بہترین خزانہ

حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب آیت کریمہ’’ وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُوْنَ الذَّھَبَ وَالْفِضَّۃَ (الآیۃ ) نازل ہوئی تو ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے اس موقع پر بعض صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا یہ آیت تو سونے اور چاندی کے بارے میں نازل ہوئی ہے اگر ہمیں یہ پتہ چل جاتا کہ کو ن سا مال بہتر ہے تو ہم اسی کو لیتے تو حضورسید عالم انے فرمایا : بہترین دولت یاد الٰہی میں مشغول رہنے والی زبان اور شکر کرنے والا دل ہے اور مسلمان کی وہ بیوی جو اس کے ایمان پر مدد کرنے والی ہے۔ (احمد، ترمذی، ابن ماجہ )

میرے پیارے آقا ﷺکے پیارے دیوانو !آج کے دور کا انسان دنیا کی دولت کو سب سے بڑا خزانہ سمجھتا ہے۔ اور اسی کو جمع کرنے کی فکر میں لگا رہتا ہے اگر دولت نہ ملے تو شکوہ اور شکایت کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ انسان یہی سوچتاہے کہ دولت ہو اور فیشن پرست بیوی ہو تو گویاسب کچھ مل گیا لیکن ہمارے آقا ﷺ فرماتے ہیں بہترین مال و دولت یہ ہے کہ زبان ذکرالٰہی میں مشغول ہو اور ہر حال میں بندہ اپنے مولیٰ عزوجل کا شکر ادا کرتا ہو اور ایسی بیوی نصیب ہو جوتقاضائے ایمان پر مدد کرتی ہو۔ ماڈرن بیوی کی بجائے نیک سیرت بیوی کو تلاش کرنا چاہئے اور عورتوں کو بھی چاہئے کہ گناہوں کی طرف اپنے خاوند کو جانے سے روکیںاور ان کے اندر محبتِ رسول ا پیدا کریں اور خود بھی نیکیاں کریںاور اپنے شوہر کوبھی نیکیوں کی طرف مائل کریں۔ اللہ عزوجل ہم سب کو سرکار مدینہ ﷺ کے صدقہ وطفیل ذکر کرنے والی زبان اور شکر کرنے والا دل اور ایما ن کے تقاضوں پر مدد کرنے والی بیوی نصیب فرمائے۔

آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْکَرِیْمِ عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَ التَّسْلِیْمِ