أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذۡ قَالَ لُقۡمٰنُ لِا بۡنِهٖ وَهُوَ يَعِظُهٗ يٰبُنَىَّ لَا تُشۡرِكۡ بِاللّٰهِ ‌ؕاِنَّ الشِّرۡكَ لَـظُلۡمٌ عَظِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

اور جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا اے میرے پیارے بیٹے ! اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا ‘ بیشک شرک کرنا ضرور سب سے بڑا ظلم ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا : اے میرے پیارے بیٹے ! اللہ کے ساتھ شریک نہ کرنا ‘ بیشک شرک کرنا ضرور سب سے بڑا ظلم ہے اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ‘ اس کی ماں نے کمزوری پر کمزوری برداشت کرتے ہوئے اس کو پیٹ میں رکھا ‘ اور اس کا دودھ چھڑانا دو برس میں ہے ( اور یہ کہ توض میرا شکرادا کرو اور اپنے والدین کا (تونے) میری ہی طرف لوٹنا ہے (لقمان : ١٤۔ ١٣)

حکیم لقمان کے بیٹے کا نام اور اسکا دین 

علامہ ابوالحسن علی بن محمد الماوردی المتوفی ٤٥٠ ھ لکھتے ہیں :

حکیم لقمان کے بیٹے کے متعلق تین قول ہیں کلبی نے کہا ان کے بیٹے کا نام مشکم تھا ‘ نقاش نے کہا ان کے بیٹے کا نام انعم تھا ‘ اور ایک قول یہ ہے کہ اس کے بیٹے کا نام با بان تھا ‘ حکیم لقمان نے جس وقت اپنے بیٹے کو یہ نصیحت کی اس وقت وہ مشرک تھا۔ (النکت والعیون ج ٤ ص ٣٣٣‘ مطبوعہ دارالکتب العملیہ بیروت)

علامہ اسماعیل حقی متوفی ١١٣٧ ھ لکھتے ہیں :

حکیم لقمان کا بیٹا اور اس کی بیوی دونوں کافر تھے ‘ حکیم لقمان ان دونوں کو مسلسل نصیحت کرتے رہے حتیٰ کہ وہ دونوں مسلمان ہوگئے ‘ اس کے برخلاف حضرت نوح (علیہ السلام) کا بیٹا اور ان کی بیوی مسلمان نہیں ہوئے تھے اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیٹیاں مسلمان ہوگئیں تھیں اور ان کی بیوی مسلمان نہیں ہوئی تھی۔ (روح البیان ج ٧ ص ٩٤‘ مطبوعہ داراحیاء لتراث العربی بیروت ‘ ١٤٢١ ھ)

علامہ آلوسی متوفی ١٢٧٠ ھ نے بھی حکیم لقمان کے بیٹے اور بیوی کے متعلق قول کو نقل کیا ہے۔ ( روح المعانی جز ٢١ ص ١٢٨ ذ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٧ ھ)

شرک کے ظلم عظیم ہونے کی توجیہ 

نیز فرمایا بیشک شرک کرنا ضرور سب سے بڑا ظلم ہے۔ اس میں اختلاف ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے یا حکیم القمان کا قول ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے نقل فرمایا ہے۔ شرک کو سب بڑا ظلم اس لیے فرمایا کہ ظلم کا معنی ہے کسی کا حق دوسرے کو دے دینا جو اس حق کا مستحق نہ ہو ‘ اور مستحق عبادت ماننا اللہ تعالیٰ کا حق ہے ‘ اسی طرح اللہ ہی کا یہ حق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے ‘ پس اگر مخلوق میں سے کسی کا حق دوسرے غیر مستحق کو دے دیا جائے تو یہ بھی ظلم ہے ‘ لیکن سب سے بڑا ظلم تو یہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کا حق ہے وہ کسی غیر مستحق کو دے دیا جائے اور اللہ تعالی کو چھوڑکر کسی اور مستحق عبادت مانا جائے اور اس کی عبادت کی جائے۔

اسی کی دوسری توجیہ اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ کی معصیت اور اس کی حکم عدولی کر کے انسان اپنی جان پر ظلم کرتا ہے اور اس وجہ سے انسان عذاب کا مستحق ہوتا ہے لیکن دائمی عذاب کا مستحق نہیں ہوتا سو یہ انسان کا اپنی جان پر ظلم ہے لیکن سب سے بڑا ظلم نہیں ہے ‘ اور جب انسان شرک کرتا ہے تو وہ دائمی عذاب کا مستحق ہوجاتا ہے ‘ لہٰذا شرک کرنا انسان کا اپنی جان پر سب سے بڑا ظلم کرنا ہے۔ حدیث میں ہے :

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی :

الذین امنوا ولم یلبسوآ ایما نہم بظلم اولئک لھم الامن وھم مھتدون (الانعام : ٨٢) جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ آلودہ نہیں کیا ان ہی کے لیے (عذاب سے) امن ہے اور وہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔

تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اصحاب نے کہا ہم میں سے کون ہے جو ظلم نہیں کرتا ‘ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :

ان الشرک لظلم عظیم (لقمان : ١٣) بیشک شرک ضرور سب سے بڑا ظلم ہے۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٢‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٢٤‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٠٦٨‘ السنن الکبریٰ رقم الحدیث : ١١٣٩٠)

لفظ عام سے عموم اور خصوص مراد لینے کا ضابطہ 

علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

صحابہ نے الانعام : ٨٢‘ میں عام کو اپنے عموم پر قرار دیا تھا ‘ اور ظلم سے ظلم کی تمام انواع کو مراد لیا تھا حتی کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد میں معمولی سی کمی کو بھی ظلم قرار دیا تھا اس لیے انہوں نے کہا ہم میں سے کون ظلم نہیں کرتا ‘ اور اس پر قرینہ یہ تھا کہ اس آیت میں نکرہ حیز نفی ہے ‘ اور نفی کے بعد نکرہ مفید عموم ہوتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اس آیت میں ظلم سے مراد اس کی خاص نوع ہے اور وہ شرک ہے کیونکہ وہ ظلم ظعیم ہے ‘ اور اس پر دلیل ہے کہ ظلم پر تنوین تعظیم کے لیے ہے اور اس سے مراد ظلم عظیم ہے۔ (عمدۃ القاری ج ١ ص ٣٤٢۔ ٣٤١‘ مطبوعہ دارالکتب العملیہ بیروت ‘ ١٤٢١ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 31 لقمان آیت نمبر 13