ولایت کے انواع

(تحریر: صاحبزادہ وجدان نوشاہی صاحب)

ولایتِ خاصہ کے چار نوع ہیں

ولایتِ محمدی ، اس کو ولایتِ احمدی بھی کہتے ہیں یہ کسب سے حاصل ہوتی ہے. یعنی سالک اتباع نبوی علیہ الصلوۃ والسلام میں نہایت کوشش کرے. ہر ایک کام میں خواہ دینی ہو یا دنیوی متابعتِ سنت کو ہاتھ سے نا چھوڑے غرضکہ اُس کی تمام صفات چلنا پھرنا اٹھنا بیٹھنا سونا جاگنا کھانا پینا بولنا چپ رہنا عین مطابقِ شریعت ہوں ان اوصاف کے متصف کو ولایتِ محمدی عطا ہوتی ہے.

یہ ولایت آیاتِ کریمہ قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ اور لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوہ حسنہ سے ثابت ہوتی ہے.

ولایتِ عشقی ، یہ ولایت اُس شخص کو ملتی ہے جو عشق حقیقی میں مست و مجنون ہو. دنیا و اہلِ دنیا سے نفور ، کھانے پینے ، مرنے جینے کی کچھ خبر نا ہو. نہ کسی سے نفرت ہو نا کسی سے الفت . نہ ہی راہ ارشاد ، نا طریقِ تعلیم ، غرضکہ الصوفی لا مذہب لہ کے مطابق ہو. ہر جگہ نورِ حقیقی کا مشاہدہ کرے . اس ولایت کے ولی سے فائدہ بالکل کم ہوتا ہے.

یہ ولایت آیات کریمہ ولا تطرد الذین یدعون ربھم بالغداوۃ والعشی یریدون وجھہ ما علیک من حسابہم من شئی وما من حسابک علیہم من شئی اور واصبر نفسک مع الذین یدعون ربہم بالغدواۃ والعشی یریدون وجھہ ولا تعد عینک عنہم سے ثابت ہوتی ہے.

ولایتِ روحی ، یہ ولایت وہ ہے جو بعض ارواحِ مقبول کو روزِ ازل میں عطا ہوئی. اس میں کسی کسب کا کوئی دخل نہیں. اس ولایت کا صاحب والدہ کے شکم سے ہی ولی پیدا ہوتا ہے. بچپن سے ہی خرق عادات اس سے ظاہر ہوتے ہیں اور طفولیت میں ہی اس پر اسرارِ حقانی منکشف ہوتے ہیں. اُس کی طبیعت برے کاموں سے فطرۃ نفور اور نیک کاموں کی طرف راغب ہوتی ہے. یہ ولی سنتِ نبوی کا کمال پیرو ہوتا ہے.

یہ ولایت آیاتِ کریمہ واتینہ الحکم صبیا اور سلم علیہ یوم ولد و یوم یموت و یوم یبعث حیا اور والسلام علی یوم ولدت ویوم اموت و یوم ابعث حیا سے ثابت ہوتی ہے.

ولایتِ وہبی. یہ ولایت وہ ہے جو ایک ولی کامل اپنے تصرف اور زورِ باطن سے کسی شخص کو اپنی طرف جذب کرے اور اپنی ایک ہی نظر کیمیا اثر سے بغیر کسی ریاضت و مجاہدہ کے اُس کے اوصافِ ذمیمہ کو مٹا کر اُس کا قلب آئینہ کی طرح مصفا کر دے. اور اپنی ولایت سے اس کو سرفراز فرماوے. یہ ولی دنیا و مافیہا سے مستغنی ہو جاتا ہے. اور ولی کامل کی ایک ہی توجہ سے اس کا دل مصدرِ انوار غیب ہو جاتا ہے.

یہ ولایت آیاتِ کریمہ ھوالذی بعث فی الامین رسولا منہم یتلواعلیہم ایتہ و یزکیہم و یعلمہ الکتب والحکمۃ اور ویعلمہم الکتب والحکمہ و یزکیہم سے ثابت ہوتی ہے.

بحوالہ: شریف التواریخ جلد اول

تصنیف: سید شریف احمد شرافت نوشاہی

ناشر: ادارہ معارف نوشاہیہ ساہن پال شریف

صفحہ: 51 اور 52