أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَنۡ يُّسۡلِمۡ وَجۡهَهٗۤ اِلَى اللّٰهِ وَهُوَ مُحۡسِنٌ فَقَدِ اسۡتَمۡسَكَ بِالۡعُرۡوَةِ الۡوُثۡقٰى‌ؕ وَاِلَى اللّٰهِ عَاقِبَةُ الۡاُمُوۡرِ ۞

ترجمہ:

اور جس شخص نے اپنے چہرہ کو اللہ کی بار گاہ میں جھکا دیا اور وہ نیک عمل کرنے والا ہو تو اس نے ایک مضبوط دستہ پکڑ لیا ‘ اور تمام کاموں کا انجام اللہ ہی کی طرف ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جس شخص نے اپنے چہرے کو اللہ کی بار گاہ میں جھکا دیا ہو اور وہ نیک عمل کرنے والا وہ تو اس نے ایک مضبوط دستہ پکڑ لیا ‘ اور تمام کاموں کا انجام اللہ ہی کی طرف ہے اور جس نے کفر کیا تو اس کا کفر آپ کو غم زدہ نہ کرے ‘ انہوں نے ہماری ہی طرف لوٹنا ہے ‘ پھر ہم ان کو بخر دیں گے کہ انہوں نے کیا عمل کیے ہیں ‘ بیشک اللہ دلوں کی باتوں کو خوب جاننے والا ہے ہم ان کو (دنیا میں) تھوڑا سا فائدہ پہنچائیں گے ‘ پھر ان کو جبراً سخت عذاب کی طرف لے جائیں گے اور اگر آپ ان سے سوال کریں کہ آسمانوں اور زمینوں کو کس نے پیدا کیا ہے تو یہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے ! آپ کہیے کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں ‘ بلکہ ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے جو کچھ آسمانوں میں اور زمینوں میں ہے وہ سب اللہ ہی کی ملکیت میں ہے ‘ بیشک اللہ بےپرواہ حمد کیا ہوا ہے (لقمان : ٢٦۔ ٢٢ )

اللہ کے پاس حسن انجام کا پانا 

یعنی جو شخص اخلاص سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہو اور اسی کی اطاعت کا قصد کرتا ہو اور وہ اپنی عبادت میں محسن ہو اور اس قدر خوف سے ڈرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے گویا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہو ‘ حدیث میں ہے حضرت جبریل نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا : مجھے بتائیے احسان کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا : تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا کہ تم اللہ کو دیکھ رہے ہو ‘ اور اگر تم اس کو نہیں دیکھ رہے تو (یہ یقین رکھو کہ) وہ تمہیں دیکھ رہا ہے (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٨‘ سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٥٩٥‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٦١٠‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٤٩٩٠ ذ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٦٣) اور اس کا معنی یہ بھی ہے کہ وہ تمام شرائط ‘ ارکان ‘ واجبات ‘ سنن اور آداب کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے۔

اور فرمایا : اس نے ایک مضبوط دستہ کو پکڑ لیا ‘ حضرت ابن عباس نے کہا اس سے مراد ہے لا الہ الا اللہ ‘ بعض مفسرین نے کہا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے جس شخص نے اپنے چہرے کو اللہ کی بار گاہ میں جھکا دیا ہو ‘ اس سے مراد یہ ہے کہ جس شخص نے اپنے آپ کو بالکلیہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیا اور اس کے حوالے کردیا جس طرح بیچنے والا کسی چیز کو فروخت کر کے خریدار کے حوالے کردیتا ہے ‘ اور اس سے یہ بھی مراد ہے جو شخص اللہ تعالیٰ پر پورا پورا توکل کرے۔

اس کے بعد فرمایا : اور تمام کاموں کا انجام اللہ ہی کی طرف ہے ‘ سب سے مضبوط رسی اور سب مضبوط دستہ ‘ اللہ کی جانب ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز ہلاک ہونے والی اور منقطع ہے اور اللہ تعالیٰ باقی ہے اور اس کا کوئی انقطاع نہیں ہے ‘ اور جو شخص اللہ کے دستہ اور اس کے سہار کو پکڑ لے گا تو وہ اس کو اللہ تک پہنچا دے گا اور جو اللہ تک پہنچ جائے گا اس کا انجام بہت اچھا ہوگا ‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جس شخص کے معاملات کا رجوع صرف ایک ذات کی طرف ہو پھر وہ اس کے پاس پہنچنے سے پہلے اس کی طرف ہدیے بھیجتا رہے تو جب وہ اس ذات کے پاس پہنچے گا تو اس کو اس ذات کے فوائد حاصل ہوجائیں گے ‘ اس معنی کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے۔

وما تقدموا لانفسکم من خیر تجدوہ عند اللہ ط (البقرہ : ١١٠) اور تم نے اپنے نفع کے لیے جو کچھ پہلے بھیجا ہے ‘ تم اس (کے اجرو ثواب) کو اللہ کے پاس پالوگے۔ (البقرہ : ١١٠)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 31 لقمان آیت نمبر 22