الفصل الثالث

تیسری فصل

حدیث نمبر 577

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے منٰی میں دو رکعتیں پڑھیں آپ کے بعد ابوبکر نے اور حضرت ابوبکر کے بعد حضرت عمر نے حضرت عثمان نے اپنی شروع خلافت میں ۱؎ پھر اس کے بعد حضرت عثمان نے چار پڑھیں ۲؎ ابن عمر جب امام کے ساتھ نماز پڑھتے تو چار پڑھتے اور جب اکیلے نماز پڑھتے تو دو رکعتیں پڑھتے۳؎(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ یعنی حضورصلی اللہ علیہ وسلم اورحضرات شیخین نے منٰی میں تشریف لاکر ہمیشہ نماز قصر ہی پڑھی کبھی پوری نہ پڑھی اورحضرت عثمان نے شروع خلافت میں ہمیشہ قصر ہی پڑھی کبھی پوری نہ پڑھی۔اس سے معلوم ہوا کہ مسافر کو قصر و اتمام کا اختیار نہیں بلکہ اس پرقصر پڑھنا ہی فرض ہے ورنہ وہ حضرات کبھی اتمام بھی کیا کرتے۔

۲؎ یعنی آخر خلافت میں حضرت عثمان صرف منٰی میں ہمیشہ چار پڑھنے لگے منٰی کے علاوہ اور سفر میں کبھی اتمام نہ کیا اورمنٰی میں آکرکبھی قصر نہ کیا اگر آپ مسافر کو اختیار مانتے تو اس زمانہ میں کبھی قصر کرتے کبھی اتمام۔خیال رہے کہ آپ کے منٰی میں اتمام کرنے کی وجہ یہ ہے کہ عہد عثمانی کے نو مسلموں نے آپ کو منٰی میں قصر کرتے دیکھا تو سمجھے کہ اسلام میں نماز کی دو ہی رکعتیں ہیں اسی وہم کو دورکرنے کے لیئے آپ نے مکہ معظمہ میں اپنا ایک گھر بنایا وہاں اپنی ایک بیوی کو مقیم کرکے رکھا اب اگر ایک دن کے لیئے بھی آپ مکہ معظمہ آتے تو نمازپوری کرتے تھے۔(مسند امام احمد،عبدالرزاق،دارقطنی،مرقاۃ،فتح القدیر وغیرہ)اس کی تحقیق ہماری کتاب “جاءالحق”حصہ دوم میں ملاحظہ کرو۔

۳؎ یعنی حضرت ابن عمر مکہ معظمہ میں جب عثمان غنی یاکسی اورمقیم امام کے پیچھے نماز پڑھتے توپوری پڑھتےاکیلے پڑھتے تو قصر کرتے۔حکم بھی یہی ہے کہ مسافرمقیم امام کے پیچھے نماز پوری پڑھے۔۱؎ یعنی حضورصلی اللہ علیہ وسلم اورحضرات شیخین نے منٰی میں تشریف لاکر ہمیشہ نماز قصر ہی پڑھی کبھی پوری نہ پڑھی اورحضرت عثمان نے شروع خلافت میں ہمیشہ قصر ہی پڑھی کبھی پوری نہ پڑھی۔اس سے معلوم ہوا کہ مسافر کو قصر و اتمام کا اختیار نہیں بلکہ اس پرقصر پڑھنا ہی فرض ہے ورنہ وہ حضرات کبھی اتمام بھی کیا کرتے۔

۲؎ یعنی آخر خلافت میں حضرت عثمان صرف منٰی میں ہمیشہ چار پڑھنے لگے منٰی کے علاوہ اور سفر میں کبھی اتمام نہ کیا اورمنٰی میں آکرکبھی قصر نہ کیا اگر آپ مسافر کو اختیار مانتے تو اس زمانہ میں کبھی قصر کرتے کبھی اتمام۔خیال رہے کہ آپ کے منٰی میں اتمام کرنے کی وجہ یہ ہے کہ عہد عثمانی کے نو مسلموں نے آپ کو منٰی میں قصر کرتے دیکھا تو سمجھے کہ اسلام میں نماز کی دو ہی رکعتیں ہیں اسی وہم کو دورکرنے کے لیئے آپ نے مکہ معظمہ میں اپنا ایک گھر بنایا وہاں اپنی ایک بیوی کو مقیم کرکے رکھا اب اگر ایک دن کے لیئے بھی آپ مکہ معظمہ آتے تو نمازپوری کرتے تھے۔(مسند امام احمد،عبدالرزاق،دارقطنی،مرقاۃ،فتح القدیر وغیرہ)اس کی تحقیق ہماری کتاب “جاءالحق”حصہ دوم میں ملاحظہ کرو۔

۳؎ یعنی حضرت ابن عمر مکہ معظمہ میں جب عثمان غنی یاکسی اورمقیم امام کے پیچھے نماز پڑھتے توپوری پڑھتےاکیلے پڑھتے تو قصر کرتے۔حکم بھی یہی ہے کہ مسافرمقیم امام کے پیچھے نماز پوری پڑھے۔