أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَ اِذَا قِيۡلَ لَهُمُ اتَّبِعُوۡا مَآ اَنۡزَلَ اللّٰهُ قَالُوۡا بَلۡ نَـتَّـبِـعُ مَا وَجَدۡنَا عَلَيۡهِ اٰبَآءَنَا ؕ اَوَلَوۡ كَانَ الشَّيۡطٰنُ يَدۡعُوۡهُمۡ اِلٰى عَذَابِ السَّعِيۡرِ ۞

ترجمہ:

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ان احکام کی پیروی کرو جن کو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ بلکہ ہم اس طریقہ کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ‘ خواہ ان کو شیطان دوزخ کے عذاب کی طرف بلا رہا ہو

تقلید اور عقیدہ کا فرق 

اور فرمایا : اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ان احکام کی پیروی کرو جن کو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ بلکہ ہم اس طریقہ کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپن باپ دادا کو پایا ہے ‘ خواہ ان کو شیطان دوزخ کے عذاب کی طرف بلارہا ہو (لقمان : ٢١ )

یعنی جب کفار اور مشرکین سے کہا جاتا ہے ‘ اللہ کو واحد مانو اور صرف اسی کی عبادت کرو اور بتوں کی عبادت کرنے کو چھوڑ دو ‘ تو وہ کہتے ہیں کہ ہم ان ہی کی عبادت کریں گے جن کی ہمارے باپ دادا عبادت کرتے تھے اور ہم بتوں کو اللہ کا شریک قرار دیتے رہیں گے جیسا کہ ہمارے باپ دادا بتوں کو اللہ کا شریک قرار دیتے رہے تھے ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا : خواہ ان کے باپ دادا کو شیطان بھڑکتی ہوئی آگ کی طرف دعوت دے رہا ہو ‘ اس کی نظیر یہ آیت ہے :

واذاقیل لہم اتبعوا مآ انذل اللہ قالوا بل نتبع مآ الفینا علیہ ابآ ءنا ط اولوکان ابآ ؤھم لا یعقلون شیٔا ولایھتدون (البقرہ : ١٧٠) اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ان احکام کی پیروی کرو ‘ جن کو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ بلکہ ہم اس طریقہ کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ‘ خواہ ان کے باپ دادا بےعقل اور گمراہ ہوں۔ (البقرہ : ١٧٠)

ان آیتوں میں یہ تصریح ہے کہ عقائد اور اصول دین میں کسی کی تقلید کرنا جائز نہیں ہے بلکہ عقائد اور اصول دین میں غور فکر کر کے دلائل کی اتباع کرنی لازم ہے ‘ البتہ فروعی مسائل اور احکام عملیہ میں ائمہ کی تقلید کرنی جائز ہے ‘ واضح رہے کہ تقلید اس جزم (پختہ ادراک) کو کہتے ہیں جو تشکیک مشکک سے زائل ہوجاتا ہے اور عقیدہ اور یقین اس جزم کو کہتے ہیں جو واقع کے مطابق ہو اور تشکیک مشکک سے زائل نہ ہو ‘ مثلاً ہمیں اللہ کے واحد ہونے کا یقین ہے او یہ ہمارا عقیدہ اور یقین ہے اور یہ ہمارا عقیدہ ہے اب کوئی شخص اللہ کے شریک کے ثبوت میں لاکھ دلائل دے تو ہمارے توحید کے عقیدہ میں کوئی شک نہیں ہوگا اور ہمارا اس پر جزم اور یقین زائل نہیں ہوگا ‘ اس کے برخلاف ہم جو امام ابوحنیفہ کی تقلید میں کہتے ہیں تکبیر تحریمہ کے بعد رفع یدین کرنا یا امام کے پیچھے سورة فاتحہ پڑھنا مکروہ ہے اس پر ہم کو جزم ہے لیکن اگر کسی عالم نے اس کے خلاف بہت احادیث صحیحہ پیش کردیں تو ہمارا یہ جزم زائل ہوجائے گا ‘ تقلید میں غالب جانب یہ ہوتی ہے کہ ہمارے امام کا قول صحیح ہے اور مغلوب جانب یہ ہوتی ہے کہ ہوسکتا ہے دوسرے امام کا قول صحیح ہو ‘ اس لیے عقائد میں تقلید جائز نہیں ہے اور احکام فرعیہ عملیہ میں تقلید کرنا جائز ہے۔

عقائد میں تقلید کے جواز یا عدم جواز کی بحث 

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں :

اکثر علماء کا یو موقف ہے کہ عقائد اور اصول دین میں تقلید کرنا جائز نہیں ہے امام رازی اور علامہ آمدی کا بھی یہی مختار ہے کہ عقائد میں غور و فکر کر کے استدلال کرنا ضروری ہے اور اصول دین میں کسی کے اجتہاد کی تقلید کرنا حرام ہے ‘ تاہم جو شخص برحق عقائد میں سے کسی کی تقلید کرے اس کا ایمان صحیح ہے جیسے آج کل کے مسلمان ہیں ‘ ہرچند کہ دلائل سے اللہ تعالیٰ کی توحید کا علم حاصل نہ کرنے کی وجہ سے اور غور و فکر اور نظر و استدلال نہ کرنے کے سبب سے وہ گنہ گار ہوں گے ‘ اور امام شعری یہ کہتے ہیں کہ ان کا ایمان صحیح نہیں ہے ‘ اور استاذ ابو القاسم القشیری نے کہا یہ قول مردود ہے ‘ کیونکہ اس سے عام مسلمانوں کی تکفیرلازم آتی ہے ‘ اس مسئلہ میں تحقیق یہ ہے کہ اگر مقلد کا ایمان درجہ تقلید میں ہو یعنی وہ کسی کے کہنے کی وجہ سے توحید کو مانتا ہو اور اس میں اس کو شک یا وہم کا احتمال ہو بایں طور کہ مقلد کو توحید پر یقین نہ ہو اور اس کا توحید کا علم جاز اور ثابت نہ ہو ‘ یعنی تشکیک مشکک سے زائل ہوسکتا ہو تو پھر ایسی تقلید سے ایمان لانا بالکل کافی نہیں ہے کیونکہ تردد اور شک کے ساتھ ایمان بالکل صحیح نہیں ہوتا۔ اور اگر اسکا ایمان خواہ کسی کے کہنے سے ہو لیکن جازم اور ثابت ہو اور تشکیک مشکک سے زائل نہ ہو تو امام شعری کے نزدیک بھی اس کا ایمان صحیح ہے ‘ اور علامہ خفا جی نے ذکر کیا ہے کہ جس شخص کو یہ علم نہ ہو کہ جس چیز کو وہ مان رہا ہے وہ کس برحق دلیل پر مبنی ہے اس کی تقلید جائز نہیں ہے اور یقین میں جس طرح برحق عقلی دلیل معتبر ہے اسی طرح برحق نقلی دلیل بھی معتبر ہے ‘ اور کفار کی مذمت اس وجہ سے کی جارہی ہے کہ وہ جو اپنے باپ دادا کی تقلید میں شرک کرتے تھے تو ان کا شرک پر جزم اور اعتماد کسی برحق عقلی دلیل پر مبنی تھا نہ کسی برحق نقلی دلیل پر مبنی تھا انکو جو شرک پر جزم تھا وہ جہل مرکب تھا یعنی ادراک جازم ثابت غیر مطابق للواقع۔ (روح المعانی جز ٢١ ص ١٤٣ ذ موضحا مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٧ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 31 لقمان آیت نمبر 21