چند سوالات کا سادہ جواب:

(فواد چوہدری دین و عقل دونوں اعتبار سے لاعلم ہیں)

سوالات:

سائنس کی ایجاد گھڑی ھے۔ نمازوں کے اوقات گھڑی کے مطابق کیوں ھیں ؟ سورج کو دیکھ کر اذان و نماز کیوں نہیں ؟ روزہ افطار و سحر بھی گھڑی کے مطابق کیوں ھیں ؟

لاؤڈ سپیکر ۔ مائیک۔ ساؤنڈ سسٹم۔ مووی کیمرے۔ موبائل فون۔ انٹرنیٹ۔ یہ سب سائنسی ایجادات ھیں جن کو مذھبی طبقہ بڑے شوق سے استعمال کرتا ھے۔ عینک بھی سائنسی ایجاد ھے۔ مفتی صاحب خود بھی عینک اور دوربین کے ساتھ چاند دیکھ رھے ھوتے ھیں ۔ رویت کا مطلب ننگی آنکھ سے دیکھنا ھے تو عینک اور دوربین کا استعمال کیوں ؟

جواب:

یہ سوالات دینی موقف سے ناواقفیت کا نتیجہ ہیں

نمازوں کے اوقات گھڑی کے مطابق نہیں البتہ سورج کی روزانہ آسمان پر موجودگی چونکہ دائمی طور متعین ہے اس لئے گھڑی کی حیثیت محض سہولت کی ہے گھڑی سے اوقات متعین نہیں ہوتے

اس کو یوں سمجھئے

قرآن پاک نے اوقات نماز کو شمس سے متعلق کیا ہے

أَقِمِ الصَّلَاةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلَىٰ غَسَقِ اللَّيْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ ۖ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا (الاسراء:78)

وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ اللَّيْلِ ۚ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ۚ ذَٰلِكَ ذِكْرَىٰ لِلذَّاكِرِينَ (هود:114)

فَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ (ق:39)

ان آیات میں جو اوقات بیان کئے گئے ہیں وہ اوقات صلاة ہیں

یہ اوقات وسعت رکھتے ہیں ان کا ایک نقطہ آغاز اور ایک نقطہ اختتام ہے جس کا تعین شرعی قواعد کی روشنی میں ہوتا ہے

گھڑی کی معاونت اس لئے قبول کر لی گئی کہ یکم جنوری کے روز شریعت کے مطابق متعین حدود کو اگر گھڑی کے ساتھ ملا لیا جائے تو اگلے دس ہزار سال میں یکم جنوری کے اوقات وہی ہوں گے

قبل طلوع آفتاب اور صبح صادق کے آغاز کا تعین شریعت کے اصولوں کے مطابق مشاہدے کے نتیجے میں ہوتا ہے اسی طرح ابتدائے زوال اور اختتام زوال اور وقت ظہر کا تعلق سائے کے مشاہدے سے ہے آغاز وقت عصر بھی سائے سے متعین ہوتا ہے

مغرب کا تعلق غروب آفتاب سے ہے اور عشاء کا شفق غائب ہونے سے

چونکہ سال بھر سورج ایک مخصوص تاریخ کو مخصوص وقت پر طلوع اور غروب ہوتا ہے اس لئے علماء نے اس کے دائمی کیلینڈر بنا لئے جو وقت کی تقسیم شرعی کے مطابق تھے گھڑی محض معاون ہے اس پر انحصار نہیں

اللہ کریم نے اپنی حکمت بالغہ سے قمری مہینوں سے متعلق عبادات یعنی رمضان المبارک کے روزے، عید شوال کا تعین، اور ایام حج کو رویت قمر سے متعلق کیا ہے

درج ذیل احادیث طیبہ دیکھئے:

صوموا لرؤيته وأفطروا لرؤيته؛ فإن غم عليكم فأكملوا العدة ثلاثين

[رواه مسلم في (الصيام) باب وجوب صوم رمضان لرؤية الهلال والفطر لرؤيته برقم 1081، والنسائي في (الصيام) باب ذكر الاختلاف على عمر بن دينار برقم 2124، واللفظ له]

وفي اللفظ الآخر: صوموا لرؤيته وأفطروا لرؤيته؛ فإن غم عليكم فصوموا ثلاثين

[رواه ابن حبان في صحيحه باب ذكر البيان بأن رؤية هلال شوال إذا غم على الناس كان عليهم إتمام رمضان ثلاثين يومًا]

وفي اللفظ الآخر: فأكملوا عدة شعبان ثلاثين يومًا

[رواه البخاري في (الصوم) باب قول النبي صلى الله عليه وسلم: “إذا رأيتم الهلال فصوموا” برقم 1909.]

ان احادیث میں رویت کا حکم صریح ہے

یہاں واضح رہے کہ رویت قمر اور چیز ہے اور وجود و ثبوت قمر اور چیز ہے

رویت قمر سے مرا چاند کا آنکھ سے دیکھنا ہے اور ثبوت و وجود قمر سے مراد چاند کا عقلی اور علمی طور ثابت و موجود ہونا ہے

چاند آسمان میں ہر وقت موجود ہوتا ہے اور نئے چاند کا عقلی و سائنسی ثبوت آنکھ سے دیکھے بغیر ممکن ہے

لیکن عبادت تعمیل حکم کا نام ہے اور حکم ہے چاند کو دیکھنے کا

چونکہ رویت کا دائمی کیلنڈر نہیں بن سکتا اس لئے ہر ماہ رویت کرنا واجب کفایہ ہے اور قمری تاریخ رویت سے شروع ہوتی ہے

یاد رہے کہ معاونات بصری رویت کے معاونات ہیں اور شریعت میں ان کی ممانعت نہیں آنکھ کو عینک یا دور بین کی مدد حاصل ہو تو بھی یہ آنکھ سے ہی دیکھنا ہے

فواد چودھری جیسے علم دین اور سائنس سے نابلد لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عیدین تہوار ہیں لیکن اصل میں یہ عبادات ہیں اور عبادت کی شرائط شریعت سے متعین ہوتی ہیں سائنس سے نہیں کیونکہ عبادت کا مطلب تعمیل حکم ہے حکم دیکھنے کا ہے

یاد رہے کہ دن رات کے اوقات چونکہ سورج سے متعلق ہیں اس لئے سحری افطار وغیرہ کا تعین شریعت کے قواعد سے کرنے بعد اس کی پیش گوئی گھڑی سے ہو سکتی ہے

سورج کا اگلے 10 ہزار سال کے لئے پیشگی علم ہے کہ یکم جنوری کو کتنے بجے طلوع ہوگا

لیکن طلوع قمر نہیں بلکہ رویت قمر کا حکم ہے اور اس کا (رویت قمر) کوئی متعین کیلنڈر بن ہی نہیں سکتا یہ امکانی چیز ہے یقینی نہیں

اس لئے گزارش ہے کہ دینی مسئل پر سائنس نافذ نہ کریں سائنس کی مدد لینے میں کوئی حرج نہیں لیکن احکام شریعت کو سائنس کی وجہ سے بدلا نہیں جاسکتا

صاحبزادہ احمد ندیم

24 جولائی 2020