چاند کے سائز کو دیکھ کر تاریخ کا تعین کرنا فلکیات یا سائنس کی کون سی کتاب میں لکھا ہے،مفتی منیب الرحمٰن
جس شخص کو سائنس کی مبادیات کا علم نہیں ہے ،وہ اپنے آپ کو سائنس کا امام بناکر پیش کر رہاہے
فواد جی!یہ سائنس اور مذہب دونوں اعتبار سے پہلی کا چاند تھا
مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی پاکستان کے چیئرمین مفتی منیب الرحمٰن نے کہا ہے : سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیرفواد چودھری نے بڑے طمطراق سے گزشتہ شب چاند کو دیکھ کر کہا: ’’عوام خود فیصلہ کرلیں، یہ دوسری تاریخ کا چاند ہے‘‘ اور پھر لبرل میڈیا نے اس پر تبصروں کی لائن لگادی ۔ دینِ اسلام اورقرآن وسنت میں تو یہ کہیں بھی نہیں بتایا گیا کہ نئے چاند کا سائزاورمطلع پر اس کا ٹائم دیکھ کرقمری تاریخ کا تعین کیا جائے گا، نہ یہ فلکیات کی کسی کتاب میں لکھا ہے ، یہ فواد چودھری کی جہالت ہے جو اپنے آپ کو سائنس کا امام سمجھتا ہے ۔ قمری مہینے کی انتیس تاریخ کو اگر چاند غروبِ آفتاب کے بعد کچھ دیر کے لیے سائنسی اعتبار سے مطلع پر موجود ہے ، لیکن وہ قابلِ رؤیت نہیں ہےاور نظر نہیں آیا تو مہینہ تیس کا قرار پائے گا ، مگر اگلی شام تک اس کی عمر چوبیس گھنٹے بڑھ جائے گی ، لہٰذا وہ مطلع پر نسبتاً زیادہ دیر رہے گااور اس کا سائز بھی نسبتاً بڑا ہوگا ، لیکن وہ پہلی تاریخ ہی کا چاند ہوگا، اس پر ہم اپنی کتاب میں تفصیل کے ساتھ لکھ چکے ہیں ۔ ہمارے لبرل میڈیا کو عبادات اورمذہبی مقدّسات سے کوئی غرض نہیں ہے ، وہ تو صرف اسکرین کی رونق لگانا چاہتے ہیں ،خدا کا خوف نہیں ہے،وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ دین اور اہلِ دین کا مذاق اڑایا جائے اور اُن کے نفسِ اَمّارہ کو تسکین پہنچے۔
رسول اللہ ﷺ نے صاف الفاظ میں فرمایا: ’’اگر چاند کی انتیس تاریخ کو مطلع ابر آلود ہو اور چاند نظر نہ آئے تو قمری مہینہ تیس کا پورا کرلو،(صحیح البخاری:1906)‘‘، مگر فواد چودھری اور ان کے مقلدین کے نزدیک فرمانِ رسول کی کوئی حیثیت نہیں ہے ، اُن کا کام صرف دین کا مذاق اڑانا ہے ۔
23جولائی2020ء