أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَنۡ كَفَرَ فَلَا يَحۡزُنۡكَ كُفۡرُهٗ ؕ اِلَيۡنَا مَرۡجِعُهُمۡ فَنُنَبِّئُهُمۡ بِمَا عَمِلُوۡا ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ۞

ترجمہ:

اور جس نے کفر کیا تو اسکا کفر آپ کو غم زدہ نہ کرے ‘ انہوں نے ہماری ہی طرف لوٹنا ہے ‘ پھر ہم انکو خبر دیں گے کہ انہوں نے کیا عمل کیے ہیں ‘ بیشک اللہ دلوں کی باتوں کو خوب جاننے والا ہے

کافروں کی تکذیب سے آپ کو غم کرنے کی ممانعت کی توجیہ 

اس کے بعد فرمایا : جس نے کفر کیا تو اس کا کفر آپ کو غم زدہ نہ کرے۔ الایۃ (لقمان : ٢٤۔ ٢٣ )

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمان کے احوال ذکر فرمائے تھ اب ان آیتوں میں کفار کے احوال بیان فرما رہا ہے ‘ کیونکہ چیزیں اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہیں ‘ آپ کافروں کے کفر اور ان کی تکذیب پر اس لیے افسوس اور غم نہ کریں ‘ کیونکہ جس شخص کی تکذیب کی جائے اور اس کو یقین ہو کہ عنقریب اس کا صدق ظاہر ہوجائے گا تو اس کو کوئی غم نہیں ہوتا ‘ بلکہ تکذیب کرنے والا دشمن جب غیر ہدایت یافتہ ہو اور اس کو یہ بھی معلوم ہو کہ جس کی وہ تکذیب کررہا ہے وہ صادق اور برحق ہے تو وہ بہت جلد شرمندگی اور رسوائی سے دو چار ہوتا ہے ‘ پس غم اور افسوس تو ان کافروں کو کرنا چاہیے جو آپ کی تکذیب کررہے ہیں نہ کہ آپ کو غم اور افسوس کرنا چاہیے ‘ کیونکہ وہ شرمندگی اور رسوائی کے خطرہ میں ہیں۔

پھر فرمایا : بیشک اللہ دلوں کی باتوں کو خوب جاننے والا ہے ‘ یعنی لوگوں کا باطن اور ظاہر اور ان کی خلوت اور جلوت اس سے پوشیدہ نہیں وہ ان کے دلوں کے ارادوں اور منصوبوں کو جاننے والا ہے اور قیامت کے دن لوگوں کو اس کی خبر دے گا۔

القرآن – سورۃ نمبر 31 لقمان آیت نمبر 23