نوبت یہاں تک کیوں پنہچی؟؟ ۔

۔

ہم اہلِ سنت وجماعت اِس خوش گمانی میں ہیں کہ پاکستان میں ہماری تعداد 80% فیصد ہے ۔

سوال یہ ہے کہ اِس 80% کو دیمک کیوں چاٹ گئی ؟

80% فیصد تعداد کے ہوتے ہوئے تمھارا ووٹ بینک کہاں ہے؟

80% فیصد ہونے کے باوجود نیشنل وصوبائی اسمبلیوں میں تمھاری نمائندگی کیوں نہیں ہے؟ ۔

۔

80%فیصد تعداد رکھنے کے باوجود تمھارے سامنے ضامن میراثی جیسے لوگ ناموسِ صحابہ پر دریدہ دہنی کیوں کرتے ہیں؟

80% تعداد کے باوجود تمھاری آواز بند کیوں ہے؟

میں تمھیں بتاتا ہوں تمھاری تعداد کو پراگندہ اور جمعیت کو منتشر کرنے والے کون لوگ ہیں ۔

نمبر 1

پیٹ پرست خطیب

کراچی تا کشمیر پیٹ پرست خطیبوں نے تمھارے تمام مذھبی جلسوں پر کنٹرول کیا ہوا تم چاہ کر بھی کسی سنجیدہ علمی شخصیت کو واعظ نہیں کروا سکتے ۔

اِن خطیبوں نے تمھارے اسٹیج، تمھارے مائیک کو استعمال کرتے ہوئے عوام کے اخلاق، کردار، عقائد بگاڑ کر رکھ دیئے ہیں ۔

انہی پیٹ پرست خطیبوں کی وجہ تمھاری جماعت کو گالی باز جماعت کہاجاتا ہے ۔

.

کیا تم نے کبھی کسی خطیب کو کسی سُنی دارالافتاء سے ٹیسٹ کرایا کہ یہ بندہ اسٹیج پر مذھبی نمائندگی کرنے کے قابل بھی ہے یا نہیں؟

.

نمبر 2

دو نمبر پیر ۔۔۔۔۔تمھاری جماعت میں دونمبر بہت گھس چکے ہیں تم نے اپنی سادہ لوحی کی وجہ بہت سارے چائنہ پراڈکٹس دونمبر مالوں کو اصلی سمجھ کر عوام کو اس کے حوالے کردیا اب وہ دو نمبر پیر تمھارے ہی سیدھے سادے سنیوں کے دل میں امام اہلِ سنت وعلمائے اہل سنت کی نفرت کا بیج پوچکے ہیں ۔

عوام کو تمھارے اکابرین سے متنفر کرچکے ہیں تمھیں اِس کا کچھ اندازہ بھی ہے؟

سندھ کے کئ جعلی پیر جن کا لنک تھانوی سے ملا ہوا ہے لیکن میلاد، عرس، گیارہویں کا بظاہر اہتمام کرکے اندرونِ خانہ عوام کے عقائد ونظریات کا بیڑا غرق کرچکے ہیں ۔

بہت سارے دونمبر پیر اٹھتے بیٹھتے تمھارے جیّد علمائے کرام کو ننگی گالیاں بکتے ہیں لیکن تم نے انہیں شہنشاہ ولایت کا ٹائٹل دے رکھا ہے تمھیں کچھ ہوش بھی ہے ؟؟؟۔

۔

آج اپنے مذہبی جلسوں کا حال دیکھو خطیب، نقیب، نعت خواں کیسے واہیاتی جملے کس کس کر تمھاری عوام کو گناہوں پر جری اور بے باک بنارہے ہیں ۔

پُل صراط پر گزرنے کے منظر اور قیامت کے دن کی منظر والی احادیث کو تمھارے کئ خطباء مذاق بناکر کہہ دیتے ہیں

“او مُلّا پل صراط اور قیامت کے خوف سے کسی اور کو ڈراؤ ہم علی والے ہیں، ہم ولیوں والے ہیں “۔

میں تم سے پوچھتا ہوں کبھی تم نے ایسے واہیاتی اور خطرناک جملے کسنے والے پیروں، خطیبوں، نعت خوانوں، نقیبوں کو روکا؟

انہیں کبھی ٹوکا؟ ۔

تم نے آنکھ بند کرکے ہر چیز ہضم کرنے کی عادت بنالی جس کا نتیجہ یہ نکلا دنیاوی پڑھے لکھے لوگ تجھ سے دور ہوگئے ۔

جماعت سے تعلق رکھنے والے عوام کی اکثریت جاہل رہی ۔

عقیدہ کی جگہ عقیدت نے جنم لیا نتیجہ تمھارے صفوں کی رونق ختم ہونے کو آگئیں ۔۔

۔

آج باطل فرقے والے تم ہر دل کھول کر ہنس رہے اور تمھارے اپنے تجھ سے بیگانے ہورہے ہیں۔

۔

اگر کوئی صاحب مطالعہ شخص تمھاری جماعت میں سُنیوں کا روپ دھارے کالی بھیڑوں کو ایکسپوز کرنے کی کوشش بھی کرتا ہے تم اُس مجاہد کو ہی شہید کردیتے ہو (مطلب اسے ذہنی ٹارچر کرتے ہو کہ تم ایسا نہ لکھو، ایسا نہیں بولو، اوہو یہ کیا کردیا وغیرہ جیسے پچھلے 20 دن سے میرے ساتھ ہورہا ہے )تو پھر بتاؤ تمھارے حالات سنبھلیں گے ؟؟؟

۔

سنبھل جاؤ اپنی جماعت کی نمائندی خود آگے بڑھ کر سنبھالو نمبر دو پیروں وپیٹ پرست خطیبوں سے اپنی جان چھڑاؤ ۔

علماء کی ایک خاص ٹیم منتخب کرو جو پیروں اور خطیبوں کے احوال چیک کرکے تمھیں بتاتا رہے ۔

اٹھو اے نبی کے وارثو! اگر آج بھی اپنا آپ نہیں سنبھالو گے تو پھر کب سنبھالو گے؟؟؟

تمھیں اِس نوبت تک پنہچانے میں خود تمھارا ہی قصور ہے ۔۔

تمھاری مسجدیں، تمھاری خانقاہیں ،مدارس اکثر کالی بھیڑوں کے قبضہ میں ہیں۔

اِن کالی بھیڑوں کو اپنے صفوں سے نکال باہر کرو ۔

اگر کم تعداد میں کچھ علماء مل کر یہ کام کریں گے تب بھی کامیابی ملنا ممکن ہے ۔

اللہ فرماتا ہے

کم من فئۃ قلیلۃ غلبت فئۃ کثیرۃ باذن اللہ ۔

۔

لیکن بات ساری یہاں آکر ختم ہوتی ہے

وہ فریب خوردہ شاہیں جو پَلا ہو کِرگسوں میں

اُسے کیا خبر کہ کیا ہے رہ ورسمِ شہبازی ۔

✍️ محمد عظیم عطاری

20/07/2020.