أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الٓمّٓ ۞

ترجمہ:

الف ‘ لام ‘ میم

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الف لام میم یہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے نزل کی ہوئی کتاب ہے ‘ اس میں کوئی شک نہیں ہے کیا یہ منکرین کہتے ہیں کہ اس (رسول) نے اس کتاب کو گھڑ لیا ہے ‘ بلکہ وہ آپ کے رب کی طرف سے برحق ہے تاکہ آپ ( اللہ کے عذاب سے) اس قوم کو ڈرائیں جس کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تاکہ وہ ہدایت قبول کرلیں (السجدہ : ٣۔ ١)

الف لام میم کے نکات 

الف لام میم کی ایک تفسیر یہ کی گئی ہے کہ الف کا مخرج حلق کا آخر ہے ‘ اور لام اوسط مخارج ہے اور میم شفوی ہے اور یہ ہونٹوں سے نکلتا ہے اور اول مخارج ہے اور اس میں یہ اشارہ ہے کہ انسان کو اپنی عمر کے اول ‘ اوسط اور آخر تمام ادوار میں اللہ تعالیٰ کا مطیع اور فرماں بردار رہنا چاہیے۔

اس کی دوسری تفسیر یہ کی گئی ہے کہ الف سے اعلان کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی خبردینا ‘ اور لام سے لزوم کی طرف اشارہ ہے اور میم سے اللہ کی ملکیت کی طرف اشارہ ہے ‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ سب پر اس کی عبادت لازم ہے اور سب اس کے مملوک ہیں اور سب پر اس کی اطاعت لازم ہے خواہ وہ اس کی اطاعت خوشی سے کریں یا ناخوشی سے۔

اور اس کی تیسری تفسیر یہ کی گئی ہے کہ الف سے الفت کی طرف اشارہ ہے یعنی اس نے اپنے احباء کے دلوں میں اپنیقرب کی الفت ڈال دی ہے اور لام سے اپنی لقاء اور ملاقات کی طرف اشارہ ہے یعنی اس نے اپنے حباء اور دوستوں کے لیے اپنی لقاء اور ملاقات کا ذخیرہ کررکھا ہے اور میم سے ان کی مراد کی طرف اشارہ ہے یعنی اس کے احباء نے اپنی مراد کو اللہ تعالیٰ کی مراد میں فنا کر رکھا ہے ‘ ان کی اپنی کوئی خواہش نہیں ‘ ان کی وہی خواہش ہوتی ہے جو اللہ کی مشیت اور اس کی مرضی ہوتی ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 32 السجدة آیت نمبر 1