حدیث نمبر 580

روایت ہے انہی سے اورحضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نےسفرکی نماز میں دو رکعتیں شروع کیں وہ دونوں پوری ہیں کوتاہ نہیں ۱؎ اور وتر سفر میں سنت اسلام ہے ۲؎(ابن ماجہ)

شرح

۱؎ یعنی سفر میں دو رکعتیں ہی مشروع ہیں چار رکعتیں غیر مشروع یعنی خلاف شرع اور یہ دو رکعتیں ایسی ہی مکمل ہیں جیسےحضر میں چار اور انہیں چار پڑھنا ایسا ہی بُرا ہے جیسے فجر کے چار فرض یا گھر میں ظہر کے چھ فرض پڑھنا یا یہ مطلب ہے کہ یہ دو رکعتیں تعداد میں قصر ہیں ثواب میں نہیں ان پر ثواب پوری چار رکعتوں کا ملے گا۔(لمعات)

۲؎ یہاں سنت سے مراد واجب کا مقابل نہیں۔یہ مطلب نہیں کہ سفرمیں وتر پڑھنا سنت ہے ورنہ وہاں نوافل اور دیگر سنن پڑھنا بھی سنت ہیں وتر کی کیا خصوصیت ہے،بلکہ مطلب یہ ہے کہ سفر میں وتر پڑھنا اسلام کا دائمی طریقہ ہے۔(لمعات)