وضو ٹوٹ جائے گا۔

مسئلہ : کوئی چھالہ یا زخم ایسا تھا جس میں پانی بھرا ہوا تھا آپ کے کھال کے نکالنے پر یا کوئی چیز زخم پر لگنے سے کھال پھٹ گئی اورخون نکلا یہ بھی وضو کو توڑ دے گا۔

مسئلہ : پھوڑے یا پَھنسی میںخون نکل جائے اِسی طرح پیپ یاکوئی دوسرا مَواد بہہ جائے ان تمام چیزوں سے وضو ٹوٹ جائے گا۔

مسئلہ : مسواک یا بُرش کررہے تھے منہ سے خون نکلا وضو ٹوٹ جائے گا۔ اس میںمقدار یہ ہے کہ خون تھوک پر غالب آجائے تووضو ٹوٹ جائے گا اس کی علامت یہ ہے کہ تھوک زردی مائل ہوجائے گا یاسُرخی مائل ہوجائے گا اَب آپ سمجھ جائیں کہ خون تھوک پر غالب ہوگیا ہے ایسی صورت میں وضو ٹوٹ جائے گا۔

مسئلہ : منہ بھر قَے (اُلٹی) ہوجائے تووضو ٹوٹ جائے گا منہ بھر قَے سے مُراد یہ ہے کہ باآسانی قَے کو روکا نہ جاسکے ۔

مسئلہ : ریح خارج ہونے سے وضو ٹوٹ جائے گا۔

مسئلہ : ناک میںسے خون کا آجانا، کان کے اندر سے پیپ کا نکل کر باہر کی طرف بہہ جانا ایسی صورت میںبھی وضو ٹوٹ جائے گا۔

مسئلہ : آپ نے چہرہ دھولیا، ہاتھ دھولیے، پیر دھونے سے پہلے ریح خارج ہوگئی توجتنے اعضا ء آپ نے دھوئے تھے وہ سب بے دُھلے ہوگئے اب پھر سے آپ کو وضو کرنا ہوگا۔

مسئلہ :اگر آپ نے چُلّو میں پانی لیا تاکہ ناک میں چڑھایا جائے اُسی وقت آپ کی ریح خارج ہوگئی توجو پانی چُلّو میں تھاو ہ مستعمل ہوگیا اب وہ وضو میں استعمال نہیں ہوگا لہٰذا چُلّو والا پانی پھینک دیں دوسرا پانی لے کر دوبارہ وضو کریں۔

مسئلہ : کوئی شخص بیٹھا ہے بیٹھے بیٹھے اُونگھ آگئی اُونگھ آنے کے بعد گر گیا اور گرنے کے بعد فوراً پھر اُٹھ گیا وضو نہیں ٹوٹے گا مگر گرنے کے بعد بھی اگر آنکھ نہ کُھلی غافل رہا تو وضو ٹوٹ جائے گا۔

مسئلہ: کوئی شخص اگر دوزانوں ہوکر بغیر ٹیک لگائے بیٹھا ہے اورسوگیا وضو نہیں ٹوٹے گا اگر اس نے بیٹھے بیٹھے کسی سہارے سے ٹیک لگا لی اورسوگیا تووضو ٹوٹ جائے گا۔

مسئلہ : حالتِ نماز میں کوئی بات یاد آگئی جو مزاحیہ تھی آپ حالتِ نماز میں قہقہہ لگا کر ہنسے اوربرابر والے نمازی نے بھی آپ کی آواز سُنی ایسی صورت میں وضو بھی ٹوٹ گیا اورنما زبھی ٹوٹ گئی ۔

مسئلہ : حالتِ نماز میں ہنسی آگئی اتنی آواز سے ہنسا کہ صرف خود نے اپنی ہنسی کی آواز سُنی برابر والے نے نہ سُنی ایسی صورت میں نماز ٹوٹ جائے گی مگر وضو باقی رہے گا۔