أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰٮهُ‌ۚ بَلۡ هُوَ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰٮهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ لَعَلَّهُمۡ يَهۡتَدُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

کیا یہ منکرین کہتے ہیں کہ اس (رسول) نے اس کتاب کو گھڑلیا ہے ‘ بلکہ وہ آپ کے رب کی طرف سے برحق ہے تاکہ آپ (اللہ کے عذاب سے) اس قوم کو ڈرائیں جس کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تاکہ وہ ہدایت قبول کرلیں

اس اشکال کا جواب کہ اہل عرب کے پاس تو پہلے بھی کئی ——

رسول اور عذاب سے ڈرانے والے آئے تھے 

اور فرمایا تاکہ آپ (اللہ کے عذاب س) اس قوم کو ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تاکہ وہ ہدایت کو قبول کرلیں۔

اس آیت پر یہ اشکال ہوتا ہے کہ اگر اس آیت سے یہ مراد ہے کہ اہل مکہ کے پاس حضرت آدم سے لے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک کوئی نبی نہیں آیا اور کوئی عذاب سے ڈرانے والا نہیں آیا تو یہ بہت بعید ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس طویل عرصہ تک اس قوم کے پاس کوئی ڈرانے والا اور کوئی نبی اور رسول نہیں بھیجا ‘ نیز یہ مفروضہ قرآن مجید کی ان آیات کے خلاف ہے :

وان من امۃ الا خلا فیھا نذیر اور کوئی امت ایسی نہیں تھی جس میں کوئی اللہ کے عذاب سے ڈرانے والا نہ آیا ہو۔ (الفاطر : ٢٤) 

نیز فرمایا :

ولقد بعثنا فی کل امۃ رسولا اناعبدوا اللہ واجتنبو الطاغوت ج فمنھم من ھدی اللہ ومنھم من حقت علیہ الضللۃ ط فسیروا فی الارض فانظروا کیف کان عاقبۃ المکذبین (النحل : ٣٦)

اور ہم نے ہر قوم میں ایک رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور شیطان سے اجتناب کرو ‘ پس ان میں سے بعض وہ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی اور ان میں سے بعض وہ ہیں جن پر گمراہی ثابت ہوگئی ‘ سو تم زمین میں سفر کرو پھر دیکھو کہ (رسولوں کی) تکذیب کرنے والوں کا کیسا انجام ہوا۔ (النحل : ٣٦)

ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ عرب والوں کی طرف بھی ڈرانے والے اور رسول بھیجے گئے تھے۔

عرب کے لوگوں کو شرک اور کفر پر عذاب سے ڈرانے کے لیے سب سے پہلے حضرت ھود اور حضرت صالح (علیہما السلام) کو بھیجا گیا تھا ‘ پھر حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) کو مبعوث کیا گیا جن کا زمانہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ڈھائی ہزار برس پہلے ہے ‘ ان کے بعد جو آخری پیغمبر سرزمین عرب میں مبعوث کیے گئے وہ حضرت شعیب (علیہ السلام) تھے ‘ وہ بھی ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تقریباً دوہزار برس پہلے تھے۔

اس لیے اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ اس آیت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت تک سرزمین عرب میں کوئی رسول نہیں بھیجا گیا تھا بلکہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ کافی مدت سے عرب والوں کے پاس کوئی اللہ کے عذاب سے ڈرانے والا نہیں آیا تھا۔

اس طویل عرصہ میں ہرچند کہ عرب والوں کے پاس عمل کرنے کے لیے کوئی مکمل شریعت نہ تھی اور ان کے پاس ایک صالح حیات گذارنے کے لیے دستور عمل نہ تھا ‘ لیکن یہ حقیقت انہیں معلوم تھی کہ اس کائنات کا کوئی پیدا کرنے والا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ ہے اور اس کا ئنات کی تخلیق میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے ‘ وہ الوہیت اور تخلیق میں کسی کو اللہ کا شریک نہیں مانتے تھے وہ عبادت اور پرستش میں بتوں کو اللہ کا شریک قراردیتے تھے ‘ عرب والوں کا اصل دین ‘ دین ابراہیم تھا ‘ عمرو بن لحی نام کے ایک شخص نے عرب میں بت پرستی کی بدعت شروع کی تھی ‘ اس کے باوجود عرب کے مختلف علاقوں میں ایسے لوگ تھے جو بت پرستی کے مخالف تھے اور توحید کا پر چار کرتے تھے ‘ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متصل زمانے میں قس بن ساعدہ الایادی ‘ امیہ بن ابی الصلت ‘ سوید بن عمروالمصطلقی ‘ زین بن عمرو بن نفیل اور ورقہ بن نوفل اور ایسے کئی حضرات موحد تھے ان کو حنفاء کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

اس اشکال کا جواب کہ اگر آپ صرف قریش مکہ کے رسول ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔

تو پھر اہل کتاب کے لیے رسول نہیں ہیں 

اس آیت میں فرمایا ہے کہ آپ (اللہ کے عذاب سے) اس قوم کو ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا۔ اس پر یہ اشکال ہوتا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ صرف قریش مکہ اور میین کے رسول ہیں جنکے پاس عرصہ دراز سے کوئی رسول نہیں آیا تھا اور آپ ان اہل کتاب یعنی یہودیوں اور عیسائیوں کے لیے رسول نہیں ہیں کیونکہ ان کے پاس تو اللہ کے عذاب سے بہت ڈرانے والے انبیاء بنی اسرائیل آچکے تھے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ بعض کی تخصیص کرنے سے دوسروں کی نفی نہیں ہوتی جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وانذر عشیرتک الاقربین (الشعراء : ٢١٤) اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے۔

اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ اپنے ریبی رشتہ داروں کے علاوہ اور کسی کو نہ ڈرائیں یا ان کو ڈرانے کا حکم نہیں دیا گیا ‘ اس طرح جب یہ فرمایا ” آپ (اللہ کے عذاب سے) اس قوم کو ڈرائیں جس کے پاس آپ سے پہلے ڈرانے والا نہیں آیا “ تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ اہل کتاب کو نہ ڈرائیں یا ان کو وعظ اور نصیحت نہ کریں ‘ اور قرآن مجید کی دیگر آیات سے ثابت ہے کہ آپ نے اہل کتاب کو بھی اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا ہے اور ان کو وعظ فرمایا ہے :

وقالت الیھود والنصری نحن ابنؤا اللہ واحبآ ؤہ ط قل فلم یعذ بکم بذنو بکم ط بل انتم بشر ممن خلق ط یغفرلمن یشآء ویعذب من یشآء ط وللہ ملک السموت والارض وما بینھما ز والیہ المصیر (المائدہ : ١٨)

اور یہودیوں اور عیسائیوں نے کہا ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں ‘ آپ کہیے پھر وہ تم کو تمہارے گناہوں پر عذاب کیوں دے گا ؟ بلکہ تم بھی اس کی مخلوق میں سے ایک بشر ہو ‘ وہ جس کو چاہے گا معاف کردے گا اور جس کو چاہے گا عذاب دے گا ‘ اور تمام آسمان اور زمینیں اور ان کے درمیان کی ہر چیز اللہ ہی کی ملکیت ہے اور اس کی طرف (تم سب نے) لوٹنا ہے۔ (المائدہ : ١٨)

یآھل الکتب قد جآء کم رسولنا یبین لکم علی فترۃ من الرسول ان تقولوا ما جآ ءنا من بشیر ولا نذیر ز فقد جآء کم بشیر و نذیر ط واللہ علی کل شیء قدیر (المائدہ : ١٩)

اے اہل کتاب ! بیشک تمہارے پاس رسولوں کی آمد منقطع ہونے کے بعد ہمارے رسول آگئے ہیں جو تمہارے لیے (احکام) بیان کررہے ہیں ‘ تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمارے پاس کوئی بشیر نہیں آیا تو اب تمہارے پاس بشیر اور نذیر آپہنچا ہے ‘ اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے (المائدہ : ١٩)

یآھل الکتب لم تکفرون بایت اللہ وانتم تشھدون (آل عمران : ٧٠)

اے اہل کتاب ! تم اللہ کی آیتوں کا کیوں کفر کررہے ہو حالانکہ تم ان کی گواہی دیتے تھے۔

یآھل الکتب لم تلبسون الحق بالباطل و تکتمون الحق وانتم تعلمون (آل عمران : ٧١)

اے اہل کتاب ! تم حق اور باطل کو کیوں خلط ملط کررہے ہو اور حق کو چھپا رہے ہو ! حالانکہ تم جانتے ہو ! (آل عمران : ٧١)

القرآن – سورۃ نمبر 32 السجدة آیت نمبر 3