أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَوۡ اَنَّ مَا فِى الۡاَرۡضِ مِنۡ شَجَرَةٍ اَقۡلَامٌ وَّالۡبَحۡرُ يَمُدُّهٗ مِنۡۢ بَعۡدِهٖ سَبۡعَةُ اَبۡحُرٍ مَّا نَفِدَتۡ كَلِمٰتُ اللّٰهِ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

اور اگر تمام روئے زمین کے درخت قلم بن جائیں ‘ اور تمام سمندر سیاہی ہوں اور اس کے بعد ان میں سات سمندروں کا اور اضافہ ہو ‘ تب بھی اللہ کے کلمات ختم نہیں ہوں گے ‘ بیشک اللہ بہت غالب ‘ بےحد حکمت والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اگر تمام روئے زمین کے درخت قلم بن جائیں اور تمام سمندر سیاہی ہوں ‘ اس کے بعد ان میں سات سمندروں کا اور اضافہ ہو تب بھی اللہ کے کلمات ختم نہیں ہوں گے ‘ بیشک اللہ بہت غالب ‘ بےحد حکمت والا ہے تم سب کو پیدا کرنا اور تم سب کو دوبارہ زندہ کرنا ( اس کے نزدیک) ایک جان کی مانند ہے ‘ بیشک اللہ خوب سننے والا ‘ خوب دیکھنے والا ہے کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ رات کو دن میں داخل کردیتا ہے اور دن کو رات میں داخل کردیتا ہے ‘ اور اس نے سورج اور چاند کو کام میں لگارکھا ہے ‘ ان میں سے ہر ایک مقرر میعاد تک گردش کررہا ہے ‘ اور تم جو کچھ کرتے ہو بیشک اللہ اس کی خبر رکھنے والا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ بیشک اللہ ہی برحق ہے اور اس کے سوا یہ جن کی عبادت کرتے ہیں وہ سب باطل ہیں اور بیشک اللہ ہی نہایت بلند بہت بزرگ ہے (لقمان : ٣٠۔ ٢٧ )

کلمات اللہ کا غیر متناہی ہونا۔

علامہ ابو الحسن علی بن محمد بن حبیب الماوردی المتوفی ٠ ٤٥ ھ لکھتے ہیں لقمان : ٢٧ کی آیت کے دو شان نزول ہیں :

(١) قتادہ نے بیان کیا کہ مشرکین نے کہا قرآن ایک کلام ہے اور یہ عنقریب ختم ہوجائے گا ‘ تو اللہ تعالیٰ اس کے رد میں یہ آیت نازل فرمائی کہ اگر خشکی کے ہر درخت کی قلمیں بنا لی جائیں اور اس سمندر کو سیاہی بنا لیا جائے اور اس کے ساتھ سات سمندر اور بھی ملا لیے جائیں ‘ تب بھی یہ قلم ٹوٹ جائیں گے اور سیاہی ختم ہوجائے گی اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے عجائبات ‘ اور اس کی حکمت اور اس کے علم کے کلمات ختم نہیں ہوں گے۔

(٢) حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ میں گئے تو آپ سے علماء یہود نے کہا : اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قرآن مجید میں ہے :

ومآ اوتیتم من العلم الا قلیلا اور تم کو جو علم دیا گیا ہے وہ بہت کم ہے۔ (بنی اسرائیل : ٨٥)

اس آیت سے آپ کی قوم مراد ہے یا ہم مراد ہیں ؟ آپ نے فرمایا تم ہو یا وہ ہوں جس کو بھی جو علم دیا گیا ہے وہ بہت کم ہے۔ تب انہوں نے کہا آپ نے اللہ کی طرف سے یہ بتایا ہے کہ ہمیں تورات دی گئی ہے اور تورات میں ہر چیز کا واضح بیان ہے ‘ تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے علم کے مقابلہ میں وہ بھی بہت کم ہے اور اس کی تائید میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (النکت ولعیون ج ٤ ص ٣٤٤‘ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت)

کلمات اللہ سے مراد اللہ تعالیٰ کی وہ نعمتیں ہیں جو جنت میں اہل جنت کو دی جائیں گی ‘ یا اس سے مراد وہ امور ہیں جو لوح محفوظ میں مذکور ہیں یا اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی معلومات غیر متناہیہ ہیں۔

اس مقام پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ قرآن مجید کی دو آیتوں میں تعارض ہے ‘ ایک آیت میں ہے :

ومآ اوتیتم من العلم الا قلیلا اور تم کو جو علم دیا گیا ہے وہ بہت کم ہے۔ (بنی اسرائیل : ٨٥)

اور دوسری آیت میں ہے :

ومن یؤت الحکمۃ فقد اوتی خیرا کثیرا۔ اور جس کو حکمت دی گئی اس کو خیر کثیر دی گئی۔ (البقرہ : ٢٦٩ )

پہلی آیت کا تقاضا یہ ہے کہ علم کم دیا گیا ہو اور دوسری آیت کا تقاضا یہ ہے کہ جس کو حکمت دی گئی اس کو کثیر علم دیا گیا ‘ سو ان کو علم کم بھی دیا گیا ہو اور زیادہ بھی ‘ یہ اجتماع ضدین ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ جس کو حکمت دی گئی اس کو فی نفسہ کثیر علم دیا گیا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے علم کے سامنے یہ بہت کم علم ہے جیسے سمندر کے سامنے ایک قطرہ ہے ‘ بلکہ یہ نسبت بھی نہیں کیونکہ قطرہ کی سمندر کی طرف نسبت متناہی کی متناہی کی طرف ہے اور مخلوق کے علم کی اللہ کے علم کی طرف نسبت متنا ہی کی غیر متناہی کی طرف ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 31 لقمان آیت نمبر 27