أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَئِنۡ سَاَلۡتَهُمۡ مَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ لَيَـقُوۡلُنَّ اللّٰهُ‌ ؕ قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ‌ ؕ بَلۡ اَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور اگر آپ ان سے سوال کریں کہ آسمانوں اور زمینوں کو کس نے پیدا کیا ہے تو یہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے ! آپ کہیے کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں ‘ بلکہ ان سے اکثر لوگ نہیں جانتے

آپ کو الحمداللہ کہنے کے حکم کی توجیہ 

نیز فرمایا : اگر آپ ان سے سوال کریں کہ آسمانوں کو اور زمینوں کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ تو یہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے ! آپ کہیے کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں ‘ بلکہ ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے (لقمان : ٢٥ )

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید پر دلائل قائم کیے تھے اور فرمایا تھا اس نے آسمانوں اور زمینوں کو بغیر ستونوں کے پیدا کیا اور تمام انسانوں کو ظاہر یاور باطنی نعمتیں عطا فرمائیں ‘ اب یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اس تخلیق اور آفرینش کا اور اس کی ظاہری اور باطنی نعمتوں اور اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے خالق اور رازق ہونے کا یہ کفار بھی انکار نہیں کرتے اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہوں اور اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کی جائے ‘ لیکن وہ اسکو نہیں جانتے ‘ اور اگر ان کو بالفرض علم ہو بھی تو وہ علم کے تقاضے پر عمل نہیں کرتے۔

اس سے پہلی آیت میں بتایا کہ کفار جو آپ کی تکذیب کرتے ہیں اس پر آپ غم نہ کریں کیونکہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بتادے گا کہ آپ سچے ہیں اور یہ جھوٹے ہیں۔ اور اس آیت میں یہ بتایا کہ یہ کفار مانتے ہیں کہ آسمانوں اور زمینوں کا پیدا کرنے والا صرف اللہ ہے اور اس اعتراف سے آپ کے اس دعویٰ کی تصدیق ہوتی ہے کہ اللہ واحد ہے ‘ اور یہ جو شرک کرتے ہیں اس کا جھوٹ اور باطلہونا واضح ہوجاتا ہے تو آپ اس نعمت پر کہیے الحمد للہ ‘ اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیجئے کیونکہ آپ کے دعویٰ کا صدق اور آپ کے مکذبین کا کذب ظاہر ہوگیا ‘ اگرچہ ان میں سے اکثر لوگ اپنے کذب اور آپ کے صدق کے ظہور کو نہیں جانتے۔

القرآن – سورۃ نمبر 31 لقمان آیت نمبر 25