أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ يَتَوَفّٰٮكُمۡ مَّلَكُ الۡمَوۡتِ الَّذِىۡ وُكِّلَ بِكُمۡ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمۡ تُرۡجَعُوۡنَ۞

 ترجمہ:

آپ کہیے تمہیں موت کا فرشتہ وفات دیتا ہے جس کو تم پر مقرر کیا گیا ہے ‘ پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹائے جائو گے

اللہ تعالیٰ ‘ ملک الموت اور دیگر فرشتوں کے موت دینے کے محامل 

آپ کہیے تمہیں موت کا فرشتہ وفات دیتا ہے جس کو تم پر مقرر کیا گیا ہے۔ (السجدہ : ١١)

قرآن مجید میں وفات دینے کا اسناد اللہ تعالیٰ کی طرف بھی کیا گیا ہے ‘ اور ملک الموت یعنی حضرت عزرائیل (علیہ السلام) کی طرف بھی اس کا اسناد کیا گیا ہے اور عام فرشتوں کی طرف بھی اس کا اسناد کیا گیا ہے۔

اللہ کی طرف موت طاری کرنے کا اسناد ان آیتوں میں ہے :

اللہ یتوفی الانفس حین موتھا والتی لم تمت فی منا مھاج (الزمر : ٤٢) جن کو موت نہیں آئی ان کی روحوں کو ان کی نیند میں قبض فرمالیتا ہے۔

الذی خلق الموت والحوۃ۔ (الملک : ٢) جس نے موت اور حیات کو پیدا کیا۔

یحی ویمیت۔ (البقرہ : ٢٥٨) وہی زندہ کرتا ہے وہی موت طاری کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی طرف موت طاری کرنے کی جو نسبت کی گئی ہے وہ خلق کے اعتبار سے ہے یعنی وہ موت کو پیدا کرتا ہے ‘ یا اس اعتبار سے ہے کہ وہ حضرت عزرائیل اور دیگر فرشتوں کو روح قبض کرنے کا اذن دیتا ہے۔

اور قرآن مجید میں ملک الموت یعنی حضرت عزرائیل کی طرف بھی موت طاری کرنے کی نسبت کی گئی ہے ‘ جیسا کہ زیر تفسیر آیت میں ہے :

قل یتوفکم ملک الموت الذی وکل بکم۔ (السجدہ : ١١) آپ کہیے تمہیں موت کا فرشتہ وفات دیتا ہے جس کو تم پر مقرر کیا گیا ہے۔

ملک الموت کی طرف روح قبض کرنے کی نسبت بہ اعتبار کسب کے ہے یا اس کا روح قبض کرنا اللہ تعالیٰ کے اذن کے تابع ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ کا روحوں کو قبض کرنا اور موت طاری کرنا اصالہ اور استقلا لا ہے۔

امام الحسین بن مسعود الفرا البغوی المتوفی ٦ ٥١ ھ لکھتے ہیں :

روایت ہے کہ ملک الموت کے نزدیک تمام دنیا ہاتھ کی ہتھیلی کی طرح ہے ‘ وہ بغیر کس مشقت کے جس شخص کو چاہے پکڑ لیتا ہے ‘ وہ مشارق اور مغارب سے ‘ مخلوق کی روحوں کو قبض کرلیتا ہے ‘ اور رحمت کے فرشتے اور عذاب کے فرشتے اس کے مددگار ہیں ‘ سو رحمت کے فرشتے مومنوں کے لیے ہیں اور عذاب کے فرشتے کافروں کے لیے ہیں۔

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا ملک الموت کا قدم مشرق اور مغرب کے درمیان ہے۔

مجاہد نے کہا تما روئے زمین ملک الموت کے سامنے ایک تھال کی طرح ہے وہ اس میں سے جو چیز چاہتے ہیں جہاں سے چاہتے ہیں پکڑ لیتے ہیں۔

بعض روایات میں ہے کہ ملک الموت آسمان اور زمین کے درمیان ایک سیڑھی پر ہیں ‘ انکے مددگار انسان کی روح کو کھینچتے ہیں اور جب اس کی روح اس کے سینہ اور گلے تک پہنچ جاتی ہے تو ملک الموت اس کو قبض کرلیتے ہیں۔

(معامل اتنزیل ج ٣ ص ٥٩٦‘ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٤٢٠ ھ)

اور قرآن مجید میں فرشتوں کی طرف بھی موت طاری کرنے اور روح قبض کرنے کی نسبت کی گئی ہے :

حتی اذا جآء احدکم الموت توفتہ رسلنا وھم لا یفرطون (الانعام : ٦١) حتی کہ جب تم میں سے کسی کے پاس موت آتی ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے اس کی روح قبض کرلیتے ہیں اور وہ کوئی کوتاہی نہیں کرتے۔ (النحل : ٢٨ )

الذین تتوفھم اللملئکۃ ظالمی انسفہم (النحل : ٢٨) جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں جب فرشتے ان کی روحوں کو قبض کرتے ہیں۔

ان فرشتوں کی طرف جو روح قبض کرنے کی نسبت کی گئی ہے وہ اس اعتبار سے ہے کہ وہ اس معاملہ میں ملک الموت کی مدد کرتے ہیں جیسا کہ بعض آثار سے ابھی گزرا ہے کہ حضرت عزرائیل کے مددگار فرشتے انسان کی روح کو کھینچتے ہیں حتی کہ جب روح نکلنے کے قریب ہوتی ہے تو پھر ملک الموت اس کی روح کو قبض کرلیتے ہیں۔

ان آیات میں اس طرح بھی تطبیق دی گئی ہے کہ بعض انسانوں کی روح کو اللہ تعالیٰ خود قبض فرماتا ہے اور بعض انسانوں کی روح کو ملک الموت قبض کرتے ہیں اور بعض روح کو فرشتے قبض کرتے ہیں۔

آیا ملک الموت تمام مخلوق پر موت طاری کرتے ہیں یا خاص مخلوق پر 

حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ لکھتے ہیں :

امام ابن جو یبر نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا کہ ملک الموت (علیہ السلام) کو صرف مومنین کی روحیں قبض کرنے کے لیے مقرر کیا گیا ہے ‘ اور ایک فرشتہ جنات میں ہے ‘ اور ایک فرشتہ شیاطین میں ہے ‘ اور ایک فرشتہ پرندوں اور وحوش میں ‘ درندوں ‘ مجھلیوں او چیونٹیوں میں ہے ‘ سو یہ چار فرشتے ہیں اور جب پہلا صور پھونکا جائے گا تو سب فرشتے مرجائیں گے اور ملک الموت ان کی روحوں کی کو قبض کریں گے پھر وہ خود بھی مرجائیں گے اور جو سمندر کے شہداء میں ان کی روحوں کو اللہ تعالیٰ خود قبض فرماتا ہے ‘ اور ان کی کرامت کی وجہ سے اس کو ملک الموت کے سپرد نہیں کرتا۔ (الدر الموثور ج ٦ ص ٤٧٨‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٤٢١ ھ)

حضرت ابو امامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر کے شہداء کے سوا تمام روحوں کو قبض کرنے کے لیے ملک الموت علیہ اسلام کو مقرر کیا تو سب کی روحوں کو قبض کرنے کے وہی متولی ہیں۔ (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٧٧٨‘ المسند الجامع رقم الحدیث : ٥٣٣٥)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ چار ملک الموت کی روایت صحیح نہیں ہے۔

حارث بن خزرج بیان کرتے ہیں کہ میرے والد (رض) نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہ آپ نے ملک الموت (علیہ السلام) کو ایک انصاری کے سرہانے بیٹھے ہوئے دیکھا آپ نے فرمایا اے ملک الموت ! میرے صاحب کے ساتھ نرمی کرنا یہ مومن ہے ‘ ملک الموت نے کہا آپ خوش رہیں اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی رکھیں کیونکہ میں ہر مومن کے ساتھ نرمی کرتا ہوں ‘ اے محمد ! آپ یقین رکھیں ! میں ابن آدم کی روح قبض کرتا ہوں جب اس کے گھر والوں میں سے کوئی چیخ کر وہ روتا ہے تو میں اس کی روح کو لے کر کھڑاہو جاتا ہوں ‘ اور میں سوچتا ہوں کہ یہ کیوں چیخ رہا ہے ! اللہ کی قسم ! ہم نے اس پر کوئی ظلم کیا ہے نہ وقت سے پہلے اس کی روح قبض کی ہے ‘ اگر یہ اللہ کی تقدیر پر صبر کریں گے تو ان کو اجر دیا جائے گا اور اگر یہ چیخ و پکار اور واویلا کریں گے تو یہ گنہ گار ہوں گے ‘ اور ہم نے آپ کے پاس بار بار آنا ہے سو آپ احتیاط کریں اور میں ہر دن اور ہر رات کو ‘ ہر قسم کے گھر پر ‘ ہر خشکی اور ہر سمندر پر اور ہر نرم جگہ اور ہر پہاڑ پر نظر رکھتا ہوں اور میں ان جگہوں کے ہر چھوٹے اور بڑے کو پہچانتا ہوں ‘ اور اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر ایک مچھر کی روح بھی قبض نہیں کرتا۔ جعفر نے کہا مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ جو شخص نمازوں کا پابند ہو جب اس پر موت کا وقت آئے تو اس سے شیطان کو دور کردیا جاتا ہے اور ملک الموت کو لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی تلقین کرتا ہے اور یہ بہت عظیم حال ہے۔ ( المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٤١٨٨‘ مسند البنز اررقم الحدیث : ٧٨٤‘ مجمع الزوائد ج ٢ ص ٣٢٦ )

ملک الموت پر موت کا آنا 

روایت ہے کہ جب تمام مخلوق مرجائے گی اور کوئی جاندار باقی نہیں رہے گا تو ملک الموت اللہ تعالیٰ سے عرض کریں گے : اے میرے رب ! اب تیرے اس عبد ضعیف ملک الموت کے سوا اور کوئی زندہ نہیں بچا ‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے ملک الموت ! تو نے میرے نبیوں ‘ رسولوں ‘ میرے ولیوں او میرے خاص بندوں کو موتکا مزہ چکھایا ہے اور میں عالم الغیب ہوں اور میرے علم قدیم میں یہ ہے کہ میری ذات کے سوا ہر شخص نے موت کا مزہ چکھنا ہے اور اب تمہارے مرنے کی باری ہے ‘ ملک الموت کہیں گے : اے اللہ ! اپنے بندہ ملک الموت پر رحم اور لطف فرمانا وہ بہت کمزور ہے ! اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اپنا دایاں ہاتھ دائیں رخسار کے نیچے رکھ کر جنت اور دوزخ کے درمیان لیٹ جائو اور مرجائو ‘ پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے ملک الموت مرجائیں گے۔(روح البیان ج ٧ ص ١٣٦‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٤٢١ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 32 السجدة آیت نمبر 11