أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ذٰلِكَ عٰلِمُ الۡغَيۡبِ وَالشَّهَادَةِ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُۙ ۞

ترجمہ:

وہی عالم الغیب ہے اور عالم الظاہر ہے ‘ بہت غالب اور بےحد رحم فرمانے والا ہے

عالم الغیب کا معنی ‘ اس کا ربط اور اس کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہونا 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وہی عالم الغیب اور عالم الظاہر ہے بہت غالب اور بےحد رحم فرمانے والا ہے (السجدہ : ٦)

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے بتایا تھا کہ وہ آسمان سے زمین تک تمام مخلوق کی تدبیر فرماتا ہے۔ اور اس آیت سے یہ بتایا ہے کہ وہ صرف مخلوق کی تدبیر نہیں فرماتا بلکہ وہ ہر غیب اور ظاہر کا علم بھی رکھتا ہے اور صرف علم ہی نہیں رکھتا وہ بہت غالب بھی ہے لوگ جلوت میں کوئی عمل کریں یاخلوت میں کوئی عمل کریں اس سے کسی مخلوق کا کوئی عمل مخفی نہیں ہے ‘ اگر وہ اس کی نافرمانی کریں یا اس سے بغاوت کریں تو وہ ان کامواخذہ کرنے اور ان کی گرفت کرنے پر قادر ہے وہ غالب ہے ان کو ہر طرح کی سزا دے سکتا ہے ‘ اور وہ بےحد رحم فرمانے والا ہے ‘ اس لیے اگر بندوں سے کوئی خطا ہوجائے تو وہ مایوس نہ ہوں وہ رحیم و کریم ہے ان کی خطائوں کو معاف کردے گا۔

اور جو بندے اس کی اطاعت کرتے ہیں اور اس کی حکم عدولی نہیں کرتے وہ ان پر رحم فرمائے گا اور انکو اپنے فضل و کرم سے اجرو ثواب عطا فرمائے گا۔

عالم الغیب اللہ تعالیٰ کی صفت مخصوصہ ہے اور کسی مخلوق کو عالم الغیب کو کہنا جائز نہیں ہے ‘ ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ تعالیٰ نے کائنات میں سب سیزیادہ علم غیب عطا فرمایا ہے لیکن آپ کو بھی عالم الغیب کہنا جائز نہیں ہے ‘ جیسے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عزیز وجلیل ہیں لیکن آپ کو محمد عزوجل کہنا جائز نہیں ہے کیونکہ عرف میں عزوجل اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہوچکا ہے ‘ اسی طرح اس کے باوجود کہ آپ کو بہت بلکہ سب سے زیادہ علوم غیبیہ عطا کیے گئے ہیں ‘ آپ کو عالم الغیب کہنا جائز نہیں ہے اس لیے آپ کو عالم الغیب کے بجائے مطلع علی الغیب کہنا چاہیے۔

القرآن – سورۃ نمبر 32 السجدة آیت نمبر 6