حضور ﷺ کی شَفاعت

کلمہ سرکار مدینہ ﷺ کی شفاعت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ قیامت کے روز اللہ جل شانہ کے حکم سے انبیاء کرام اوراولیا ء اللہ اور شہداء عظام عام مسلمانوں کی شفاعت کریں گے۔ اللہ رب العزت ان کی شفاعت سے بے شمار گنہگاروں کو بخش دے گا۔ شفاعت کا اولین حق میرے آقا شافع یوم النشور ﷺ کو حاصل ہو گا اور جس شخص نے کلمہ پڑھا ہو گا سرکار علیہ السلام اسکی شفاعت فرمائیں گے اس کے متعلق رحمت عالم اکا فرمان عالیشا ن حسب ذیل ہے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ! قیامت کے دن آپ کی شفاعت کا حقدار کون ہوگا؟ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اے ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ ) مجھے احادیث پر تمہاری خواہش دیکھ کر یہی گمان ہوا تھا کہ اس بات کو تم سے پہلے دوسرا کوئی نہ پوچھے گا پھر رحمت عالم ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے روز میری شفاعت اسے نصیب ہوگی جوخلو صِ دل سے کلمۂ طیبہ’’لَااِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ‘‘ پڑھے گا۔ (بخاری شریف)

میرے پیارے آقاﷺ کے پیارے دیوانو ! کلمہ طیبہ بندئہ مومن کو حضور ﷺ کی شفاعت کا حقدار بنا دیتاہے۔ میدان محشر میں جہاں کوئی کسی کے کام نہ آئیگا وہاں پر رحمت عالم ﷺ کلمہ پڑھنے والوں کی شفاعت فرمائیںگے۔ سرکار رحمت عالم ﷺ کی شفقت کا اندازہ کوئی کیا کرسکتا ہے ؟ ہزاروں شفقتیں حضورﷺ کی شفقتوں کے سامنے ہیچ ہیں۔ دنیا وآخرت میں اللہ عزوجل کے بعد سب سے زیادہ ہمارے حضورﷺ کی کرم نوازیاں ہیں۔ لہٰذا’’لَااِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ‘‘اخلاص سے پڑھ کر حضور ﷺ کی شفاعت کے حقدار بنیں۔ اللہ عزوجل ہم سب کو توفیق رفیق نصیب فرمائے۔

آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْکَرِیْمِ عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَ التَّسْلِیْمِ