أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نُمَتّـِعُهُمۡ قَلِيۡلًا ثُمَّ نَضۡطَرُّهُمۡ اِلٰى عَذَابٍ غَلِيۡظٍ ۞

ترجمہ:

ہم ان کو (دنیا میں) تھوڑا سافائدہ پہنچائیں گے پھر ان جبراً سخت عذاب کی طرف لے جائیں گے

اس کے بعد فرمایا : ہم ان کو (دنیا میں) تھوڑا سا فائدہ پہنچائیں گے ‘ پھر ان کو جبراً سخت عذاب کی طرف لے جائیں گے 

یعنی دنیا میں وہ اپنی مقررہ زندگی پوری کریں گے اور تھوڑا عرصہ رہیں گے ‘ پھر بتایا ان کو اپنی تکذیب اور کفر کا خمیازہ بھگتنا ہوگا اور ہم ان پر سخت ترین عذاب مسلط کردیں گے اور ان کو بھڑکتی ہوئی آگ کے عذاب کی طرف گھسیٹ کر لایا جائے گا ‘ اور وہاں فرشتے ان پر آگ کے گرزماریں گے۔

ایک اور توجیہ یہ ہے کہ وہ دنیا میں رسولوں کو جھٹلاتے ہیں اور آخرت میں ان پر منکشف ہوگا کہ رسول تو سچی خبریں دے رہے تھے اور وہ جو ان کو جھٹلا رہے تھے وہی غلط اور باطل تھے ‘ اس وقت وہ خجل اور شرمندہ ہوں گے اور اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے گھبرائیں گے تو فرشتے انکو گھسیٹ کر دوزخ کی طرف لے جائیں گے ‘ اس لیے فرمایا آپ ان کے کفر اور تکذیب سے غم نہ کریں ‘ ہم روز قیامت ان کو ان کے کاموں کی خبردیں گے۔

القرآن – سورۃ نمبر 31 لقمان آیت نمبر 24