🌷🌷 قرآن کریم کا بے مثال اسلوب🌷🌷

✍️ محمد حبیب اللہ بیگ ازہری

جامعہ اشرفیہ مبارک پور

28/ ذی القعدہ / 1441ھ قرآن اللہ کا کلام ہے، قرآن کے کلام الٰہی ہونے پر سب سے واضح دلیل اس کا منفرد اسلوب ہے، ائمہ تفسیر وبلاغت نے فرمایا کہ قرآن کریم کی ہر ایک آیت، بلکہ ہر آیت کا ہر ایک جز اس قدر موزوں ہے کہ اگر قرآن کریم کے کسے کلمے کو ہٹا کر اس کی جگہ دوسرا کلمہ رکھ دیا جائے تو کبھی وہ مفہوم ادا نہیں ہوسکتا جو قرآنی آیات سے ادا ہوتا ہے، علمائے کرام نے متعدد آیات کی روشنی میں اس حقیقت کو ثابت کیا ہے، ہم یہاں اس مسئلے کی وضاحت کے لیے ایک موضوع سے متعلق دو مقامات کی آیات پیش کرتے ہیں۔

سورہ نحل کی آیت نمبر 79 میں ہے:

أَلَمۡ یَرَوۡا۟ إِلَى ٱلطَّیۡرِ مُسَخَّرَ ٰ⁠تࣲ فِی جَوِّ ٱلسَّمَاۤءِ مَا یُمۡسِكُهُنَّ إِلَّا ٱللَّهُۚ إِنَّ فِی ذَ ٰ⁠لِكَ لَـَٔایَـٰتࣲ لِّقَوۡمࣲ یُؤۡمِنُونَ

کیا انھوں نے آسمان کی فضا میں مسخر پرندوں کو نہیں دیکھا، اللہ کے سوا انھیں کوئی روکنے والا نہیں، بے شک اس میں ایمان والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔

اور سورہ ملک کی آیت نمبر 19 میں ہے:

أَوَلَمۡ یَرَوۡا۟ إِلَى ٱلطَّیۡرِ فَوۡقَهُمۡ صَـٰۤفَّـٰتࣲ وَیَقۡبِضۡنَۚ مَا یُمۡسِكُهُنَّ إِلَّا ٱلرَّحۡمَـٰنُۚ إِنَّهُۥ بِكُلِّ شَیۡءِۭ بَصِیرٌ

کیا انھوں نے اپنے اوپر پرندوں کو پر سمیٹتے اور پھیلاتے نہیں دیکھا، رحمان کے سوا انھیں کوئی روکنے والا نہیں، بے شک اللہ ہر چیز کو دیکھنے والا ہے۔

ان دونوں آیات میں مشترکہ طور پر اس بات کا ذکر ہے کہ خالق کائنات فضاؤں میں پرواز کرتے پرندوں کو زمین پر گرنے سے روکے ہوئے ہے، لیکن سورہ نحل میں فرمایا کہ اللہ روکے ہوئے ہے، اور سورہ ملک میں فرمایا کہ رحمن روکے ہوئے ہے، ایک آیت میں اسم اعظم اللہ اور دوسرے میں اسم صفت رحمن ذکر کرنے کی وجہ کیا ہوسکتی ہے؟

بات در اصل یہ ہے کہ سورہ نحل میں اس بات کا ذکر ہے کہ فضاؤں میں پرواز کرتے پرندے اللہ کے حکم کے پابند ہیں، اور اس کے لیے مسخر ہیں۔

تسخیر کے لیے قدرت وغلبہ ضروری ہے، اور یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ سارا غلبہ واختیار اللہ ہی کے لیے ہے، اسی لیے فرمایا کہ اللہ انھیں روکے ہوئے ہے۔

اور سورہ ملک میں اس بات کا ذکر ہے کہ فضاؤں میں پرواز کرتے پرندے جب چاہتے ہیں اپنے پروں کو پھیلادیتے ہیں اور چاہتے ہیں سمیٹ لیتے ہیں، اور ظاہر سی بات ہے یہ ان پرندوں کے ساتھ اللہ رب العزت کی خصوصی عنایت و مہربانی ہے، اسی لیے فرمایا کہ رحمان انھیں روکے ہوئے ہے۔

ہماری اس گفتگو سے واضح ہوگیا کہ جہاں جو کلمہ موزوں تھا وہاں اسی کو ذکر گیا، سورہ نحل میں سیاق وسباق کا تقاضا یہ تھا کہ کلمہ جلالت اللہ ذکر کیا جائے، تو فرمایا کہ اللہ روکے ہوئے ہے، اور سورہ ملک میں سیاق وسباق کا تقاضا یہ تھا کہ اسم صفت رحمن ذکر کیا جائے تو فرمایا کہ رحمن روکے ہوئے ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔

ترسیل

انوار القرآن ٹرسٹ، مچھلی پٹنم، اے پی۔