أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا لُقۡمٰنَ الۡحِكۡمَةَ اَنِ اشۡكُرۡ لِلّٰهِ‌ؕ وَمَنۡ يَّشۡكُرۡ فَاِنَّمَا يَشۡكُرُ لِنَفۡسِهٖ‌ۚ وَمَنۡ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِىٌّ حَمِيۡدٌ‏ ۞

ترجمہ:

اور بیشک ہم نے لقمان کو حکمت عطا فرمائی کہ تم اللہ کا شکرادا کرو ‘ اور جو شکر ادا کرتا ہے وہ اپنے ہی فائدہ کے لیے شکر ادا کرتا ہے ‘ اور جو ناشکری کرتا ہے تو اللہ بےنیاز ہے ‘ حمد کیا ہوا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور بیشک ہم نے لقمان کو حکمت عطا فرمائی کہ تم اللہ کا شکر اد اکرو ‘ اور جو شکر ادا کرتا ہے وہ اپنے ہی فائدہ کے لیے شکر ادا کرتا ہے ‘ اور جو ناشکری کرتا ہے تو اللہ بےنیاز ہے حمد کیا ہوا ہے (لقمان : ١٢)

حکیم لقمان کا تعارف 

امام ابو اسحاق احمد بن محمد بن ابراہیم الثعلبی النیشاپوری المتوفی ٧ ٤٢ ھ لکھتے ہیں :۔

امام الخاس اور امام محمد بن اسحاق نے لقمان کا نسب اس طرح بیان کیا ہے : لقمان باعوراء بن ناحور بن تارح ( تارح حضرت ابراہیم کے والد ہیں) ۔

اور سہیلی نے اس طرح بیان کیا ہے : لقمان بن عنقاء بن سرون۔ یہ ایلہ کے رہنے والے تھے۔

وہب بن منبہ نے کہا یہ حضرت ایوب کے بھانجے تھے ‘ مقاتل نے کہا یہ حضرت ایوب کے خالہ زاد بھائی تھے ‘ ایک قول یہ ہے کہ یہ آزر کی اولاد سے تھے ‘ یہ ایک ہزار سال زندہ رہے ‘ انہوں نے حضرت دائود (علیہ السلام) کا زمانہ پایا اور ان سے علم حاصل کیا ‘ حضرت دائود (علیہ السلام) کے اعلان نبوت سے پہلے فتویٰ دیا کرتے تھے ‘ جب حضرت دائود (علیہ السلام) منصب نبوت پر فائز ہوئے تو انہوں نے فتویٰ دینا بند کردیا۔

امام واقدی نے کہا لقمان بنی اسرائیل میں قاضی تھے ‘ سعید بن مسیب نے کہا لقمان مصر کے سیاہ فام حبشیوں میں سے تھے ان کے ہونٹ موٹے موٹے تھے ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکمت عطا کی اور نبوت کو ان سے روک لیا (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٧٥٣٠) اور جمہور علماء اور مفسرین کا مختار یہ ہے کہ لقمان ولی تھے اور نبی نہیں تھے ( اور حضرت خضر (علیہ السلام) نبی تھے اور صرف ولی نہ تھے) البتہ عکرمہ اور شعبی کا یہ قول ہے کہ لقمان نبی تھے ( تفسیر ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٧٥٣٥) اور صحیح یہ ہے کہ لقمان حکیم تھے ان کو اللہ تعالیٰ نے حکمت عطا کی تھی ‘ عقائد فقہ فی الدین اور عقل کے نزدیک یہی صحیح ہے ‘ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : لقمان بنی اسرائیل میں قاضی تھے ‘ سیاہ فام تھے ‘ دونوں پیر پھٹے ہوئے تھے اور موٹے موٹے ہونٹ تھے۔

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لقمان نبی نہ تھے لیکن وہ بہت غور و فکر کرنے والے بندے تھے۔ ان کا عقیدہ عمدہ تھا وہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنا محبوب بنا لیا ( الفردوس بما ثور الخطاب رقم الحدیث : ٥٣٨٤) اور ان کو یہ اختیار دیا کہ اللہ تعالیٰ ان کو ایسا خلیفہ بنادے جو حق کے ساتھ فیصلہ کرے ‘ تو انہوں نے کہا اے میرے رب جب تو نے مجھے اختیار دیا ہے تو میں عافیت کو قبول کرتا ہوں اور آزمائش کو تر کرتا ہوں اور اگر تو نے مجھے اپنا خلیفہ (نبی) بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے تو میں تیرا حکم سنوں گا اور تیری اطاعت کروں گا ‘ بیشک تو عنقریب میری حفاظت فرمائے گا ‘ فرشتوں نے لقمان سے پوچھا ( جب کہ وہ فرشتوں کی آواز سن رہے تھے اور ان کو دیکھ نہیں رہے تھے) اے لقمان اس کی کیا وجہ ہے ؟ انہوں نے کہا حاکم کا کام سب سے زیادہ سخت اور مشکل ہوتا ہے اس کو ہر طرف سے مظلوم گھیر لیتے ہیں۔ اگر وہ صحیح فیصلہ کرے تو نجات پا لیتا ہے اور اگر وہ خطاء کرے تو جنت کے راستہ سے خطا کرتا ہے ‘ اور جو شخص دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتا ہے اس کو دنیا ملتی ہے نہ آخرت ‘ فرشتوں کو ان کے کلام سے بہت تعجب ہوا پھر وہ سو گئے تو ان کو حکمت دی گئی اور جب وہ بیدار ہوئے تو حکمت کے ساتھ کلام کررہے تھے ‘ پھر اس کے بعد حضرت دائود کو ندا کی گئی تو انہوں نے خلافت کو قبول کرلیا اور انہوں نے لقمان کی طرح کوئی شرط عائد نہیں کی ‘ سو انہوں نے کئی مرتبہ فیصلہ میں (اجتہادی) خطاء کی اور ہر بار اللہ تعالیٰ نے ان سے درگزر فرمایا اور ان کو معاف فرما دیا اور لقمان ان کو اپنے علم اور حکمت سے مشورے دیتے تھے ‘ ان سے حضرت دائود (علیہ السلام) نے فرمایا اے لقمان تم کو مبارک ہو تم کو حکمت دی گئی اور تم سے آزمائش دور کردی گئی ہے ‘ حضرت دائود کو خلافت دی گئی اور ان کو آزمائش میں مبتلا کردیا گیا۔ (تاریخ دمشق الکبیر ج ٩ ١ ص ٦٢‘ رقم الحدیث : ٤١٣٩‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٤٢١ ھ ‘ تفسیرالثعالبی ج ٤ ص ٩ ٣١)

سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ لقمان درزی کا کام کرتے تھے۔(الکشف والبیان ج ٧ ص ٣١٤‘ الجامع الاحکام القرآن جز ١٤ ص ٥٧۔ ٥٥‘ تفسیر ابن کثیر ج ٣ ص ٤٨٦۔ ٤٨٥)

امام عبدالرحمن بن محمد بن ادریس ابن ابی حاتم الرازی المتوفی ٣٢٧ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

قتادہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے لقمان کو حکمت اور نبوت کے درمیان اختیار دیا تو انہوں نے نبوت کے مقابلہ میں حکمت کو اختیار کیا جس وقت وہ سوئے ہوئے تھے ان کے پاس جبریل آئے اور ان پر حکمت القاء کردی ‘ وہ صبح حکمت کے ساتھ کلام کررہے تھے ‘ ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے نبوت کے مقابلہ میں حکمت کو کیوں اختیار کیا ‘ حالانکہ آپ کو آپ کے رب نے اختیار دیا تھا ‘ انہوں نے کہا اگر اللہ تعالیٰ مجھے بلا اختیار نبوت عطا فرماتا تو مجھے امید تھی کہ میں فرائض نبوت کی ادائیگی میں کامیاب رہتا ‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا تو مجھے خطرہ ہوا کہ شاید میں بار نبوت کو نہ اٹھا سکوں تو پھر میرے نزدیک حکمت زیادہ پسندیدہ ہوئی۔ (رقم الحدیث : ١٧٥٣٣)

وہب بن منبہ سے سوال کیا گیا آیا : لقمان (علیہ السلام) نبی تھے ؟ انہوں نے کہا نہیں ان کی طرف وحی نہیں کی گئی لیکن وہ نیک شخص تھے۔ (تفسیر ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٧٥٣٤)

حکمت کے معانی ‘ اس کی تعریفات اور اس کے اطلاقات 

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا حکمت سے مراد عقل ‘ فہم اور ذہانت ہے ‘ الفریابی ‘ امام احمد ‘ امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم نے مجاہد سے روایت کیا ہے : عقل ‘ فقہ اور درست بات کہنا حکمت ہے ‘ امام راغب اصفہانی نے کہا موجودات کی معرفت اور نیکیوں کا کام حکمت ہے ‘ امام رازی نے کہا علم کے مطابق عمل کی توفیق حکمت ہے ‘ ابوالحیان اندلسی نے کہا : جس کلام سے نصیحت حاصل ہو اور انسان اس کلام سے متنبہ ہو ‘ اور لوگ اس کلام کو نقل کریں وہ حکمت ہے ‘ ایک قول ہے علم اور عمل میں پختگی حکمت ہے ‘ ایک اور قول یہ ہے کہ علوم نظریہ کے حصول کے بعد نفس کے کمال کا حصول اور بہ قدر طاقت اچھے کاموں کے کرنے کی مہارت ‘ یہ حکمت ہے ‘ اور حکماء نے کہا بہ قدر طاقت بشریہ ‘ واقع کے مطابق حقائق اشیاء کی معرفت یہ حکمت ہے ‘ حکمت کی اور بھی بہت تعریفیں ہیں۔ ( روح المعانی جز ٢١ ص ١٢٦۔ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٧ ھ)

بعض علماء نے کہا حکمت یہ ہے کہ انسان کو اس چیز کی معرفت ہو کہ کون سی چیز اس کے لیے مفید ہے اور کون سی چیز اس کے لیے مضر ہے ‘ مفسرین نے کہا حکمت یہ کہ انسان کو احکام شرعیہ کی معرفت ہو ‘ محدثین نے کہا وہ نور جس سے الہام اور وسوسہ میں فرق ہو وہ حکمت ہے یا یا سرعت کے ساتھ صحیح جواب دینا حکمت ہے ‘ یا بصیرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی معرفت ہو ‘ نفس کی اصلاح کا علم ہو اور اس کے تقاضے پر عمل کرے اور نفس کے بگاڑ اور فساد سے بچے یہ حکمت ہے ‘ صوفیاء نے کہا نفس اور شیطان کی آفات کی معرفت حکمت ہے ‘ یا ایسی قوت عقلیہ عملیہ جو چالاکی اور حماقت کے درمیان متوسط ہو۔

قرآن مجید میں حکمت کا اطلاق حسب ذیل معانی پر کیا گیا ہے :

نصیحت پر : حکمۃ با لغۃ فما تغن النذر (القمر : ٥) یہ جامع نصیحت ہے ‘ پس عذاب سے ڈرانے والی آیات نے ( ان کو) کوئی فائدہ نہیں پہنچایا۔ (القمر : ٥)

سنت پر : ویعلمکم الکتب والحکمۃ (البقرہ : ١٥١) وہ تم کو قرآن و سنت کی تعلیم دیتے ہیں۔

عقل و فہم پر : ولقد اتینا لقمن الحکمۃ (لقمان : ١٢) اور ہم نے لقمان کو عقل اور فہم عطا کی۔

نبوت پر : واتینہُ الحکمۃ وفضل الخطاب (ص : ٢٠) اور ہم نے دائود کو نبوت عطا کی تھی اور مقدمات کے فیصلہ کی صلاحیت۔

حکمت کا اطلاق دلائل پر ‘ عام فہم مثالوں پر ‘ ثواب کی بشارت دینے اور عذاب سے ڈرانے پر بھی لیا گیا ہے ‘ جیسا کہ اس آیت میں ہے :

ادع الی سبیل ربک بلحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ (النحل : ١٢٥) دلائل دے کر ‘ مثالوں سے سمجھاکر اور ثواب کی بشارت دے کر اللہ کے راستہ کی دعوت دیجئے۔

علوم قرآن اور تفقہ فی الدین پر :

یؤ تی الحکمۃ من یشآء ج ومن یؤت الحکمۃ فقد اوتی خیرا کثیرا۔ (البقرہ : ٢٦٩) اللہ جس کو چاہتا ہے حکمت عطا فرماتا ہے ‘ اور جس کو حکمت عطا کی گئی اس کو خیر کثیر عطا کی گئی۔

ذہانت ‘ فقہ ‘ علم ‘ سکون ‘ اور اطمینان ‘ غور و فکر اور بصیرت ‘ ان سب پر حکمت کا اطلاق کیا جاتا ہے اور حماقت ‘ طیش ‘ عجلت ‘ خواہش کی پیروی ‘ غفلت ‘ جہالت اور غباوت یہ سب حکمت کی ضد ہیں۔

حکیم لقمان کی حکمت آمیز باتیں 

امام ابو اسحاق احمد بن محمد بن ابراہیم الثعلبی النیشاپوری المتوفی ٤٢٧ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی کا لقمان کے پاس سے گزر ہوا اور لوگ اس کے گرد جمع تھے ‘ اس نے کہا تم وہ سیاہ فام شخص نہیں ہو جو فلاں علاقے میں بکریاں چرایا کرتا تھا ‘ لقمان نے کہا ‘ ہاں ! کیوں نہیں ! اس نے پوچھا پھر تم کو یہ حکمت اور دانائی کیس ملی ؟ انہوں نے کہا سچ بولنے سے ‘ امانت داری سے اور فضول اور غیر متعلق باتوں کو چھوڑنے سے۔

سفیان بیان کرتے ہیں کہ لقمان سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں سب سے بدتر کون ؟ لقمان نے کہا وہ شخص جس کو اس کی پروانہ ہو کہ لوگ اس کو برا کام کرتے ہوئے دیکھ لیں گے ! اور لقمان سے کہا گیا کہ تم کتنے بدصورت ہو ! لقمان نے کہا تم نقش میں عیب نکال رہے ہو یا نقاش میں ؟ (الکشف والبیان ج ٧ ص ٣١٨۔ ٣١٦‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٤٢٢ ھ)

علامہ سید محمود آلوسی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں :

اے بیٹے ! یہ دنیا گہرا سمندر ہے اور اس میں بہت لوگ غرق ہوچکے ہیں ‘ تم اس میں خوف خدا کو ‘ ایمان اور احکام شرعیہ کو اور اللہ پر توکل کو اپنی کشتی بنا لو تو نجات پالو گے ‘ ورنہ مجھے تمہاری نجات کی توقع نہیں ‘ جو شخص اپنے آپ کو نصیحت کرتا ہے تو اللہ اس کی حفاظت فرماتا ہے ‘ جو شخص خود اپنے نفس کے ساتھ انصاف کرتا رہے تو اللہ اس کی عزت بڑھاتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں ذلت اٹھانا اس کی معصیت میں عزت سے بہتر ہے ‘ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اللہ تم کو اپنی رحمت سے مایوس نہیں کے گا ‘ جو آدمی جھوٹ بولتا ہے اس کے چہرے کی رونق جاتی رہتی ہے ‘ جس آدمی کا خلق اچھا نہیں ہوتا اس کی پریشانیاں بڑھ جاتی ہیں ‘ کسی چٹان کو اپنی جگہ سے منتقل کرنا کسی بیوقوف کو مسئلہ سمجھانے سے زیادہ آسان ہے ‘ میں نے بھاری چیزوں کو برادشت کیا لیکن بد اخلاق پڑوسی سے زیادہ ناقابل برداشت کوئی چیز نہیں ‘ جنازوں میں جائو اور شادیوں میں نہ جائو ‘ کیونکہ جنازہ تم آخرت کی یاد دلائے گا اور شادی تم میں دنیا کی خواہش پیدا کرے گی ‘ شکم سیری سے زیادہ کھانے سے بہتر ہے کہ تم فالتو کھانا کتے کو ڈال دو ‘ اتنے میٹھے نہ بنو کہ نگل لیے جائو اور اتنے کڑوے نہ بنو کہ اگل دیئے جائو ‘ اپنا کھانا متقی لوگوں کو کھلائو اور اپنے معاملات میں علماء سے مشورے کرو ‘ جب تک تم علم کے تقاضے پر عمل نہ کرو تمہارے علم حاصل کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ‘ اس کی مثال اس طرح ہے جیسے کوئی شخص لکڑیوں کا ایک بھاری گٹھا اٹھا لے اور اس کو اتارنے سے پہلے ایک اور گٹھا اٹھا لے ‘ اس کو بوجھ سے ہاپننے کے سوا اور کچھ حاصل نہیں ہوگا ‘ تم لوگوں سے اچھی باتیں کرو اور کشادہ روئی اور ہنستے چہرے کے ساتھ ان سے ملاقات کرو تو لوگوں کے محبوب بن جائو گے ‘ تم لوگوں سے اس طرح ملو جیسے تم کو ان سے کوئی غرض نہیں ہے ‘ لوگوں سے اپنی تحسین وہی بات کرو جو تمہارے لیے مفید ہو۔ (روح المعانی جز ٢١ ص ١٢٧۔ ١٢٦‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٧ ھ)

ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حکمت آمیز احادیث 

ہم نے اس سے پہلے حکیم لقمان کی حکمت آمیز باتوں کا ذکر کیا ہے ‘ اب ہم چاہتے ہیں کہ ہم اپنے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چند ایسی احادیث ذکر کریں جو سراسر حکمت ہیں ‘ فنقول وباللہ التوفیق و بہ الا ستعانۃ یلیق :

(١) حضرت نعمان بن بشیر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حلال ظاہر ہے اور حرام ظاہر ہے ‘ اور ان کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں جن کو زیادہ تر لوگ نہیں جانتے ‘ سو جو شخص مشتبہ چیزوں سے بچا اس نے اپنے دین اور اپنی عزت کو محفوظ کرلیا ‘ اور جس شخص نے مشتبہ چیزوں میں ہاتھ ڈال دیا اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو سرکاری چراگاہ کے گرد اپنے جانورچراتا ہے ‘ خطرہ ہے کہ اس کے جانور سرکاری چراگاہ میں گھس جائیں گے ‘ سنو ہر بادشاہ کی ایک خاص چراگاہ ہوتی ہے ‘ اور اس زمین میں اللہ کی چراگاہ اس کی حرام کی ہوئی چیزیں ہیں ‘ اور سنو جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے ‘ جب وہ درست ہو تو پورا جسم درست ہوتا ہے اور جب وہ خراب ہو تو پورا جسم خراب ہوجاتا ہے ‘ سنو وہ دل ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٢‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٥٩٩‘ سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٣٣٢٩‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٢٠٥‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٤٤٥٣‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٩٨٤‘ مسند احمد رقم الحدیث : ١٨٥٥٨‘ عالم الکتب بیروت)

(٢) حضرت سہل بن سعد (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص اس چیز کا ضامن ہوجائے جو اس کے دو جبڑوں کے درمیان ہے (یعنی زبان) اور اس چیز کا ضامن ہوجائے جو اس کی دو ٹانگوں کے درمیان ہے ( یعنی فرج) تو میں اس کے لیے جنت کا ضامن ہوں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٤٧٤)

(٣) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سات آدمیوں پر اللہ اس دن اپنا سایہ کرے گا جس دن اس کے سائے کے سوا اور کسی کا سایہ نہیں ہوگا (١) امام عادل (٢) وہ شخص جو اپنے رب کی عبادت کرتے ہوئے جوانی کو پہنچا (٣ ض وہ شخص جس کا دل مساجد میں لٹکا رہتا ہے (٤) وہ دو آدمی جو اللہ کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہوں ‘ وہ اللہ کی محبت میں ملتے ہوں اور اللہ کی محبت میں الگ ہوتے ہوں (٥) وہ شخص جس کو ایک اقتدار والی اور حسن و جمال والی عورت نے گناہ کی دعوت دی اور اس نے کہا میں اللہ سے ڈرتا ہوں (٦) وہ آدمی جس نے چھپا کر صدقہ دیا حتیٰ کہ اس کے بائیں ہاتھ کو پتا نہیں چلا کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے (٧) وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٦٠‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٠٣١‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٩١)

(٤) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص اللہ پر اور آخرت پر ایمان لایا ‘ وہ اچھی بات کہے یاخاموش رہے اور جو شخص اللہ پر اور آخرت پر ایمان لایا ہو وہ اپنے پڑوسی کو ایذاء نہ پہنچائے اور جو شخص اللہ پر اور آخرت پر ایمان لایاہو وہ اپنے مہمان کی تکریم کرے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٤٧٥‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٤٧ )

(٥) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (کامل) مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور (کامل) مہاجر وہ ہے جو ان چیزوں سے ہجرت کرے ( دور رہے) جس سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٠‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٤٠‘ مسند احمد رقم الحدیث : ٦٥١٥‘ عالم الکتب)

(٦) حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے کہ ایک شخص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا اسلام کا کون سا وصف سب سے افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا ہر واقف اور ناواقف کو کھانا کھلائے اور سلام کرے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٢‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٣٩‘ سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٥١٩٤‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٥٠٠٠‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٢٥٣ )

(٧) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میری تمام امت معاف کردی جائے گی سوا ان کے جو علانیہ گناہ کرنے والے ہوں گے ‘ اور علانیہ گناہ یہ ہے کہ ایک آدمی رات کو کوئی گناہ کرتا ہے اور جب وہ صبح اٹھتا ہے تو اللہ نے اس کے گناہ پر پردہ کیا ہوتا ہے اور وہ شخص خود اپنا پردہ فاش کر کے کسی کو کہتا ہے کہ اے فلاں شخص رات کو میں نے یہ یہ کام کیے تھے ‘ حالانکہ رات کو اس کے رب نے اس پر ستر کیا ہوا تھا اور وہ صبح کو اللہ کا کیا ہوا پردہ فاش کردیتا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٠٦٩‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٩٩٠)

(٨) حضرت ابو ایوب انصاری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ تین دن سے زیادہ اپنے بھائی سے ترک تعلق رکھے ‘ جب وہ راستہ میں ملیں تو ایک اس طرف منہ موڑلے اور دسرا اس طرف منہ موڑلے ‘ اور ان دونوں میں افضل وہ شخص ہے جو سلام کرنے میں پہل کرے۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٠٧٧‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٥٦٠‘ سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٩١١‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٩٣٢)

(٩) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص کو یہ پسند ہو کہ اس کے رزق میں کشادگی کی جائے اور اس کی عمر بڑھائی جائے وہ رشتہ داروں میں میل جول رکھے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٩٨٥‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٥٩٧‘ سنن ابو دائود رقم الحدیث : ١٦٩٣)

(١٠) حضرت عبد اللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مسلمان ‘ مسلمان کا بھائی ہے ‘ اس پر ظلم کرے نہ اس کو بےعزت کرے ‘ اور جو اپنے بھائی کی حاجت پوری کرنے میں رہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی حاجت پوری کرنے میں رہتا ہے ‘ اور جو شخص کسی مسلمان سے کسی مصیبت کو دور کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی مصیبتوں میں سے کوئی مصیبت دور فرمادے گا ‘ اور جو شخص کسی مسلمان کا پردہ رکھتا ہے ‘ تو قیامت کے دن اللہ اس کا پردہ رکھے گا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٤٤٢‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٥٨٠‘ سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٨٩٣‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٤٢٦‘ السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث : ٧٢٩١)

(١١) حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم ‘ صحابہ نے کہا یا رسول اللہ ! ہم مظلوم کی مدد تو کرتے ہیں ظالم کی کیسے مدد کریں ‘ آپ نے فرمایا تم اس کے ہاتھوں کو پکڑ لو ‘(یعنی اس کو ظلم نہ کرنے دو ) (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٤٤٤‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٢٥٥‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٥١٦٧ )

(١٢) حضرت معاذ بن جبل (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا میں تم کو ہر کام کے رئیس اور اس کے ستون اور اس کے کوہان کی بلندی کی خبر نہ دوں ‘ میں نے کہا کیوں نہیں یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا تمام کاموں کا رئیس اسلام ہے اور اس کا ستون نماز ہے اور اس کے کوہان کی بلندی جہاد ہے ‘ پھر فرمایا کیا میں تم کو ان تمام چیزوں کے مدار کی خبر نہ دوں ! میں نے کہا کیوں نہیں ! اے اللہ کے نبی ! آپ نے اپنی زبان کو پکڑ کر فرمایا : تم اس کو روک کر رکھو ‘ میں نے کہا اے اللہ کے نبی ! ہم جو کچھ باتیں کرتے ہیں کیا اس کی وجہ سے ہماری گرفت کی جائے گی ؟ آپ نے فرمایا : اے معاذ ! تمہیں تمہاری ماں روئے ! جو چیز لوگوں کو دوزخ میں مونہوں کے بل یا نتھنوں کے بل گرائے گی وہ ان کی زبانوں کی کاٹی ہوئی فصل ہی تو ہے۔

امام ترمذی نے کہا یہ حدیث ‘ حسن صحیح ہے۔ ( سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٦١٦‘ مسند احمد ج ٥ ص ٢٤٨ )

(١٣) حضرت ابو کبثہ الانماری (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں تین چیزوں کی قسم کھاتا ہوں ‘ جو بندہ صدقہ دے گا اس کا مال کم نہیں ہوگا ‘ جس بندہ پر ظلم کیا جائے اور وہ اس پر صبر کرے تو اللہ عزوجل اس کی عزت میں اضافہ کرتا ہے ‘ اور جو شخص سوال کا دروازہ کھولتا ہے اللہ اس پر فقر کا دروازہ کھول دیتا ہے ‘ اور میں تم کو ایک حدیث بیان کرتا ہوں تم اس کو حفظ کرلو ‘ دنیا صرف چار آدمیوں کے لیے ہے ‘ ایک وہ بندہ جس کو اللہ تعالیٰ نے مال اور علم دیا ہو اور وہ اس میں اپنے رب سے ڈرتا ہو ‘ اور اس میں صلہ رحم کرتا ہو ‘ اور اللہ تعالیٰ کے لیے برحق کام کرتا ہو ‘ یہ منازل میں سب سے افضل ہے ‘ اور ایک وہ بندہ جس کو اللہ تعالیٰ نے علم دیا ہو اور مال نہ دیا ہو اور وہ صدق نیت سے یہ کہے کہ اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں اس سے فلاں کام کرتا تو اس کو اپنی نیت سے اجرملے گا اور وہ دونوں اجر میں برابر ہیں ‘ اور ایک وہ بندہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہے اور علم نہیں دیا اور وہ اس مال کو خرچ کرنے میں مخبوط الحواس ہے ‘ اپنے رب سے ڈرتا ہے نہ صلہ رحم کرتا ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کے لیے برحق کام کرتا ہے تو یہ منازل میں سب سے اخبث ہے ‘ اور ایک وہ بندہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہے نہ علم دیا ہے اور وہ کہتا ہے کہ اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں اس سے فلاں (برا) کام کرتا ‘ جیسے فلاں نے کام کیا ہے تو اس کو اس کی نیت کے اعتبار سے گناہ ہوگا اور یہ دونوں گناہ برابر ہیں۔ (جمع الجوامع رقم الحدیث : ١٠٧٤٠‘ الترغیب للمنذری ج ١ ص ٥٨‘ کنزالعمال رقم الحدیث : ٦١٨٩‘ ٤٣٢٣٢‘ کامل ابن عدی ج ٥ ص ١٧٨٢)

(١٤) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تین چیزیں ایسی ہیں کہ ان کی سنجیدگی بھی سنجیدگی اور مذاق بھی سنجیدگی ہے ‘ نکاح ‘ طلاق ‘ طلاق اور طلاق سے رجوع کرنا۔ (سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٢١٩٤‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ١١٨٤‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٠٣٩‘ المستدرک ج ٢ ص ١٩٧‘ مشکوۃ رقم الحدیث : ٣٢٨٤‘ سنن سعید بن منصور رقم الحدیث : ١٦٠٣)

(١٥) حضرت نافع بن الحارث (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کہ دنیا میں مسلمان شخص کی سعادت سے تین خصلتیں ہیں : نیک پڑوسی ‘ وسیع گھر اور اچھی سواری ( کنزالعمال رقم الحدیث : ٤٣٢٣٤‘ جمع الجوامع رقم الحدیث : ١٠٧٤٦ )

(١٦) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تین دعائیں قبول ہوتی ہیں ‘ روزہ دار کی دعا ‘ مظلوم کی دعا اور مسافر کی دعا۔ (سنن ابو دائود رقم الحدیث : ١٥٣٦‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٩٠٥‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٨٦٢‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٢٤٠٦‘ کنزالعمال رقم الحدیث : ٣٣٢٠‘ ٣٣٢٢‘ الترغیب والترہیب ج ٤ ص ٨٤)

(١٧) حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تین کاموں میں کسی ایک شخص کے لیے بھی رخصت نہیں ہے ‘ والدین کے ساتھ نیکی کرنا خواہ وہ مسلمان ہوں یا کافر ‘ عہد کو پورا کرنا ‘ خواہ مسلمان سے عہد ہو یا کافر سے ‘ امانت کو ادا کرنا ‘ خواہ مسلمان کی امانت ہو یا کافر کی۔ (جمع الجوامع رقم الحدیث : ١٠٧٦٠ ذ کنزالعمال رقم الحدیث : ٤٣٧٩١) 

(١٨) حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تین چیزیں ایمان کے اخلاق میں سے ہیں جب کوئی شخص غضب میں آئے تو وہ غضب کی وجہ سے کوئی ناجائز کام نہ کرے اور جب کوئی شخص خوش ہو تو خوشی کی وجہ سے وہ حق سے تجاوز نہ کرے اور جب کسی شخص کو اقتدار ملے تو وہ کوئی ناجائز کام نہ کرے۔ ( مجمع الزوائد ج ١ ص ٥٩‘ اتحاف ج ٨ ص ٢٦‘ کنزالعمال رقم الحدیث : ٤٣٢٢٥ )

(١٩) حضرت عمار بن یاسر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تین چیزیں ایمان سے ہیں ‘ تنگ دستی میں خرچ کرنا ‘ عام لوگوں کو سلام کرنا اور اپنے نفس سے انصاف کرنا۔ (مجمع الزوائد ج ١ ص ٥٦‘ جمع الجوامع رقم الحدیث : ١٠٧٦٥‘ کنزالعمال رقم الحدیث : ٨٨۔ ٤٣١٢٩۔ ٤٣٢٣٦)

(٢٠) حضرت فضالہ بن عبید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تین قسم کے لوگ فقر میں مبتلا ہونے والے ہیں : ایسا امام کہ تم اس کے ساتھ نیکی کرو تو وہ شکر نہ کرے ‘ اگر تم غلطی کرو تو وہ معاف نہ کرے ‘ اور ایسا پڑوسی کہ اگر وہ اچھائی دیکھے تو اس کو چھپائے اور اگر وہ کوئی برائی دیکھے تو اسکا چر چا کرے ‘ اور ایسی بیوی کہ اگر تم حاضر ہو تو وہ تم کو ایذاء پہنچائے اور اگر تم اس سے غائب ہو تو وہ تمہاری خیانت کرے۔ (جمع الجوامع رقم الحدیث : ١٠٧٦٨‘ کنزالعمال رقم الحدیث : ٤٣٧٨٥)

(٢١) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص کو تین اوصاف دیئے گئے گویا کہ اس کو آل دائود کے اوصاف دیئے گئے جو غصہ اور خوشی کی حالت میں عدل کرے ‘ فقر اور غنا کے حال میں میانہ روی سے رہے ‘ اور خلوت اور جلوت میں اللہ سے ڈرتا ہو۔ ( جمع الجوامع رقم الحدیث : ١٠٧٧١‘ کنزالعمال رقم الحدیث : ٤٣٢٢٤ )

(٢٢) حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے تین چیزوں کی حفاظت کی وہ میرا برحق دوست ہے اور جس نے ان تین چیزوں کو ضائع کیا وہ میرا برحق دشمن ہے ‘ نماز ‘ روزہ ‘ اور جنابت۔ (مجمع الزوائدج ١ ص ٢٩٣‘ جمع الجوامع رقم الحدیث : ١٠٧٧٥‘ کنزل العمال رقم الحدیث : ٤٣٢٢١ )

( ٢٣) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص میں تین خصلتیں ہوں وہ ابدال میں سے ہے : وہ تقدیر پر راضی ہو ‘ جن چیزوں کو اللہ نے حرام کیا ہے ان پر صبر کرے اور اللہ عزوجل کی ذات کی وجہ سے غضب ناک ہو۔ (اتحاف ج ٨ ص ٣٨٦‘ جمع الجوامع رقم الحدیث : ١٠٧٨٩‘ کنزالعمال رقم الحدیث : ٣٤٥٩٩)

( ٢۴)حضرت معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص میں تین خصلتیں ہوں وہ ابدال میں سے ہے وہ تقدیر پر راضی ہو جن چیزوں کو اللہ نے حرام کیا ہے ان پر صبر کرے  اور اللہ عزوجل کی ذات کی وجہ سے غضب ناک ہو ۔ اتحاف جمع الجوامع کنز العمال ۔

(٢٥) حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص میں تین خصلتیں ہوں وہ منافق ہے ‘ خواہ وہ روزے رکھے ‘ نماز پڑھے ‘ حج کرے اور عمرہ کرے اور یہ کہے کہ میں مسلمان ہوں ‘ وہ شخص جو بات کرے تو جھوٹ بولے ‘ جب وعدہ کرے تو اس کے خلاف کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس کے خلاف کرے۔ (مسند احمدج ٢ ص ٥٣٦‘ سنن کبری ج ٦ ص ٢٨٨‘ مجمع الزوائد ج ١ ص ١٠٨‘ مصنف ابن ابی شیبہ ج ٨ ص ٤٠٦‘ حلیۃ الا ولیاء ج ٦ ص ٢٥٥‘ الترغیب للمنذری ج ٣ ص ٥٩٤‘ تاریخ بغداد ج ١٣ ص ٤٣٧‘ جمع الجوامع رقم الحدیث : ١٠٧٩٠‘ کنزالعمال رقم الحدیث : ٨٥٥ )

(٢٦) حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تین چیزوں میں تاخیر مت کرو ‘ وقت آنے کے بعد نماز کی ادائیگی میں ‘ جنازہ آنے کے بعد نماز جنازہ پڑھنے میں ‘ جب کفو مل جائے تو بےنکاح عورت کا نکاح کرنے میں۔ ( جمع الجوامع رقم الحدیث : ١٠٨٠١‘ المستدرک ج ٢ ص ١٦٢ )

(٦٧) حسن بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بندہ سے تین چیزوں کا حساب نہیں لیا جائے گا : وہ جھونپڑی جس میں وہ سایا حاصل کرے ‘ وہ روٹی کا ٹکڑا جس کو اپنی کمر قائم رکھنے کے لیے کھائے ‘ وہ کپڑا کا ٹکڑا جس سے وہ اپنا ستر ڈھانپے۔ (جمع الجوامع رقم الحدیث : ١٠٨٠٥)

(٢٨) حضرت ثوبان (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تین کاموں کا کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ہے ‘ ایک آدمی کسی قوم کا امام ہو اور وہ صرف اپنے لیے دعا کرے ‘ اگر وہ ایسا کرے گا تو ان کی خیانت کرے گا ‘ اجازت طلب کرنے سے پہلے کسی کے گھر میں نہ جھانکے اگر اس نے ایسا کیا تو وہ ان کے گھر میں داخل ہوگیا ‘ اس حال میں نماز نہ پڑھے کہ وہ پیشاب یا پاخانہ کو روک رہا ہو۔ (سنن ابو دائودرقم الحدیث : ٤٣٩٠‘ مشکوٰۃ رقم الحدیث : ١٠٧٠ ذ الترغیب للمنذری ج ٣ ص ٤٣٧‘ کنزالعمال رقم الحدیث : ٢٠٣٩٨)

(٢٩) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تین قسم کی آنکھوں کو دوزخ کا عذاب نہیں چھوئے گا ‘ وہ آنکھ جو اللہ کی راہ میں نکال دی گئی ‘ وہ آنکھ جو اللہ کی راہ کی حفاظت میں بیدار رہی ‘ وہ آنکھ جو اللہ کے عذاب کے ڈر سے روئی۔ (المستدرک ج ٢ ص ٨٢‘ الترغیب ج ٢ ص ٢٥٠‘ جمع الجوامع رقم الحدیث : ١٠٨١٧‘ کنزالعمال رقم الحدیث : ٤٣٢٣٨)

(٣٠) حضرت ابن مسعود (رض) بیان کرتے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سب سے بڑی حکمت اللہ تعالیٰ کا خوف ہے۔ (شعب الایمان ج ١ ص ٧٤٤‘ الفردوس للہ یلمی ج ٢ ص ٣٠٧٧‘ کنزالعمال رقم الحدیث : ٥٨٧٣‘ الجامع الصغیر رقم الحدیث : ٤٣٦١‘ اس کی سند صحیح ہے)

(٣١) حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دین کا رئیس حکم پرہیزگاری ہے۔ (الکامل لابن عدی ج ٢ ص ١٥٥‘ الجوامع رقم الحدیث : ١٢٣٢٩‘ الجامع الصغیر رقم الحدیث : ٤٣٦٣ )

(٣٢) حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایمان باللہ کے بعد عقل کا بڑا تقاضا لوگوں سے محبت کرنا ہے اور ہر نیک اور بد کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ہے۔ اس حدیث کی سند ضعیف ہے۔ (المعجم الاوسط رقم الحدیث : ٦٠٦٧‘ حلیۃ الاو لیاء ج ٣ ص ٢٠٦‘ جمع الجوامع رقم الحدیث : ١٢٣٣١‘ الجامع الصغیر رقم الحدیث : ٤٣٦٤ )

(٣٣) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ایمان باللہ کے بعد عقل کا بڑا تقاضا لوگوں کے ساتھ نرم گفتگو کرنا ہے ‘ دنیا کے نیک لوگ آخرت میں بھی نیک ہوں گے اور دنیا کے برے لوگ آخرت میں بھی برے ہوں گے۔ اس حدیث کی سند ضعیف ہے۔ ( مصنف ابن ابی شیبہ ج ٦ ص ١٠٢‘ جمع الجوامع رقم الحدیث : ١٢٣٣٤‘ الجامع الصغیر رقم الحدیث : ٤٣٧٠)

(٣٤) حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ایمان باللہ کے بعد عقل کا بڑا تقاضا حیاء اور اچھے اخلاق ہیں۔ اس حدیث کی سند حسن ہے۔ (مسند الفردوس للہ یلمی ج ٢ رقم الحدیث، ٣٠٧٦‘ جمع الجوامع رقم الحدیث : ١٢٣٣٥‘ الجامع الصغیر رقم الحدیث : ٤٣٧١‘ کنزالعمال رقم الحدیث : ٥٧٧٥)

(٣٥) حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے نیک بیوی دی تو اس کے نصف دین پر اس کی اعانت کردی اب اس کو باقی نصف دین میں اللہ سے ڈرنا چاہیے ‘ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ (المستدرک ج ٢ ص ١٦١‘ شعب الایمان رقم الحدیث : ٥٤٨٧‘ الجامع الصغیر رقم الحدیث : ٨٧٠٤)

(٣٦) حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو آدمی قلیل رزق پر اللہ سے راضی ہوجائے ‘ اللہ قلیل عمل پر اس سے راضی ہوجاتا ہے ‘ اس حدیث کی سند ضعیف ہے۔ (شعب الایمان الحدیث : ٤٥٨٥‘ الجامع الصغیر رقم الحدیث : ٨٧٠٤)

(٣٧) حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو اللہ سے راضی ہوجائے تو اللہ اس سے راضی ہوجاتا ہے۔ اس کی سند ضعیف ہے۔ (الجامع الصغیر رقم الحدیث : ٨٧٠٦‘ کنزالعمال رقم الحدیث : ٥٩٥٦ )

(٣٨) حضرت ہشام بن عامر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مسلمان پر کفر کی تہمت لگانا اس کو قتل کرنے کی مثل ہے۔ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٦٣٦ صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٦٥٢‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١١٠‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٣٨١٢‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٠٩٨‘ المعجم الکبیر ج ٢٢ ص ٤٦٠ )

(٣٩) حضرت حبشی بن جنادہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے بغیر فقر کے سوال کیا ‘ وہ گویا انگارے کھارہا ہے۔ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ ( مسند احمد ج ٤ ص ١٦٥‘ صحیح ابن خزیمہ ج ٤‘ رقم الحدیث : ٢٤٤٦‘ کنزالعمال رقم الحدیث : ١٦٧٢٩‘ الجامع الصغیر رقم الحدیث : ٨٧٣٠)

(٤٠) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص سے کسی چیز کے علم کا سوال کیا گیا اور اس نے اس کو چھپالیا اس کے منہ میں آگ کی لگام ڈالی جائے گی۔ اس حدیث کی سند حسن ہے۔ ( سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٣٦٥٨‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٦٤٩‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٦٦‘ المستدرک ج ١ ص ١٠١‘ الجامع الصغیر رقم الحدیث : ٨٧٣٢)

حکیم لقمان کے حکمت آمیز کلمات ذکر کرنے کے بعد میں نے چاہا کہ ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حکمت آمیز احادیث کا بھی ذکر کروں ‘ سو میں نے اس نوع کی چالیس احادیث ذکر کیں ‘ حالانکہ اس نوع کی احادیث کی تعداد بہت زیادہ ہے ‘ بلکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تمام احادیث حکمت آمیز ہیں اور آپ کی کوئی حدیث حکمت سے خالی نہیں ہے ‘ لیکن میں نے چالیس احادیث پہنچانے کی بشارت میں دخول اور شمول کی نیت سے یہ چالیس احادیث ذکر کی ہیں چالیس احادیث کو پہچانے کی بشارت کی احادیث میں نے تفصیل سے تبیان القرآن ج ٤ ص ١٨٤۔ ١٨٣ میں ذکر کی ہیں تبرکا اور تیمناً ایک حدیث کا یہاں بھی ذکر کر رہا ہوں :

حضرت ابو الدرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے میری امت کو ان کے دین کے متعلق چالیس حدیثیں پہنچائیں ‘ اللہ اس کو اس حال میں اٹھائے گا کہ وہ فقیہ ہوگا اور میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں گا اور اس کے حق میں گواہی دوں گا۔ حافظ سیوطی نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے۔

(شعب الایمان رقم الحدیث : ١٧٢٥‘ تاریخ دمشق الکبیر ج ٥٤ ص ١١١‘ رقم الحدیث : ١١٣٣٨‘ المطالب العالیہ رقم الحدیث : ٣٠٧٦‘ الکامل فی ضعفاء الرجال ج ١ ص ٣٢٤‘ الجامع الصغیر رقم الحدیث : ٨٦٣٧‘ جمع الجوامع رقم الحدیث : ٢٠٥٦٣‘ ٢٠٥٦٢‘ کنزالعمال رقم الحدیث : ٢٨٨١٧۔ ٢٩١٨٢‘ مشکوٰۃ رقم الحدیث : ٢٥٨‘ لعلل المتناہیہ ج ا ص ١١٨‘ البدایہ والنہایہ ج ٨ ص ٣١٠)

میں نے شفاعت کی امید پر شرح صحیح مسلم اور تبیان القرآن میں متعد موضوعات پر چالیس حدیثیں جمع کی ہیں۔ اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شفاعت سے حظ وافر عطا فرمائے اور اپنی مغفرت سے نوازے۔

(آمین)

حکیم لقمان کو شکر کرنے کی تلقین 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حکیم لقمان سے فرمایا : تم اللہ کا شکر ادا کرو اور جو شکر ادا کرتا ہے وہ اپنے ہی فائدہ کے لیے شکر ادا کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو اللہ بےنیاز ہے حمد کیا ہوا ہے۔ (لقمان، ١٢)

اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لقمان سے فرمایا کہ تم اللہ کا شکر ادا کرو ‘ اور زجاج نے اس کی تفسیر میں کہا اس کا معنی ہے کہ ہم نے لقمان کو حکمت عطا کی کہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے ‘ اور ایک تفسیر یہ ہے کہ لقمان کی حکمت ہی تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا تھا ‘ شکر کا معنی ‘ حمد اور شکر کا فرق ‘ شکر کے متعلق قرآن مجید کی آیات اور شکر کے متعلق احادیث اور آثار وغیرہ دیگر مباحث ہم تبیان القرآن ج ٦ ص ١٥٢۔ ١٤٦ میں بیان کرچکے ہیں۔

نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور جو شکر ادا کرتا ہے تو وہ اپنے ہی فائدہ کے لیے شکرادا کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو اللہ بےنیاز ہے حمد کیا ہوا ہے یعنی جو اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اطاعت کرتا ہے تو وہ اپنے ہی اجر وثواب کے لیے کرتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی نا شکری کرتا ہے یعنی اس کو واحد نہیں مانتا اور اس کے احکام کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان سے بےنیاز ہے وہ خود اپنی صفات پر حمد کرتا ہے ‘ فرشتے حمد کرتے ہیں ‘ انبیاء (علیہم السلام) اور نیک بندے حمد کرتے ہیں ‘ اس کی مزید تفصیل کے لیے تبیان القرآن ج ٦ ص ١٥٣۔ ١٥٢ کا مطالعہ فرمائیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 31 لقمان آیت نمبر 12