أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ذٰ لِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡحَقُّ وَاَنَّ مَا يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهِ الۡبَاطِلُ ۙ وَاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡعَلِىُّ الۡكَبِيۡرُ۞

ترجمہ:

اس کی وجہ یہ ہے کہ بیشک اللہ ہی برحق ہے اور اس کے سوا یہ جن کی عبادت کرتے ہیں وہ سب باطل ہیں اور بیشک اللہ ہی نہایت بلند بہت بزرگ ہے ؏

تفسیر:

اور اس کے بعد فرمایا : اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بیشک اللہ ہی برحق ہے۔ (لقمان : ٣٠)

(١) ابن کامل نے کہا اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ ہی واحد مستحق عبادت ہے اس کے سوا اور کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے۔

(٢) ابو صالح نے کہا اللہ عزوجل کے اسماء میں سے ایک اسم حق ہے۔

(٣) اللہ عزوجل حق کے ساتھ فیصلہ کرنے والا ہے۔

(٤) اللہ عزوجل کی اطاعت کرنا حق ہے۔

پھر فرمایا : اور اس کے سوا یہ جن کی عبادت کرتے ہیں وہ سب باطل ہیں۔

مجاہدنے کہا شیطان باطل ہے۔ ابن کامل نے کہا انہوں نے جن بتوں اور دوسری چیزوں کو اللہ کا شریک قراردیا ہوا ہے وہ سب باطل ہیں۔ (النکت والعیون ج ٤ ص ٣٤٦۔ ٣٤٥‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت)

ان آیات کی مزید تفسیر آل عمران : ٢٧اور الحج ٦١میں ملاحظہ فرمائیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 31 لقمان آیت نمبر 30