دیکھو ہم سنّی ہیں !

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دیکھو ہم سنّی ہیں !

1 : ہمارے فروعی اختلافات کیسے بھی ہو جائیں اور ان کی منفی نوعیت کتنی بھی بدل جاۓ لیکن ہم آپس میں لڑ کر بھی مثبت نتیجے تک پہنچ جائیں گے ، اگر ہمارے شیروں کے جنگل میں کہیں سے کالے سور گھس آئیں تو ہم ایک ہو جائیں گے ، ہم چن چن کر ان کا شکار کریں گے ، ان کی وجہ سے ہم اپنے کسی فرد کو زخمی نہیں ہونے دیں گے ۔

دیکھو ہم سنّی ہیں !

2 : ہمارے خانقاہی اختلافات کیسے بھی ہو جائیں اور ان کی منفی نوعیت کتنی بھی بدل جاۓ لیکن ہم آپس میں لڑ کر بھی مثبت نتیجے تک پہنچ جائیں گے ، اگر ہمارے عقابوں کے جنگل میں کہیں سے کریہہ الفطرف گِدھیں آ جائیں تو ہم ایک ایک کر کے ان پر جھپٹ پڑیں گے ، ان کی گردنیں توڑیں گے ، ان کے سینے اپنے آہنی پنجوں میں لے لیں گے ، ان کی سانسیں روک دیں گے ، پیاسی موت کا حلق ان کے خون سے تر کر دیں گے ۔

دیکھو ہم سنّی ہیں !

3 : ہمارے سیاسی اختلافات کیسے بھی ہو جائیں اور ان کی منفی نوعیت کتنی بھی بدل جاۓ لیکن ہم آپس میں لڑ کر بھی مثبت نتیجے تک پہنچ جائیں گے ، اگر ہمارے شہسواروں کے لشکر میں کہیں سے حشرات المتعہ گھس آئیں تو ہم انہیں اپنے گھوڑوں گے سموں تلے روند ڈالیں گے ، ہم ان کے وہ سوراخ بند کر دیں گے جہاں سے ایسے موذی نکلتے ہیں ، ہم ان سوراخوں میں سیسہ پگھلا کر ڈال دیں گے جو ان کے لیے سدِّ سکندریہ سے کم مضبوط نہیں ہو گا !

دیکھو ہم سنّی ہیں !

اے مرے سنّی مشائخ

اے مرے سنّی علماء

اے مری سنّی عوام

وہ بندہ جسے تم نے کنز العلماء کا خطاب دیا تھا

وہ بندہ جسے تم نے مسقبل کا رہنما گردانا تھا

وہ بندہ جس کی علمی وسعتِ استعداد کا تم نے اقرار کیا تھا

وہ بندہ جس کی علمی ثقاہت پر تم نے اعتماد کیا تھا

وہ بندہ جس کے آنے پہ تم اپنی مسندوں سے اتر آتے تھے

آج وہ بھیڑیوں میں گھر گیا ہے ، وہ تنِ تنہا بھی ان کا مقابلہ کر سکتا ہے لیکن وہ تمہاری وفاؤں اور تمہارے ہم مشربی تعلق کی طرف دیکھ رہا ہے

مجھے زندان خانے سے اس کے رونے کی آواز آ رہی ہے ، اس لیے نہیں کہ وہ قید ہوا ، اس لیے کہ اگر اسے کچھ ہو گیا تو بھیڑیے اس کے جنگل پر قبضہ کر لیں گے !

اٹھو ، اٹھو ، اٹھو

متحد ہو جاؤ ، کمانیں کَس لو ، تیروں کے پھل زہر آلود کر لو ، شمشیروں کی دھاروں کو تیز اور ان کے سینوں کو صیقل کر لو کہ ان میں دشمن کو موت جھلکتی نظر آۓ ۔

دیکھو ہم سنّی ہیں !

خانۂ زنداں میں یوسف قید ہے اے اہلِ حق

آج ہے نوحہ کناں تعبیرِ خوابِ سنّیت

از : میرزا امجد رازی