حکایت نمبر:354 جرأت مند حاجی

حضرتِ سیِّدُنا علی بن زید علیہ رحمۃ اللہ الاحد سے منقول ہے، حضرت سیِّدُنا طاء ُوس علیہ رحمۃاللہ القُدُّوس نے فرمایا :”ایک مرتبہ موسِمِ حج میں حَجَّاج بن یوسف مکۂ مکرمہ (زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا) آیاتومجھے اپنے پاس بلوایا۔ میں گیا تو مجھے اپنے برابر بٹھایا اور ٹیک لگانے کے لئے تکیہ دیا ، ہم ابھی بیٹھے باتیں کررہے تھے کہ کسی طواف کرنے والے کی صدا فضا میں بلند ہوئی:

”لَبَّیْک اَللّٰھُمَّ لَبَّیْک لَاشَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْک اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْک لَاشَرِیْکَ لَک

ترجمہ : میں حاضر ہوں، اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! میں حاضر ہوں (ہاں) میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، بے شک تمام خوبیاں اور نعمتیں تیرے لئے ہیں اور تیرا ہی مُلک ہے، (میرے مولیٰ) تیرا کوئی شریک نہیں۔”

حَجَّاج بن یوسف نے جب یہ آواز سنی تو خادم کو حکم دیا کہ اس حاجی کو ہمارے پاس بلا لاؤ۔ خادم ایک باوقار شخص کو ساتھ لے آیا۔حَجَّاج نے اس سے پوچھا:” تو کن لوگو ں میں سے ہے ؟” کہا:” اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ! میں مسلمان ہوں۔” حَجَّاج نے کہا:” میں تجھ سے اِسلام کے متعلق نہیں پوچھ رہا۔” کہا:” پھر کس کے متعلق پوچھ رہا ہے ؟” کہا : میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ تیرا تعلق کس ملک سے ہے ۔”کہا:” میں یمن کا رہنے والا ہوں۔”حجاج نے کہا:” میرا بھائی محمد بن یوسف کیسا ہے ؟” کہا:”بہت اچھے لباس والا، بہت اچھے جسم کا مالک اور خوب گھومنے پھرنے والا سوار ہے ۔” حَجَّاج نے کہا : ” میں ان چیزوں کے متعلق نہیں پوچھ رہا۔” کہا:” تو پھر کس چیز کے متعلق پوچھ رہا ہے؟”کہا:” میں تو اس کی سیرت وکردار کے متعلق پوچھ رہا ہوں ۔” یہ سن کر اس مردِ قلندر، جرأت مندحاجی نے بڑی بے خوفی سے کہا:” وہ انتہائی ظالم وسرکش ہے، مخلوق کا پیر وکار اور” خَالِقِ لَمْ یَزَل” کا نافرمان ہے ۔” حَجَّاج نے اپنے بھائی کے خلاف یہ باتیں سنیں تو غصے سے تڑپ کر بولا: ”تجھے اس طر ح کا کلام کرنے پر کس چیز نے اُبھارا؟ کیا تو جانتا نہیں کہ وہ میرا بھائی ہے اور اس کا مرتبہ میرے نزدیک کتنا بلندہے ؟” جرأت مند حاجی نے بڑی دلیری سے کہا :” تیرا کیا خیال ہے کہ اگر تیرابھائی تیری نظر میں مقام و مرتبے والا ہے توکیا اس وجہ سے میں اسے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا مقرب جان لوں گا؟ ہرگز نہیں،بلکہ عظیم وبلند تو وہی ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں مقرب ہے اور میں تیرے ظالم و سرکش بھائی کو مُعَظَّم ومُکَرَّم کیو ں سمجھوں؟ حالانکہ میں تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے گھر کا قصد کر کے آیاہوں، میں تو اس کے دِین کو سمجھنے والا،اس کے رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر ایمان لانے والا اور ان کی تصدیق کرنے والاہوں ۔”
دلیر وجرأت مندحاجی کی باتیں سن کرحَجَّاج بن یوسف خاموش رہا، اس سے کوئی جواب نہ بن پڑا۔ پھر بلند ہمت، جرأت مند حاجی کھڑا ہوا اور اجازت لئے بغیر وہاں سے چلا گیا۔ حضرتِ سیِّدُنا طاء ُوس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :”میں بھی اس مردِ قلندر کے پیچھے ہولیا ،میں نے کہا :”یہ شخص بہت حکیم ودانا ہے۔” پھر میں نے دیکھا کہ وہ خانۂ کعبہ کا غلاف پکڑے بارگاہِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ میں اس طرح التجائیں کر رہا ہے : ” اے میرے پروردگار عَزَّوَجَلَّ ! مجھے اپنے فضل وکرم سے پریشانی اور مصیبت سے نجات عطا فرما، ہر معاملے میں بخیلوں کے شر سے محفوظ رکھ اور حق بات کہنے کی توفیق عطا فرما۔”
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)
(میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ظالم وجابر حاکم کے سامنے حق بات کہنا عظیم جہاد ہے۔ اس مردِ قلندر نے ایک انتہائی سفَّاک وظالم حکمران کے سامنے اس کے بھائی کی حقیقت کا علی الاعلان اظہار کیا۔حَجَّاج بن یوسف کا رُعب ودبدبہ اس مردِ مجاہد کے لئے کسی قسم کی رکاوٹ نہ بن سکا۔ اسے خوف تھا تو بس خدائے بزرگ وبر تر کا اور یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ جو اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرتاہے وہ مخلوق سے نہیں ڈرتابلکہ مخلوق اس سے ڈرتی ہے۔ ہر معاملہ میں اِخلاص شرط ہے ،جو مخلص ہے وہ کامیاب و کامران ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں بھی حق بات کہنے،سننے کی توفیق عطا فرمائے۔ حق پر عمل کرنے اور حق کا ساتھ دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ )
(آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)