرمانے لگے اس میدان کا میں اکیلا سپاہی ہوں ہم نے کیا کیا ہے اور آپ کیا کر رہے ہیں جیسے خود ستائشی کلمات بھی صادر ہوئے. ایک اور وضاحتی بیان میں کہہ گئے کہ صدیقِ اکبر نے فدک سیدہ کو نہ دے کے انہیں حرام مال سے بچایا. اس کے بعد اہل سنت کے کئ علما نے مسئلۂ فدک میں سیدہ پاک کے اجتہاد کی نفی کی اور جلالی صاحب کی وضاحت کی تردید بھی کی اور ان سے ان بے احتیاطیوں اور سبقتِ لسانی پر توبہ و رجوع کا مطالبہ کیا. اس کے بعد جلالی صاحب کی طرف سے مسلسل وضاحتی کلپ بھی نشر ہوتے رہے جس میں انہوں نے عقیدۂ معصومیت اور اجتہادِ صحابہ و اہل بیت پہ کلام کیا. بالآخر ایک مقام پہ آکے جلالی صاحب فرمانے لگے کہ مطلق سیدہ کی طرف خطا کی نسبت کرنا ناجائز ہے مسئلۂ فدک میں خطا کی نسبت کرنا درست نہیں اور فرمایا کہ تیسرا درجہ جس میں روافض کے عقیدۂ معصومیت کا رد کرتے ہوئے بھی ہم خطا کا لفظ نہیں بولیں گے بلکہ یہ کہیں گے کہ مسئلۂ فدک میں سیدہ غیر معصوم ہیں اور صدیق اکبر غاصب و ظالم نہیں ہیں. معترضینِ جلالی یہ سمجھ کے مطمئن ہوگئے تھے کہ شکر ہے جلالی صاحب نے رجوع کر لیا. لیکن کچھ جذباتی مؤیدینِ جلالی اپنے قائد کی محبت میں بے احتیاطی کا شکار ہوگئے اور معترضین کو تفضیلی و نیم رافضی وغیرہ کے القابات سے نوازتے رہے اور جلالی صاحب کے رجوع کی نفی کرنا شروع کر دی. ادھر جلالی صاحب بھی عقیدۂ معصومیتِ اہل بیت کا رد کرنے میں اپنوں ہی کو چھیڑ بیٹھے یوں دبتا ہوا معاملہ پھر ابھر گیا. صاحبو اس پورے معاملے میں جلالی صاحب کا جرم صرف اتنا ہے کہ انہوں نے عبارتِ تصفیہ سے جو نتیجہ اخذ کیا تھا وہ عبارت سے مطابقت نہیں کرتا تھا. لیکن وہ ایسا نہیں کہ جس پر گستاخی کا حکم لگ سکے. جلالی صاحب نے خطائے اجتہادی کی نسبت جہاں نہیں کرنی چاہیے تھی وہاں کر دی. اور اہل علم جانتے ہیں خطائے اجتہادی اجر و ثواب کا باعث ہے اس کا صدور تو انبیا سے بھی کتبِ دین میں مذکور ہے. خطائے اجتہادی کوئی جرم کوئی عیب و نقص نہیں. بس اتنی سی بات پر ان کو گالیاں دینا خارج از اہل سنت قرار دینا اور گرفتاری کا مطالبہ کرنا ایک سنی عالم کے ساتھ زیادتی ہے. ایسے کئ مسائل ہیں جن میں اختلاف کے باوجود فریقین سنی ہی رہتے ہیں جیسے لعنِ یزید اور ایمانِ ابی طالب کا مسئلہ. جلالی صاحب کی پر جلال طبیعت جو اہلِ باطل کے لیے موزوں تھی اسی طبیعت نے اپنوں کو بھی مجروح کیا لیکن اس کے ردِ عمل میں اپنوں نے جو ستم ڈھایا وہ کسی صورت لائقِ ستائش نہیں.

اللہ کریم اہل سنت کو ہر طرح کے فتنے سے محفوظ رکھے اور اہل سنت کے شیرازے کو انتشار و افتراق سے بچائے.

آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم

سید فاضل اشرفی میسوری