أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوۡا رَبَّكُمۡ وَاخۡشَوۡا يَوۡمًا لَّا يَجۡزِىۡ وَالِدٌ عَنۡ وَّلَدِهٖ وَلَا مَوۡلُوۡدٌ هُوَ جَازٍ عَنۡ وَّالِدِهٖ شَيۡــئًا‌ ؕ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ‌ ۖ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا وَلَا يَغُرَّنَّكُمۡ بِاللّٰهِ الۡغَرُوۡرُ‏ ۞

ترجمہ:

اے لوگو ! اپنے رب سے ڈرو اور اس دن کا خوف رکھو جس دن کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے فدیہ نہیں دے سکے گا اور نہ کوئی بیٹا اپنے باپ کی طرف سے کوئی فدیہ دے سکے گا ‘ بیشک اللہ کا وعدہ برحق ہے ‘ پس تم کو دنیا کی زندگی ہرگز دھوکے میں نہ ڈال دے اور نہ تمہیں شیطان کا فریب اللہ کے متعلق دھوکے میں ڈالے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے لوگو ! اپنے رب سے ڈرو اور اس دن کا خوف رکھو جس دن کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے فدیہ نہیں دے سکے گا اور نہ کوئی بیٹا اپنے باپ کی طرف سے کوئی فدیہ دے سکے گا ‘ بیشک اللہ کا وعدہ برحق ہے ‘ پس تم کو دنیا کی زندگی ہرگز دھوکے میں نہ ڈال دے اور نہ تمہیں شیطان کا فریب اللہ کے متعلق دھوکے میں ڈالے (لقمان : ٣٣)

اولاد کی وجہ سے والدین کی مغفرت کی وضاحت 

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا : اے لوگو ! اور اس آیت میں کافر اور مومن دونوں کو قیامت کی ہولناکیوں سے ڈرایا ہے۔ اس آیت میں فرمایا ہے کوئی باپ اپنے کسی بیٹے کے کام نہیں آسکے گا اور نہ کوئی بیٹا باپ کے کام آسکے گا ‘ جب کہ بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اولاد کی وجہ سے ماں باپ کی بخشش ہوجائے گی اس سلسلہ میں حسب ذیل احادیث ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس مسلمان کے تین بچے فوت ہوگئے ہوں وہ دوزخ میں صرف قسم پوری کرنے کے لیے داخل ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

وان منکم الا واردھا ج کان علی ربک حتما مقضیا (مریم ٧١) تم میں سے ہر شخص دوزخ میں داخل ہونے والا ہے ‘ یہ آپ کے رب کے نزدیک قطعی فیصلہ کن بات ہے۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٢٥١‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٦٣٢‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٠٦٠‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ١٨٧٥‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٦٠٣)

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ انکے پاس ایک عورت آئی اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں تھیں وہ سوال کررہی تھی اور میرے پاس ای کو دینے کے لیے ایک کھجور کے سوا اور کچھ نہیں تھا ‘ میں نے وہ کھجور اس کودے دی ‘ اس نے کھجور کے دو ٹکڑے کیے اور پنی بیٹیوں میں تقسیم کردیئے اور خود نہیں کھائی ‘ پھر وہ کھڑی ہوئی اور چلی گئی پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے تو میں نے آپ کو یہ واقعہ سنایا آپ نے فرمایا جو شخص ان بیٹیوں کی پرورش کرنے میں مبتلا ہوا وہ اس کے لیے دوزخ سے حجاب بن جائیں گی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٤١٨‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٦٢٩‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٩١٥)

اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید کی اس آیت کا یہ محمل ہے کہ باپ کے گناہ بیٹے پر نہیں ڈالے جائیں گے اور نہ بیٹے کے گناہ باپ پر ڈالے جائیں گے اور نہ ایک کے گناہوں کا دوسرے سے مواخذہ کیا جائے گا ‘ اور ان احادیث کا معانی یہ ہے کہ جو شخص اپنے بچوں کی موت پر صبر کرے گا اور بیٹیوں کی اچھی طرح پرورش کرے گا وہ بیٹیاں اس کے لیے دوزخ کی آگ سے حجاب بن جائیں گی ‘ اور بچوں کی سفارش سے وہ شخص جنت میں چلا جائے گا۔

اس کے بعد فرمایا بیشک اللہ کا وعدہ برحق ہے ‘ یعنی تم دنیا کی رنگینویں اور دلچسپیوں میں منہمک ہو کر آخرت کو نہ بھول جانا ‘ اور اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرنے کو ترک نہ کردینا ‘ کیونکہ شیطان انسان کو دھوکے میں ڈال دیتا ہے وہ اس کے دل میں دنیا کے حصول کی تمنائیں ڈالتا ہے اور اس کو آخرت سے غافل کردیتا ہے ‘ وہ شیطان کے کہنے میں آکر گناہ کرتا ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی امید رکھتا ہے ‘ اور وہ مغفرت کی توقع دلا کر گناہوں پر اکساتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ ہمیں معاف فرمائے اور شیطان کے مکر سے محفوظ رکھے۔ (آمین)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 31 لقمان آیت نمبر 33