أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَوَصَّيۡنَا الۡاِنۡسٰنَ بِوَالِدَيۡهِ‌ۚ حَمَلَتۡهُ اُمُّهٗ وَهۡنًا عَلٰى وَهۡنٍ وَّفِصٰلُهٗ فِىۡ عَامَيۡنِ اَنِ اشۡكُرۡ لِىۡ وَلِـوَالِدَيۡكَؕ اِلَىَّ الۡمَصِيۡرُ ۞

ترجمہ:

اور ہم نے انسان کو والدین کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ‘ اس کی ماں نے کمزوری پر کمزوری برداشت کرتے ہوئے اس کو پیٹ میں رکھا اور اس کا دودھ چھڑانا دو برس میں ہے ( اور یہ کہ تو) میرا شکر ادا کر اور اپنے والدین کا (تونے) میری ہی طرف لوٹنا ہے

ماں کے ساتھ زیادہ نیکی کرنے کی وجوہات 

اس کے بعد فرمایا : اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا۔ (لقمان : ١٤)

اس سے پہلی آیت میں شرک کی ممانعت فرمائی تھی ‘ اور عبادت کے قریب اطاعت ہے ‘ تو بتایا کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے بعد والدین کی اطاعت ہے ‘ اور اگر والدین مشرک بھی ہوں پھر بھی ان کی خدمت اور اطاعت کی جائے گی لیکن اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی میں والدین یا کسی کی بھی اطاعت نہیں کی جائے گی اس وقت ان کے احکام کی خلاف ورزی کرنا واجب ہے۔

نیز فرمایا : اس کی ماں نے کمزوری پر کمزوری برداشت کرتے ہوئے اس کو پیٹ میں رکھا ‘ اور اس کا دودھ چھڑانا دو برس میں ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ماں کے تین درجے بیان فرمائے ‘ اس نے کمزوری پر کمزوری برداشت کی ‘ اس کو پیٹ میں رکھا ‘ اور اس کو دودھ پلایا ‘ اس وجہ سے ماں کو باپ پر تین درجہ فضیلت حاصل ہے ‘ اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی ماں کی تین درجہ زیادہ فضیلت بیان فرمائی ہے۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آکر عرض کیا میرے حسن خدمت کا سب سے زیادہ کون مستحق ہے ؟ آپ نے فرمایا : تمہاری ماں ‘ کہا پھر کون ہے ؟ فرمایا تمہاری ماں ‘ کہا پھر کون ہے ؟ فرمایا تمہاری ماں ‘ کہا پھر کون ہے فرمایا تمہارا باپ۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٩٧١‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٥٤٨‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٧٠٦)

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا میں نے جہاد کی خواہش رکھتا ہوں لیکن اس پر قدرت نہیں رکھتا ‘ آپ نے پوچھا کیا تمہارے والدین میں سے کوئی ایک زندہ ہے ؟ اس نے کہا میری ماں زندہ ہے ! آپ نے فرمایا تم ماں کے ساتھ نیکی کرو یہی اللہ کی راہ میں قتال ہے ‘ جب تم یہ کر لوگے حج کرنے والے ‘ عمرہ کرنے والے ہو اور جہاد کرنے والے ہو۔ ( المعجم الاوسط رقم الحدیث : ٤٤٦٣‘ مطبوعہ مکتبہ المعارف ریاض ‘ ١٤١٦ ھ)

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدم میں حاضر ہوا اور پوچھا یا رسول اللہ ! میں نے یہ نذر مانی تھی کہ اگر اللہ نے آپ کے لیے مکہ فتح کردیا تو میں بیت اللہ میں جاکر اس کی نچلی چوکھٹ کو بوسہ دوں گا ‘ آپ نے فرمایا : تم اپنی ماں کے قدم کو بوسہ دے دو ‘ تمہاری نذر پوری ہوجائے گی۔ ( اس حدیث کو تمام نے روایت کیا ہے ‘ عمدۃ القاری ج ٢٢ ص ١٢٩‘ دارالکتب العملیہ بیروت ‘ ١٤٢١ ھ)

حضرت ابن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے پوچھا یارسول اللہ ! میرے اہل و عیال بھی ہیں ‘ میرا باپ ہے ‘ میری ماں ہے ‘ میرے حسن سلوک کا ان میں سے کون سب سے زیادہ مستحق ہے ؟ آپ نے فرمایا تمہاری ماں اور تمہارا باپ اور تمہاری بہت اور تمہارا بھائی ‘ پھر جو تمہارے زیادہ قریب ہو پھر جو تمہارے زیادہ قریب ہو۔ ( المعجم الاوسط رقم الحدیث : ٥٧٢٤‘ مکتبہ المعارف ریاض ١٤١٦ ھ)

حضرت معاویہ بن جاہمہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آکر پوچھا یا رسول اللہ ! میں اللہ کی رضا جوئی اور آخرت کے اجرو ثواب کی طلب کے لیے آپ کے ساتھ جہاد کرنا چاہتا ہوں ‘ آپ نے فرمایا تم پر افسوس ہے ! کیا تمہاری ماں زندہ ہے ؟ میں نے کہا جی ہاں ! آپ نے فرمایا واپس جائو اور اپنی ماں کے ساتھ نیکی کرو ‘ میں پپ کے پاس پھر دوسری جانب سے آیا اور میں نے آپ سے دوبارہ وہی سوال کیا ‘ آپ نے فرمایا واپس جائو اور اپنی ماں کے ساتھ نیکی کرو ‘ جب تیسری بار اسی طرح سوال کیا تو آپ نے فرمایا تم پر افسوس ہے اپنی ماں کے پیروں کے پاس لازم رہو۔ اس حدیث کی سند صحیح یا حسن ہے۔ ( سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٧٨١‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٣١٠٤‘ مسند احمد ج ٣ ص ٤٢٩‘ المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٨١٦٢‘ مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٥٧٢٤‘ جامع الاصول رقم الحدیث : ١٩٧‘ مجمع الزوائد ج ٨ ص ١٣٨)

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جنت مائوں کے قدموں کے نیچے ہے۔ اس حدیث کی سند حسن ہے۔ ( القضاعی ج ١ ص ١١٩‘ الجامع للخطیب ج ٢ ص ٢٨٩‘ جمع الجوامع رقم الحدیث : ١١١٢٢‘ الجامع الصغیر رقم الحدیث : ٣٦٤٢‘ کنز العمال رقم الحدیث : ٤٥٤٣٩‘ ج ١٦ ص ٤٦١ )

علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں :

ماں کا حق باپ کے حق پر مقدم ہے ‘ کیونکہ حمل ‘ وضع حمل اور دودھ پلانے کی مشقت اور صعوبت صرف ماں اٹھاتی ہے باپ نہیں اٹھاتا ‘ اسی وجہ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ماں کے تین درجہ کے بعد باپ کا ذکر کیا ‘ اس پر علماء کا اجماع ہے کہ نیکی کرنے میں اور اطاعت کرنے میں ماں کا مرتبہ اور حق باپ سے زیادہ ہے ‘ ماں اگر بلائے تو نفل نماز توڑ دینا مستحب ہے ‘ فرض نماز کو نہیں ‘ اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں ماں ‘ باپ یا کسی بھی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں ہے۔ (عمدۃ القاری ج ٢٢ ص ١٢٩‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤٢١ ھ)

والدین کے ساتھ نیکی کرنے کی وجوہات 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ میرا شکر ادا کرو کیونکہ میں نے تم کو وجود عطا کیا اور خلق ‘ اور اللہ کا شکر ادا کرنا اس کی تعظیم ‘ تکبیر اور عبادت اور اطاعت سے ہوگا ‘ اور ماں باپ کا شکرادا کرو کیونکہ وہ اس دنیا میں تمہارے ظہور کا سبب ہیں اور ان کا شکر ان کی توقیر ان کی خدمت اور ان پر شفقت سے ہوگا ‘ اللہ تعالیٰ نے اپنے شکر کو انسان کے والدین کے شکر کے ساتھ ملا کر ذکر کیا ہے کیونکہ انسان کے وجود کا حقیقی سبب اللہ تعالیٰ ہے اور اس کے وجود کا مجازی سبب اس کے والدین ہیں ‘ اور انسان کو جس واسطے سے نعمت ملی ہے جب تک اس کا شکر ادا نہ کیا جائے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں ہوتا۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو لوگوں کا شکر اد انہیں کرتا وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔ ( سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٩٥٤‘ سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٨١١ ذ مسند احمد ج ص ٢٥٨‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٣٤٠٧)

سفیان بن عیینہ نے کہا جس نے پانچ وقت کی نماز پڑیں پڑھیں اس نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کردیا اور جس نے نمازوں کے بعد ماں باپ کے لیے دعا کی اس نے ماں باپ کا شکر ادا کردیا ‘ علامہ آلوسی نے کہا یہ اللہ تعالیٰ کی بعض نعمتوں کا شکر ہے اسی طرح ماں باپ کے احسانات کا شکر ہے۔ (روح المعانی جز ٢٢ ص ١٣١‘ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٧ ھ)

حضرت ابو بردہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں مدینہ آیا تو میرے پاس حضرت عبد اللہ بن عمر (رض) آئے ‘ انہوں نے کہا کیا تم جانتے ہو کہ میں تمہارے پاس کیوں آیا ہوں ؟ میں نے کہا نہیں ! انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص اپنے باپ کے ساتھ اس کی قبر میں صلہ رحم کرنا چاہتا ہو وہ اپنے باپ کے بعد اس کے بھائیوں کے ساتھ صلہ رحم کرے ‘ اور بات یہ ہے کہ میرے باپ حضرت عمر (رض) اور تمہارے باپ کے درمیان اخوت اور دوستی تھی اس لیے میں نے صلہ رحم کرنا پسند کیا۔ اس حدیث کی سند صحیح ہے اور امام بخاری کی شرط کے موافق ہے۔ (صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٤٣٢‘ المطالب العالیہ رقم الحدیث : ٢٥١٨)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے جمعہ کی شب بارہ رکعات نماز پڑھی اور اس میں ہر کعت میں ایک بار سورة فاتحہ پڑھی اور پانچ بار آیت الکرسی پڑھی اور پانچ بار سورة اخلاص پڑھی اور پانچ پانچ بار سورة فلق اور سورة الناس پڑھی اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد پندرہ بار استغفار کیا ‘ اور اس کا ثواب اپنے والدین کو پہنچادیا تو اس نے اپنے والدین کا حق ادا کردیا خواہ ان کا نافرمان ہو اور اللہ تعالیٰ اس کو صدیقین اور شہداء کا ثواب عطا فرمائے گا۔ ( احیاء علوم الدین ج ١ ص ١٨٩‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٩ ھ)

حافظ عراقی نے اس کے حاثیہ میں لکھا ہے اس حدیث کو ابو موسیٰ المدینی اور ابو منصور الدیلمی نے مسند الفردوس میں روایت کیا ہے اور اس کی سند بہت ضعیف ہے۔

سید محمد بن محمد الزبیدی متوفی ١٢٠٥ ھ لکھتے ہیں :

یہ حدیث قوت القلوب اور مسند الفردوس میں ہے اور اس کی سند بہت ضعیف ہے۔

(اتحاف السادۃ المتقین ج ٣ ص ٣٨١‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٤١٤ ھ)

ہر چند کہ اس حدیث کی سند ضغیف ہے لیکن فضائل اعمال میں اس پر عمل کیا جاسکتا ہے ‘ اس حدیث میں فوت شدہ رشتہ داروں کو ایصال ثواب کا بھی ثبوت ہے۔ والدین کے حقوق کے بارے میں ہم البقرہ : ٨٣‘ النساء ٣٦‘ الانعام : ٥١ اور العنکبوت : ٨ میں زیادہ تفصیل سے لکھ چکے ہیں۔

اساتذہ اور علماء کی تعظیم اور ان کے حقوق کے متعلق قرآن مجید کی آیات 

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

ان اشکر لی ولوالدیک (لقمان : ١٤) یہ کہ تو میرا شکرادا کر اور اپنے والدین کا۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی متوفی ١٣٤٠ ھ لکھتے ہیں :

پیر و استاد علم دین کا مرتبہ ماں باپ سے زیادہ ہے وہ مربی بدن ہیں اور یہ مربی روح ‘ جو نسبت روح سے بدن کو ہے ‘ وہ نسبت استاذ و پیر سے ماں باپ کو ہے جیسا کہ علامہ شرنبلالی نے غنیۃ ذوی الاحکام میں اس کی تصریح کی ہے ‘ قرآن عظیم میں ماں باپ کا ذکر فرمایا یہ نہیں فرمایا کہ ان کے برابر کسی کا حق نہیں بلکہ وہ آیہ کریمہ (ان اشکرلی ولوالدیک) جس میں اپنے شکر کے ساتھ والدین کے شکر کو فرمایا ‘ مربیان دین کا مرتبہ ماں باپ سے بہت زائد ہونے کی طرف اشارہ فرماتی ہے۔ ظاہر ہے کہ تربیت دین نعمت عظمی ہے اور اس کا شکر قطعاً فرض مگر ان کا شکر بعینہ شکر الہٰی عزوجل ہے اس واسطے انہیں ان اشکرلی (میرا شکرادا کرو) میں داخل فرمایا ان کے بعد والدین کا ذکر ارشاد ہوا ‘ ورنہ والدین کا حق نبی سے بھی بڑھ جائے گا کہ یہاں جس طرح استاذ و پیرکا ذکر نہیں نبی کا بھی ذکر نہیں۔ (فتاویٰ رضویہ ج ٢۔ ١٠ ص ١٤١‘ دارالعلوم امجدیہ ‘ کتبہ رضویہ کراچی ‘ ١٤١٢ ھ)

حضرت موسیٰ کا حضرت خضر سے حصول تعلیم کے لیے ادب سے درخواست کرنا 

قال لہ موسیٰ ھل اتبعک علی ان تعلمن مما علمت رشدا قال انک لن تستطیع معی صبرا وکیف تصبر علی ما لم تحط بہ خبرا قال ستجدنی ان شآء اللہ صابرا ولآ اعصی لک امرا قال فان اتبعتنی فلا تسئلنی عن شیء حتی احدث لک منہ ذکرا (الکہف : ٧٠۔ ٦٦ )

موسی نے کہا آیا میں اس شرط پر آپ کی پیروی کروں کہ آپ کو جو رشد و ہدایت کا علم دیا گیا ہے آپ اس علم میں سے مجھے بھی کچھ تعلیم دیں اس بندہ نے کہا آپ میرے ساتھ ہرگز صبر نہ کرسکیں گے اور آپ اس چیز پر کیسے صبر کرسکتے ہیں جس کا آپ کے علم نے احاطہ نہیں کیا موسیٰ نے کہا آپ انشاء اللہ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے اور میں آپ کے حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا اس بندہ نے کہا اگر تم میری پیروی کرو گے تو مجھ سے کسی چیز کے متعلق اس وقت تک سوال نہ کرنا جب تک میں خود اس کا ذکر نہ کروں (الکہف : ٧٠۔ ٦٦ )

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انتہائی لطیف پیرائے میں کہا آیا میں آپ کی پیروی کروں ‘ اس طریقہ سے سوال کرنے میں انتہائی ادب احترام ہے اور استاذ کو اپنے سے بہت بلند مقام پر فائز کرنا ہے ‘ جیسا کہ اس حدیث میں ہے :

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ یحییٰ نے حضرت عبداللہ بن زید (رض) سے کہا کیا آپ مجھے دکھا سکتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کس طرح وضو کرتے تھے ؟ الحدیث 

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٨٥‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٣٥‘ سنن ابو دائود رقم الحدیث : ١١٨‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٢‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٩٨۔ ٩٧‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٣٤‘ صحیح ابن خزیمہ رقم الحدیث : ١٥٥‘ شرح السنہ رقم الحدیث : ٢٢٤ )

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی درخواست میں ادب کی وجوہ 

حضرت موسیٰ نے جو یہ کہا تھا : آیا میں اس شرط پر آپ کی پیروی کروں کہ آپ کو جو رشدو ہدایت کا علم دیا گیا ہے آپ اس علم سے مجھے بھی تعلیم دیں ‘ اس قول میں ادب کی حسب ذیل وجوہ ہیں :

(١) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے آپ کو حضرت خضر (علیہ السلام) کا تابع قرار دیا ‘ کیونکہ انہوں نے کہا آیا میں آپ کی اتباع کروں۔

(٢) حضرت خضر کی اتباع کرنے میں حضرت موسیٰ نے ان سے اجازت طلب کی گویا کہ انہوں نے یوں کہا کیا آپ مجھے اس کی اجازت دیتے ہیں کہ میں آپ کی اتباع کروں ‘ اور اس میں بہت زیادہ تواضع ہے۔

(٣) کیا میں حصول تعلیم کے لیے آپ کی اتباع کروں ‘ اس قول میں اپنے لیے عدم علم کا اور اپنے استاذ کے لیے علم کا اعتراف ہے۔

(٤) انہوں نے کہا آپ کو جو رشدو ہدایت کا علم دیا گیا ہے آپ اس میں سے مجھے بھی (کچھ) تعلیم دیں ‘ یہ من تبعیض کے لیے ہے یعنی انہوں نے یہ طلب کیا آپ کو جو علم دیا گیا ہے آپ اس میں سے مجھے بعض کی تعلیم دیں گویا کہ انہوں نے کہا میرا یہ سوال نہیں ہے کہ آپ مجھے علم میں اپنے برابر کردیں ‘ بلکہ میرا مطالبہ یہ ہے کہ آپ اپنے علم کے اجزاء میں سے چند اجزاء مجھے بھی عطا کردیں جیسا کہ فقیر غنی سے کہتا ہے کہ تم اپنے مال کے اجزاء میں سے چند اجزاء مجھے عطا کردو۔

(٥) انہوں نے کہا آپ کو جو اللہ کا علم دیا گیا ہے آپ اس میں سے مجھے عطا کردیں گویا کہ وہ اللہ کے طلب گار تھے۔

(٦) حضرت موسیٰ نے کہا آپ کو جو اللہ کا علم دیا گیا ہے ‘ اس میں یہ اعتراف ہے کہ آپ کو اللہ نے علم عطا کیا ہے۔

(٧) انہوں نے یہ کہا آپ کو جو علم دیا گیا ہے آپ اس میں سے مجھے علم دیں یعنی آپ میرے ساتھ وہ معاملہ کریں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا ہے ‘ اس میں یہ اشارہ ہے کہ مجھے تعلیم دینے سے آپ کا مجھ پر اسی طرح انعام ہوگا جس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ پر انعام کیا ہے ‘ اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ جس شخص نے مجھ کو ایک حرف کی بھی تعلیم دی میں اس کا بندہ اور غلام ہوں۔

(٨) متابعت کا معنی یہ ہے کہ تابع اس وجہ سے وہ کام کرے کہ متبوع نے وہ کام کیا ہے اگر متبوع وہ کام نہ کرتا تو وہ اس کام کو نہ کرتا جیسے ہم کعبہ کی طرف منہ کر کے صرف اس لیے نماز پڑھتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی ہے اگر آپ اس کی طرف منہ کر کے نماز نہ پڑھتے تو ہم بھی اس کی طرف منہ کر کے نماز نہ پڑھتے ‘ اسی طرح استاذ کی اتباہ کرنے کا معنی یہ ہے کہ تلمیذ استاذ کے کیے ہوئے کام کو صرف اس وجہ سے کرے گا کہ وہ کام اس کے استاذ نے کیا ہے اس طرح اتباع کرنے میں اول امر سے اس بات کا اقرار ہے کہ وہ استاذ کے کسی کام پر اعتراض نہیں کرے گا۔

(٩) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مطلقاً کہا آیا میں آپ کی پیروی کروں اس کا مطالب یہ ہے کہ انہوں نے تمام کاموں میں حضرت خضر کی اتباع کرنے کی درخواست کی کسی خاص کام کے ساتھ اتباع کو مقید نہیں کیا۔

(١٠) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حضرت خضر نے ابتدائً پہچان لیا تھا کیونکہ انہوں نے کہا آپ بنی اسرائیل کے موسیٰ ہیں گویا انہوں نے جان لیا تھا یہ وہی نبی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے بلاواسطہ شرف کلام سے نوازا ہے اور ان کو کثیر معجزات عطا فرمائے اس کے باوجود حضرت موسیٰ نے اتنی وجوہ سے تواضع کی اس سے معلوم ہوا کہ جس کا مرتبہ جتنا زیادہ ہوتا ہے وہ اہل علم کے سامنے اتنی زیادہ تواضع کرتا ہے اور ان کا اتنا زیادہ ادب اور احترم کرتا ہے۔

(١١) حضرت موسیٰ نے کہا آیا میں آپ کی اتباع کروں کہ آپ مجھے تعلیم دیں ‘ پہلے انہوں نے اپنی اتباع پیش کی اس کے بعد انہوں نے ان سے حصول تعلیم کو طلب کیا ‘ گویا ادب کا تقاضا یہ ہے کہ پہلے استاذ کی خدمت کرو پھر اس سے علم طلب کرو۔

(١٢) انہوں نے کہا آیا میں اس بناء پر آپ کی اتباع کروں کہ آپ مجھے تعلیم دیں۔ یعنی انہوں نے اس اتباع کا کوئی معاوضہ طلب نہیں کیا بجزا اس کے وہ ان کو تعلیم دیں۔

حضرت خضر کے تعلیم دینے سے احتراز کی توجیہ 

اس کے بعد فرمایا : اس بندہ نے کہا آپ میرے ساتھ ہرگز صبر نہ کرسکیں گے اور آپ اس چیز پر کیسے صبر کرسکتے ہیں جس کا آپ کے علم نے احاطہ نہیں کیا 

متعلم کی دو قسمیں ہیں ایک وہ ہے جس نے پہلے بالکل کچھ نہ پڑھا ہو ‘ ظاہر ہے استاذ اس کے سامنے مسئلہ کی جو بھی تقریر کرے گا اس کا شاگرد اس کو بلاچون و چرا تسلیم کرلے گا ‘ دوسری قسم وہ ہے جس نے پہلے کچھ پڑھا ہوا ہو اور اس کو اپنے پڑھے لکھے ہوئے پر مکمل اعتماد اور یقین ہو ‘ یہ شخص استاذ کی اس بات کو تسلیم کرے گا جو اس کے پڑھے ہوئے کے مطابق ہوگی اور جو اس کے مخالف ہوگا اس کے قبول کرنے میں اس کو تامل ہوگا اور اس پر وہ اعتراض کرے گا ‘ حضرت خضر (علیہ السلام) کو علم تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تشریع کے نبی ہیں اور جو بات ظاہر شرع کے مخالف ہوگی اس پر وہ اعتراض کریں گے ‘ جب کہ حضرت خضر (علیہ السلام) تکوین کے نبی تھے اور ان کو معلوم تھا کہ ان کے کئی کام ظاہر شریعت کے خلاف ہوں گے اور ان پر حضرت موسیٰ اعتراض کریں گے اور اس طرح تعلیم اور تعلم کا یہ سلسلہ زیادہ دیر نہیں چل سکے گا ‘ اس لیے انہوں نے پیش بندی کے طور پر پہلے ہی کہہ دیا کہ آپ میرے ساتھ ہرگز صبر نہ کرسکیں گے اور آپ اس چیز پر کیسے صبر کرسکتے ہیں جس کا آپ کے علم نے احاطہ نہیں کیا۔

حضرت موسیٰ نے کہا آپ انشاء اللہ عنقریب مجھے صبر کرنے والا پائیں گے اور میں آپ کے حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا۔

اس پر یہ اعتراض ہے کہ صبر کا تعلق تو مستقبل کے ساتھ ہے اور ان کو معلوم نہیں تھا کہ مستقبل میں صبر ہوسکے گا یا نہیں اس لیے اس کے ساتھ انشاء اللہ کہنا صحیح ہے ‘ لیکن حضرت خضر کی نافرمانی نہ کرنے کا عزم تو انہوں نے اسی وقت کرلیا تھا اس کے ساتھ انشاء اللہ کہنا صحیح نہ تھا ‘ کیونکہ اسی چیز کے ساتھ انشاء اللہ کہا جاتا ہے جس کا حصول غیر یقینی ہو ‘ اس سے معلوم ہوا کہ ان کا اس وقت معصیت نہ کرنے کا عزم نہیں تھا ورنہ وہ اس کے ساتھ انشاء اللہ نہ ملاتے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ اس وقت بھی ان کا عزم تھا کہ وہ معصیت نہیں کریں گے یعنی اپنے مقصد اور ارادہ سے ان کی معصیت نہیں کریں گے لیکن ہوسکتا ہے کہ وہ بھول جائیں یا ان سے خطا سرزد ہوجائے اور اس پر وہ قادر نہیں تھے کہ وہ نسیان اور خطا کو روک لیں اور انہوں نے حضرت خضر پر جو اعتراضات بھی کئے تھے وہ نسیان ہی کی وجہ سے کیے تھے۔

اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ امر کا تقاضا و جوب ہے کیونکہ حضرت موسیٰ نے فرمایا میں آپ کے امر کی معصیت نہیں کروں گا۔ قرآن مجید میں ہے :

ومن یعص اللہ ورسولہ فان لہ نار جھنم۔ (الجن : ٢٣) اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے تو اس کے لیے جہنم کی آگ ہے۔

اور یہ حضرت موسیٰ کی طرف سے بہت زیادہ تواضع ہے اور بہت بڑے تحمل اور حوصلہ کا اظہار ہے۔

تعلیم اور تعلم کے آداب 

یہ تمام آیات اس پر دلالت کرتی ہیں کہ تلمیذ اور متعلم پر واجب ہے کہ استاذ کے سامنے انتہائی ادب اور احترام کا اظہار کرے اور اگر استاذ کو ہی اندازہ ہو کہ متعلم پر تشدد اور سختی کرنا اس کے حق میں مفید ہوگا تو وہ ضرور اس کے اوپر تشدید اور سختی کرے ورنہ ہوسکتا ہے کہ تشدید نہ کرنے کی وجہ سے متعلم غرور اور تکبر میں مبتلا ہوجائے اور یہ اس کے حق میں مضر ہے۔

اس کے بعد حضرت خضر نے کہا پس اگر تم میری پیروی کررہے ہو تو مجھ سے کسی چیز کے متعلق اس وقت تک سوال نہ کرنا جب تک کہ میں خود اس کا ذکر نہ کروں۔

یعنی جب آپ کے نزدیک میرا کوئی کام قابل اعتراض ہو تو جب تک میں خود اس کی توجیہ نہ کروں آپ اس کے اوپر اعتراض نہ کریں اور یہی تعلیم اور تعلم کا ادب ہے ‘ سبق میں بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کی آگے چل کر خود بہ خود وضاحت ہوجاتی ہے اس لیے متعلم پر لازم ہے کہ وہ صبر سے کام لے اور جو بات بہ ظاہر غلط معلوم ہو اس پر نہ ٹوکے حتی کہ آگے چل کر استاذ خود اس کی وضاحت کردے گا۔ اگر حضرت موسیٰ حضرت خضر کی نصیحت پر کار بند رہتے تو ان کی صحبت طویل ہوتی اور ‘ اور بھی کئی عجیب و غریب واقعات پیش آتے ‘ لیکن وہ اپنے شرعی منصب پر فائز ہونے کی وجہ سے خاموش نہ رہ سکے اور جب بھی کوئی بات بہ ظاہر خلاف شرع ہوتی تو اس پر ضرور ٹوکنے اور یوں یہ سلسلہ ختم ہوگیا۔

اساتذہ اور علماء کی تعظیم اور ان کے حقوق کے متعلق احادیث اور آثار 

حضرت عبادہ بن الصامت (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے اور ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے عالم کا حق نہ پہچانے وہ میری امت سے نہیں ہے۔ اس حدیث کی سند حسن ہے۔ (المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٧٨١٩‘ المستدرک ج ١ ص ١٢٢‘ جمع الجوامع رقم الحدیث : ١٨٠٩٩‘ مجمع الزوائد ج ١ ص ١٢٧‘ مسند احمدج ٥ ص ٣٢٣‘ الجامع الصغیر رقم الحدیث : ٧٦٩٤)

حضرت ابو امامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تین شخصوں کی تخفیف صرف منافق کرتا ہے ‘ جو شخص اسلام میں سفید ریش ہو ‘ عالم اور امام عادل۔

(المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٣٤٤٢‘ جمع الجوامع رقم الحدیث : ١٠٨٥٨‘ الجامع الصغیر رقم الحدیث : ٣٥٣٣‘ مجمع الزوائد ج ص ١٢٧ )

حضرت ابو امامہ باہلی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے کسی بندہ کو کتاب اللہ کی ایک آیت کی تعلیم دی تو وہ اس بندہ کا مولیٰ ہے ‘ وہ بندہ اس استاذ کو ناامید کرے نہ اس پر اپنے آپ کو ترجیح دے اگر اس نے ایسا کیا تو اس نے اسلام کی گرہوں میں سے ایک گرہ کھول دی۔

(المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٧٥٢٨‘ الکامل لابن عدی ج ١ ص ٤٧٨‘ مجمع الزوائد ج ١ ص ١٢٨‘ تذکرۃ الموضوعات رقم الحدیث : ١٨‘ جمع الجوامع رقم الحدیث : ٢٢٤٦٣‘ کنزالعمال رقم الحدیث : ٢٣٨٤‘ فتح الباری ج ٨ ص ٢٤٨‘ لاہور ‘ ١٤٠١ ھ)

حضرت حمادانصاری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے کسی کو قرآن کی تعلیم دی تو وہ اس کامولا ہے ‘ وہ اس کو نامراد کرے نہ اس پر اپنے آپ کو فضیلت دے۔ (جمع الجوامع رقم الحدیث : ٢٤٦١‘ کنزالعمال رقم الحدیث : ٢٣٨٢)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : علم سیکھو اور علم کے لیے طمانیت اور وقار حاصل کرو اور جس سے علم حاصل کیا ہے ان کے سامنے تواضع اور انکسار کرو۔ اس کی سند ضعیف ہے۔ (المعجم الاوسط رقم الحدیث : ٦١٨٤‘ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤٢٠ ھ ‘ المعجم الاوسط رقم الحدیث : ٦١٨٠‘ مکتبہ المعارف ریاض ‘ ١٤١٥‘ مجمع الزوائد ج ١ ص ١٣٠)

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : علم سیکھو اور علم کے لیے طمانیت اور وقار حاصل کرو اور جس سے علم حاصل کرو اس کے سامنے ڈکٹیٹر نہ بنو۔ (حلیۃ الاولیاء ج ٦ ص ٣٤٢‘ کتاب الزہد للوکیع رقم الحدیث : ٢٧٥‘ جامع بیان العلم ج ١ ص ٥٠١‘ رقم الحدیث : ٨٠٣‘ دارابن الجوزیہ سعودیہ ١٤١٩ ھ)

حضرت عمر (رض) نے فرمایا جن سے تم علم حاصل کرتے ہو ان کے سامنے عاجزی کرو اور جو تم سے علم حاصل کرتے ہیں وہ تمہارے سامنے عاجزی کریں اور تم اساتذہ پر حکم نہ چلائو اور تمہارے علم کے ساتھ جہالت کے کام نہ ہوں۔ (حاشیہ جامع بیان العلم و فضلہ ج ١ ص ٥٠٢‘ المدخل الی السنن للبہقی ص ٣٣٣)

حضرت علی (رض) نے فرمایا عالم کا تم پر یہ حق ہے کہ تم مجلس میں لوگوں کو بالعموم سلام کرو اور عالم کو خصوصیت کے ساتھ علیحدہ سلام کرو ‘ تم ان کے سامنے بیٹھو ‘ ان کے سامنے ہاتھ سے اشارہ کرو اور آنکھوں سے اشارے کرو ‘ جب وہ کوئی مسئلہ بتائے تو یہ نہ کہو کہ فلاں نے اس کے خلاف کہا ہے۔ اس کے سامنے کسی کی غیبت نہ کرو نہ اس کی مجلس میں کسی سے سرگوشی کرو ‘ اس کے کپڑے کو نہ پکڑو ‘ جب وہ اکتا جائے تو اس کے پاس نہ جاو ‘ اس کی لمبی معیت سے احتراز نہ کرو ‘ کیونکہ وہ کھجور کے درخت کی طرح ہے ‘ تم منتظر رہو کہ تم پر کب اس سے کوئی پھل گرتا ہے ‘ کیونکہ مومن عالم کا اجر ‘ روزہ دار اور قیام کرنے والے عابد اور اللہ کی راہ میں مجاہد سے زیادہ ہے ‘ اور جب عالم مرتا ہے تو اسلام میں ایسا سوراخ ہوجاتا ہے جس کو قیامت تک کوئی چیز بند نہیں کرسکتی۔ (جامع بیان العلم و فضلہ رقم الحدیث : ٩٩٤‘ ج ١ ص ٥٨٠‘ الجامع للخطیب رقم الحدیث : ٣٤٧‘ کنزالعمال ج ١٠ ص ٢٥٥‘ احیاء العلوم ج ١ ص ٥٣ )

طائوس بیان کرتے ہیں کہ سنت یہ ہے کہ چار آدمیوں کی تعظیم اور توقیر کی جائے ‘ عالم کی ‘ سفید ریش کی ‘ سلطان کی اور والد کی اور یہ جفا سے ہے کہ کوئی شخص اپنے والد کو اس کا نام لے کر بلائے۔ (مصنف عبدالرزاق ج ١١ ص ١٣٧‘ طبع قدیم ‘ مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٢٠٣٠٢‘ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤٢١ ھ)

ایوب بن الفریۃ نے کہا سب سے زیادہ تعظیم کے مستحق تین ہیں ‘ علماء ‘ بھائی اور سلطان ‘ جس نے علماء کی بےادبی کی اس کا دین فاسد ہوجاتا ہے اور بھائیوں کی توہین سے اس کی مروت فاسد ہوجاتی ہے اور سلطان کے استخفاف سے اس کا دین فاسد ہوجاتا ہے اور عاقل ان میں سے کسی کی توقیر میں کمی نہیں کرتا۔ (جامع بیان العلم و فضلہ رقم الحدیث : ٩٩٦‘ ج ١ ص ٥٨١‘ مطبوعہ دارابن الجوزیہ السعودیہ ‘ ١٤١٩ ھ)

اساتذہ اور علماء کی تعظیم اور توقیر کے متعلق فقہاء اور علماء کے اقاویل 

امام محمد بن غزالی متوفی ٥٠٥ ھ لکھتے ہیں :

شاگرد کو چاہیے کہ استاذ کو کسی چیز کا حکم نہ دے بلکہ اپنے تمام معاملات کی لگام استاذ کو بالکلہ یہ سونپ دے ‘ اور جس طرح جاہل مریض مشفق اور حاذق طبیب کی خیر خواہی پر یقین رکھتا ہے اسی طرح استاذ کی خیر خواہی پر یقین رکھے۔ اور اپنے استاذ کے سامنے عاجزی کرے اور اس کی خدمت کر کے شرف اور ثواب کو حاصل کرے۔ جس طرح حضرت ابن عباس (رض) نے حضرت زید بن ثابت کی رکاب تھام لی تھی ‘ اور استاذ کے سامنے تکبر نہ کرے ‘ اور اس سے استفادہ کرنے کی عار نہ سمجھے ‘ وہ جو کچھ کہے اس کو توجہ سے سنے ‘ اس سے خوش رہے ‘ اس کا شکراداکرے اور اس کا احسان مانے ‘ استاذ کے نظریات کی تقلید کرے ‘ اس کے سامنے اپنی رائے کو چھوڑ دے کیونکہ استاذ کی خطاء اس کی صحت سے زیادہ نفع آور ہے ‘ کیونکہ باریک بینی اور تجربہ کی باتیں زیادہ مفید ہوتی ہیں ‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت خضر (علیہ السلام) کے قصہ میں متنبہ فرمایا ہے ‘ اس لیے استاذ سے استفادہ کرنے کی شرط یہ ہے کہ اس کے سامنے خاموش رہے اور اس پر اعتراض نہ کرے ‘ جب تک استاذ خود اس کو نہ بتائے۔ پھر امام غزالی نے حضرت علی (رض) کی نصیحت کو لکھا جس کو ہم ذکر چکے ہیں۔(احیاء علوم الدین ج ١ ص ٥٣۔ ٥٢‘ ملخصا مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٩ ھ)

امام ابو القاسم عبدالکریم بن ہوازن بن عبدالملک القشیری المتوفی ٤٦٥ ھ لکھتے ہیں :

مرید کے لیے اپنے شیخ سے ‘ شاگرد کے لیے اپنے استاذ سے اور عام آدمی کے لیے عالم اور مفتی سے یہ کہنا جائز نہیں ہے کہ مجھے آپ کے قول سے یا آپ کی رائے سے یا آپ کے فتویٰ سے اختلاف ہے۔ (لطائف الاشارات ج ٢ ص ٢٢٨‘ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤٢٠ ھ)

امام فخرالدین رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :

جو استاذ کامل اور متجر ہو اس کے سامنے شاگرد کو اعتراض نہیں کرنا چاہیے اگر اس نے تین مرتبہ سے زیادہ اعتراض کیے تو پھر ان میں انقطاع ہوجائے گا جیسا کہ حضرت موسیٰ اور حضرت خضر (علیہما السلام) کے قصہ میں ہوا۔ (تفسیر کبیر ج ٧ ص ٤٨٤‘ مطبوعہ دارالکتب احیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)

علامہ بدرالدین محمود بن عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں :

استاذ کا سفر میں خدمت کے لیے اپنے کسی شاگرد کو ساتھ لے جانادرست ہے ! اور یہ تعلیم کا عوض نہیں ہے ‘ جیسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے ساتھ حضرت یوشع بن نون کو لے گئے تھے۔ (عمدۃ القاری ج ٢ ص ٩٧‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤٢١ ھ)

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی شافعی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں :

ہر حال میں تواضع کو لازم رکھنا چاہیے ‘ اسی وجہ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) باوجود کلیم اللہ ہونے کے حضرت خضر (علیہ السلام) کے پاس گئے اور ان سے علم کو طلب کیا تاکہ ان کی امت بھی ان کی سیرت پر عمل کرے۔

(فتح الباری ج ١ ص ٢٤٨‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤٢١ ھ)

علامہ اسماعیل حقی حنفی متوفی ١١٣٧ ھ لکھتے ہیں :

امام ابو منصور ماتریدی متوفی ٣٣٥ ھ نے التاویلات النجمیہ میں فرمایا ہے : ش اگر اور مرید کے آداب میں سے یہ ہے کہ وہ تواضع اور انکسار کرتے ہوئے اور اپنے شیخ اور استاذ کی تعظیم کرتے ہوئے اس سے استفادہ کرنے اور تعلیم حاصل کرنے کے لیے اجازت طلب کرے ‘ اور اس کا استاذ اور شیخ جس چیز کا حکم دے اس پر عمل کرے اور جس سے منع کرے اس سے باز رہے ‘ کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے کلیم تھے ‘ نبی اور رسول تھے ‘ حضرت جبریل (علیہ السلام) ان کے پاس آتے تھے ‘ ان پر تورات نازل کی گئی تھی وہ اللہ سے کلام کرتے تھے ‘ نبی اسرائیل ان کی اقتداء کرتے تھے ‘ اس کے باوجود انہوں نے حضرت خضر کی اتباع کی ‘ اور ان کے سامنے تواضع اور انکسار کو اختیار کیا ‘ اپنے اہل اور متبعین کو چھوڑا اور اپنے تمام مناصب اور مناقب کو ترک کیا اور حضرت خضر (علیہ السلام) کی ارادت کے دامن کو پکڑ لیا اور ان کے اوامر اور نواہی کی اطاعت کی۔

نیز امام ابو منصور ماتریدی نے فرمایا شاگردی کے آداب میں سے یہ ہے کہ اگر استاذ اس کو بار بار رد کرے اور اپنی شاگردی میں لینے سے انکار کرے پھر بھی اس کے دامن کو نہ چھوڑے کیونکہ حضرت خضر (علیہ السلام) نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا : آپ میرے ساتھ ہرگز صبر نہ کرسکیں گے اور آپ اس چیز پر صبر کیسے کرسکتے ہیں جسکا آپ کے علم کے احاطہ نہیں کیا موسیٰ نے کہا آپ انشاء اللہ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے اور میں آپ کے حکم کی نافرمانی نہیں کروں گے (روح البیان ج ٥ ص ٣٢٧‘ ٣٢٦‘ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٤٢١ ھ) نیز علامہ اسماعیل حقی حنفی لکھتے ہیں :

اسکندر سے پوچھا گیا اس کی کیا وجہ ہے کہ آپ اپنے والد سے زیادہ اپنے استاذ کی تعظیم کرتے ہیں ‘ اسکندر نے جواب دیا میرے والد مجھے آسمان سے زمین کی طرف لائے اور میرے استاذ مجھے زمین سے اٹھا کر آسمان کی طرف لے گئے۔

بزر جمہر سے پوچھا گیا اس کی کیا وجہ ہے کہ آپ اپنے والد سے زیادہ اپنے استاذ کی تعظیم کرتے ہیں ؟ اس نے کہا کیونکہ میرے والد میری حیات فانی کے سبب ہیں اور میرے استاذ میرے حیات باقی کے سبب ہیں۔ (روح البیان ج ٧ ص ٩٥‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٤٢١ ھ) علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ٠ ١٢٧ ھ لکھتے ہیں :

عالم اور استاذ کے ساتھ ادب کا استعمال کرنا اور مشائخ کا حترام کرنا ‘ اور ان کے اقوال ‘ افعال اور ان کی حرکات پر اعتراض نہ کرنا اور ان کی مناسب تاویل کرنا مستحب ہے۔ (روح المعانی جز ١٦ ص ٣١‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٧ ھ)

حافظ محمد بن محمد ابن البز ارالکردری الحنفی المتوفی ٨٢٧ ھ لکھتے ہیں :

نوجوان عالم دین بوڑھے غیر عالم پر مقدم ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

یرفع اللہ الذین امنوا منکم لا والذین او توا لعلم درجٰت ط۔ (المجادلہ : ١١)

تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور جن کو علم دیا گیا ہے اللہ ان کے درجات بلند کرے گا۔

پس جن کے درجات کو اللہ بلند کرنے والا ہے جو ان کو پست اور نیچا کرے گا اللہ اسکو جہنم میں گرادے گا ‘ اور عالم غیر عالم قرشی پر مقدم ہے ‘ اور اس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت ابوبکر اور عمر ‘ حضرت عثمان اور حضرت علی پر مقدم ہیں ‘ حالانکہ داماد کا رشتہ خسر سے زیادہ قریب ہے ‘ اور علامہ الزندویستی نے کہا عالمکا حق جاہل پر اور استاذ کا حق شاگرد پر برابر ہے ‘ اور وہ یہ ہے کہ شاگرداستاذ سے پہلے کلام نہ کرے اور استاذ خواہ غائب ہو اس کی جگہ پر نہ بیٹھے ‘ اس کی بات کو رد نہ کرے ‘ چلنے میں اس سے آگے نہ بڑھے اور شوہر کا حق بیوی پر اس سے بھی زیادہ ہے اور وہ یہ ہے کہ ہر جائز کام میں اس کی اطاعت کرے۔ (فتاویٰ بزاز یہ علی ہامش الہندیہ ج ٦ ص ٣٥٢‘ مطبوعہ مطبع امیر یہ کبریٰ بولاق مصر ‘ ١٣١٠ ھ)

علامہ خیر الدین رملی حنفی متوفی ١٠٨١ ھ نے بھی اس عبارت کو نقل کیا ہے اور یہ لکھا ہے کہ فقیر کو تصغیر کے ساتھ فقیہ پڑھنا کفر ہے۔ (فتاوی خیر یہ علی ہامش تنقیح الفتاوی الحامد یہ ج ٢ ص ٣٦٣‘ المکتبہ الحسبییہ کوئٹہ)

علامہ عثمان بن علی الزیلعی الحنفی المتوفی ٧٤٣ ھ لکھتے ہیں :

علماء کو غیر علماء پر کیوں نہیں مقدم کیا جائے گا جب کہ قرآن مجید میں علی الاطلاق وارد ہے :

قل ھل یستوی الذین یعلمون والذین لاعلمون ط۔ (الزمر : ٩) آپ کہیے کہ کیا علم والے اور بغیر علم والے برابر ہوسکتے ہیں۔

اسی وجہ سے نماز میں عالم کو مقدم کیا جاتا ہے حالانکہ ایمان لانے کے بعد سب سے پہلے نماز پڑھنے کا حکم دیا جاتا ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا علماء انبیاء کے وارث ہیں۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٣٦٤١‘ سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٦٨٢‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٢٣) (تبیین الحقائق ج ٦ ص ٢٢٩‘ مکتبہ امداد یہ ملتان)

اور علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی متوفی ١٢٥٢ ھ نے اور علامہ حصکفی حنفی متوفی ١٠٨٨ ھ نے بھی ان عبارات کا خلاصہ لکھا ہے۔ (الدر المختار ‘ رد المختار ج ١٠ ص ٤٠٥۔ ٤٠٤‘ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٤١٩ ھ)

استاذ کی تعظیم و تکریم کے متعلق اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی کے دلائل 

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی قدس سرہ ‘ استاذ کے حقوق اور اس کی تعظیم و تکریم کے متعلق فرماتے ہیں :

(١) حضرت ابوہریرہ رضی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا اس نے اللہ کا شکر ادا نہیں کیا (سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٨١١‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٩٥٤) اور اللہ عزو جل نے ارشاد فرمایا :

لئن شکرتم لازیدنکم ولئن کفرتم ان عذابی لشدید (ابراہیم : ٧) اگر تم شکر کرو گے تو میں تم کو زیادہ ( نعمتیں) دوں گا اور اگر تم ناشکری کروگے تو میرا عذاب بہت سخت ہے۔

اور استاذ نے شاگرد کو جو تعلیم کی نعمت دی ہے اس کا شکریہ ہے کہ اس کی خدمت اور اس کی تعظیم و تکریم کی جائے اور اگر اسکے خلاف کیا تو اس پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کی وعید ہے۔

(٢) استاذ کے حقوق سے انکار کرنا ‘ نہ صرف مسلمانوں کے اجماع کے خلاف ہے بلکہ تمام عقل والوں کے اتفاق کے خلاف ہے۔

(٣) استاذ کی تعظیم اور اس کی خدمت نہ کرنا اس کے احسان کا انکار کرنا ہے ‘ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کسی کی نیکی کو حقیر نہ جانو خواہ وہ تم سے مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ ملتا ہو (یعنی اس کی اس نیکی کو بھی معمولی نہ سمجھو) ۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٦٢٦ )

(٤) استاذ کی نیکیوں کو حقیر جانا قرآن ‘ حدیث اور فقہ کو حقیر جاننا ہے جن کی اس نے تعلیم دی ہے اور ان کو حقیر جانناکفر ہے۔

(٥) استاذ کا حق ماں باپ کے حق سے زیادہ کیوں کہ ماں باپ سے بدنی حیات ملی اور استاذ سے روحانی حیات ملی۔

(٦) حضرت علی نے فرمایا جس نے مجھے ایک حرف پڑھایا اس نے مجھے اپنا غلام بنا لیا خواہ وہ مجھے فروخت کر دے یا آزاد کر دے اور استاذ کی نافرمانی کرنا غلام کے بھاگنے کے مترادف ہے۔ (المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٧٥٢٨‘ مجمع الزوائد ج ١ ص ١٢٨‘ مسند الثامین رقم الحدیث : ٨١٨)

(٧) امام طبرانی اور امام ابن عدی نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : علم حاصل کرو ‘ طمانیت اور وقار کے لیے علم حاصل کرو اور جس سے علم حاصل کرو ان سے عاجزی کرو (المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٧٥٢٨‘ الکامل لابن عدی ج ١ ص ٤٧٨) کتنے شاگرد استاذ کی برکت اور اس کا فیض حاصل کرنے کے لیے اس کے پیروں کی خاک اپنے چہروں پر ملتے تھے۔

(٨) استاذ کا شاگرد پر حق یہ ہے کہ استاذ کی غیر موجودگی میں بھی شاگرد اس کی جگہ پر نہ بیٹھے ‘ اس کے کلام کو رد نہ کرے اس کے آگے نہ چلے ‘ اس کو علامہ شامی نے بزاز یہ کے حوالے سے بیان کیا ہے۔

(٩) جب استاذ سے آگے چلنا بھی جائز نہیں ہے تو استاذ کی نافرمانی کرنا اور اس کی تحقیر کرنا کب جائز ہوگا۔

(١٠) استاذ کی دل آزادی کرنا اور اس کو رنج پہنچانا حرام ہے کیونکہ یہ ایک مسلمان کو ایذا دینا ہے اور مسلمانوں کو ایذا پہنچانا حرام ‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

والذین یؤذون المؤمنین والمؤ منت بغیر ما اکتسبوا فقد احتملوا بھتانا و اثما مبینا۔ (الاحزاب : ٥٨) جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو بغیر کسی جرم کے ایذاء پہنچاتے ہیں وہ ان پر بہتان باندھتے ہیں اور صریح گناہ کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔

اور حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے کسی مسلمان کو ایذاء دی اس نے مجھے ایذاء دی اور جس نے مجھے ایذاء دی اس نے اللہ کو ایذاء دی۔ (المعجم الاوسط رقم الحدیث : ٣٦٣٢‘ ریاض)

(١١) استاذ کی بےتوقیری کرنا ایک مسلمان کے لیے موجب تذلیل ہے اور مسلمان کی تذلیل حرام ہے ‘ حضرت سہل بن حنیف (رض) اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص کے سامنے کسی مومن کو ذلیل کیا گیا اور اس نے اس کی مدد نہیں کی جب کہ وہ اس کی مدد پر قادر تھا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کو لوگوں کے سامنے ذلیل کردے گا۔ (مسند احمد ج ٣ ص ٤٨٧)

(١٢) عالم اور استاذ کی بےتو قیری کرنے کی ایک وجہ اس سے حسد کرنا ہے اور حسد حرام ہے۔ حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حسد کرنے سے اجتناب کرو کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے۔ ( سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٩٠٣‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٢١٠‘ مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٣٦٥٦ )

(١٣) استاذ کی توقیری کرنا ظلم ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

الا لعنۃ اللہ علی الظلمین۔ (ھود : ١٨) سو ظالموں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔

(١٤) جو شخص استاذ کی عزت نہیں کرتا وہ اپنے بڑوں کی بےتوقیری کرتا ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے اور ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے عالم کا حق نہ پہچانے وہ میری امت سے نہیں۔ (المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٧٨١٩)

(١٥) جو شخص بزرگ عالم دین کی عزت نہ کرے اس پر وعید فرمائی۔ (المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٧٨١٩)

(١٦) وہ علماء اور اساتذہ جو بالخصوص سادات ہوں ان کی تعظیم اور تکریم واجب ہے ‘ حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے میرے اہل بیت ‘ انصار اور عرب کا حق نہیں پہچانا یا تو وہ منافق ہوگا یا ولد الزنا ہوگا ‘ یا وہ ہوگا جس کا حمل اس کی ماں کو ناپاکی کی حالت میں ہوا ہو۔ (الفردوس بما ثورالخطاب رقم الحدیث : ٥٩٥٥ )

(١٧) جو عالم دین سید اور متقی ہو وہ تعظیم اور تکریم کا مستحق ہے اور اس کی بےتوقیری اللہ کی حدود سے تجاوز کرنا ہے ‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

ومن یتعد حدود اللہ فقد ظلم نفسہ۔ (الطلاق : ١) جس شخص نے اللہ کی حدود سے تجاوز کیا اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔ (فتاویٰ رضویہ ج ١/١٠ ص ٢٢۔ ١٩ ملخصا و موضحا و مخرجاً ‘ مطبوہ دارالعلوم امجدیہ ‘ کتبہ رضویہ کراچی ‘ ١٤١٢ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 31 لقمان آیت نمبر 14