أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰبُنَىَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ وَاۡمُرۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَانۡهَ عَنِ الۡمُنۡكَرِ وَاصۡبِرۡ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ‌ؕ اِنَّ ذٰلِكَ مِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ‌ۚ ۞

ترجمہ:

اے میرے پیارے بیٹے ! تم نماز کو قائم رکھنا اور نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا اور تم کو جو مصیبت پہنچے اس پر صبر کرنا ‘ بیشک یہ بڑی ہمت کے کام ہیں

صبر اور عزیمت کی تفصیل 

اس کے بعد حکیم لقمان نے نصیحت کی : اے میرے بیٹے ! تم نماز قائم رکھنا اور نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا اور تم کو جو مصیبت پہنچے اس پر صبر کرنا ‘ بیشک یہ بڑی ہمت کے کام ہیں۔ (لقمان : ١٧)

حکیم لقمان نے اپنے بیٹے کو ایک حکم یہ دیا کہ نماز پڑھو ‘ اور دوسرا حکم یہ دیا کہ نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو ‘ نماز پڑھنے کا حکم اس لیے دیا کہ ان کی اپنی ذات کامل ہو اور نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا حکم اس لیے دیا کہ وہ دوسروں کو کامل بنائیں۔

امام ابن ابی حاتم نے ابن جییر سے روایت کیا ہے کہ حکیم لقمان نے اپنے بیٹے سے جو کہا نیکی کا حکم دو ‘ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو واحد ماننے کا حکم دو ‘ اور یہ جو فرمایا ہے برائی سے روکو اس کا معنی ہے شرک کرنے سے منع کرو۔

(روح المعانی جز ٢١ ص ١٣٥‘ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٩ ھ)

اس آیت کی زیادہ بہتر تفسیر یہ ہے کہ نیکی کا حکم دینے سے مراد صرف توحید کا ماننا اور برائی سے روکنے سے مراد صرف شرک سے ممانعت نہیں ہے۔ بلکہ اس سے مراد تمام فرائض اور واجبات کا حکم دینا ہے اور تمام کبائر اور صغائر سے منع کرتا ہے اور تمام اچھے کاموں کا حکم دینا اور تمام برے کاموں سے منع کرنا ہے ‘ خصوصاً اس لیے کہ شرک سے اجتناب کا حکم تو حکیم لقمان ان کو پہلے دے چکے تھے ‘ اس کے بعد فرمایا : اور تم کو جو مصیبت پہنچے اس پر صبر کرنا۔ اس کا ایک معنی یہ ہے کہ حوادث روز گار اور آفات اور مصائب اور بیماریاں اگر تم کو پہنچیں تو تم اللہ سے شکوہ اور شکایت نہ کرنا اور جزع اور فزع نہ کرنا ‘ اور اس کا دوسرا معنی یہ ہے کہ نماز پڑھنے اور احکام شرعیہ کی تبلیغ سے تم کو جو مشقت ہو اس پر صبر کرنا ‘ کیونکہ بعض اوقات انسان کو نماز پڑھنے میں بھی مشقت اٹھانی پڑتی ہے ‘ جیسے سخت گرمی اور دھوپ میں ظہر کی نماز پڑھنے کے لیے جانا یہ بھی نفس کے لیے بار خاطر ہوتا ہے۔

صبر کا ایک معنی ہے ‘ کسی کی موت ‘ یا کسی نقصان یا کسی بیماری ‘ اور تکلیف کے وقت جزع ‘ فزع اور رونے پیٹنے سے اپنے نفس کو روکنا یا حالت غضب اور جوش انتقام کے وقت اپنے نفس کو تجاوز اور حد سے بڑھنے سے روکنا ‘ یا غلبہ شہوت کے وقت اپنے نفسکو فسق و فجور سے روکنا ‘ اور اس کا جامع معنی یہ ہے کہ اپنے نفس کو اللہ تعالیٰ کے تمام منع کیے ہوئے کاموں سے روکنا۔

اس کے بعد فرمایا یہ عزم الامور سے ہے ‘ اور یہ عزیمت کے معنی میں ہے جو رخصت کے مقابلہ میں ہے ‘ بعض اوقات رخصت پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے ‘ جیسے سفر میں نماز کو قصر کر کے پڑھنا اور جیسے مرض یا ہلاکت کا خطرہ ہو تو تیمم کرنا یا روزہ نہ رکھنا ‘ اور بعض اوقات رخصت پر عمل کرنا مستحب ہوتا ہے جیسے اگر سفر میں مشقت ہو تو روزہ نہ رکھنا ‘ اور بعض اوقات عزیمت پر عمل کرنا مستحب ہوتا ہے جیسے اگر سفر میں مشقت نہ ہو تو روزہ قضا کرنے کے بجائے عزیمت پر عمل کرنا اور روزہ رکھ لینا ‘ یا جیسے مرض اور بیماری کے باوجود جماعت سے نماز پڑھنے کے لیے جانا ‘ تو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہاں عزم الامور سے مراد وہ کام ہوں جن کا رخصت کے مقابلہ میں عزیمت پر عمل کرنا مستحب ہو۔

اور عزیمت کا دوسرا معنی ہے جو کام اصالۃ ‘ فرض یا واجب ہیں تو توحید پر قائم رہنا اور فرائض اور واجبات پر عمل کرنا اس اعتبار سے عزیمت ہیں ‘ اور عزیمت کا تیسرا معنی ہے مکارم اخلاق اچھے اور پسندیدہ کام ‘ اور اپنی ضروریات پر دوسرے ضرورت مندوں کو ترجیح دینا اور بلاشبہ یہ ہمت والوں کے کام ہیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 31 لقمان آیت نمبر 17