{حالتِ نماز میں وضو ٹوٹ جائے تو کیا کریں؟}

مسئلہ : ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا حالتِ نماز میں اُس کی ریح خارج ہوگئی وضو ٹوٹ گیا وہ اُسی وقت نماز توڑ دے اورصفوں سے نکل کر دوبارہ وضو کرے شرمائے نہیں کیونکہ علماء کرام فرماتے ہیں وضو ٹوٹ جانے کے باوجود وہ صفوں میں کھڑا رہا تواس نے نماز جیسی اہم عبادت کی بے ادبی کی جو کہ کُفر ہے ۔

مسئلہ : حالتِ جماعت میں کسی کا وضو ٹوٹا، فرض کریں کہ وہ شخص پہلی صف میں جماعت کے ساتھ نماز ادا کررہا ہے رمضان کا مہینہ ہے کیونکہ رمضان میں مسجد یں بھری ہوتی ہیں اَب وہ شخص تصور کررہا ہے کہ میں کہاں کہاں سے نکل کر جاؤں کیونکہ نماز ی کے آگے سے گُزرنا توگناہ ہے ؟

یہ ذہن میں رکھیئے کہ حالتِ جماعت میں کتنے ہی آدمیوں کے سامنے سے گزرنا پڑے گناہگار نہ ہوگا کیونکہ حالتِ جماعت میں امام کاسترہ مقتدی کا سترہ ہے لہٰذا شرعی مجبوری کی وجہ سے کوئی شخص حالتِ جماعت میں نماز یوں کے آگے سے گزر جائے تو گناہگار نہیں ہوگا۔

مسئلہ : امام کااگر وضو ٹوٹ جائے تو امام کو چاہیے کہ وہ فوراً مصلّے سے ہٹ جائے اوراپنے نائب امام یا مؤذن کو مصلّے پر کھڑا کردے اوراس کو کہہ دے کہ میرا وضو ٹوٹ گیا ہے بقیہ کی نماز آپ مکمل کروادیں۔ اب بقیہ کی نماز نائب پڑھائے گا اِس طرح اس کی بھی نماز ہوگئی اورمقتدیوں کی بھی نماز ہوگئی ۔

مگر آج کل لوگ مسائل نہیں جانتے اس لئے اگر امام کا وضو ٹوٹ جائے تووہ سلام پھیر دے تاکہ لوگ سمجھ جائیں کہ امام صاحب کاوضو ٹوٹ گیا ہے تمام مقتدی بھی نماز توڑ دیں پھر امام صاحب دوبارہ وضو کرکے نماز پڑھادیں۔