حدیث نمبر 578

روایت ہے حضرت عائشہ سےفرماتی ہیں کہ نماز دو دو رکعتیں فرض کی گئی تھی پھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کی تو چار رکعتیں فرض ہوگئیں اور نماز سفر پہلے ہی فریضے پر رکھی گئی ۱؎ زہری فرماتے ہیں کہ میں نےحضرت عروہ سے پوچھا کہ حضرت عائشہ کا کیاخیال ہے کہ پوری کرتی ہیں۲؎ فرمایا کہ حضرت عثمان کی تاویل کی طرح انہوں نے بھی تاویل کرلی۳؎(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ یعنی ہجرت سے پہلے ہرنماز دو،دو رکعت تھی،بعدہجرت فجر تو دو رکعت رکھی گئی،مغرب تین،باقی نمازیں سفر میں وہی دو رکعتیں رہیں اور حضر میں چار رکعتیں کردی گئیں۔اس سے معلوم ہوا کہ اب سفر میں قصرکرنا اسی طرح فرض ہے جیسے اقامت میں پوری پڑھنا یہ حدیث وجوب قصر کی نہایت قوی دلیل ہے جس میں کوئی تاویل نہیں ہوسکتی اورمسلم،بخاری کی ہےاسے ضعیف نہیں کہا جاسکتا۔

۲؎ یعنی حضرت عائشہ صرف منٰی و مکہ معظمہ میں ہمیشہ پوری نماز پڑھتی ہیں کبھی قصر نہیں کرتیں،باقی سفروں میں ہمیشہ قصر کرتی ہیں اتمام نہیں کرتیں اس سفرمنٰی میں کیا خصوصیت ہے۔

۳؎ یعنی جیسےعثمان غنی نے اتمام کی کوئی وجہ نکال لی،ایسے ہی حضرت ام المؤمنین نےبھی کوئی وجہ اس اتمام کی نکالی ہوگی مجھے اس کی خبر نہیں۔امام نووی نے فرمایا اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت عثمان و حضرت عائشہ صدیقہ سفر میں قصر و اتمام دونوں جائز سمجھتے تھے لہذا یہ امام شافعی کی دلیل ہے۔فقیر کہتا ہے کہ یہ غلط ہے چند وجہ سے:ایک یہ کہ حضرت ام المؤمنین خود ہی تو روایت فرماتی ہیں کہ نمازسفر پہلے فریضہ پر رکھی گئی یعنی دو،دو رکعتیں تو خود اپنی روایت کے خلاف یہ رائے کیسے قائم کرسکتی ہیں۔دوسرے یہ کہ اگر آپ قصر و اتمام دونوں جائز سمجھتیں تو ہرسفرمیں کبھی قصرکرتیں کبھی اتمام مگر ایسا نہ کیا صرف منٰی میں اتمام کیا اور ہمیشہ کیا یہاں کبھی قصر نہ پڑھا اور دوسرے سفروں میں ہمیشہ اتمام کیا۔تیسرے یہ کہ اگر انکا یہ مذہب ہوتا تو حضرت زہری اسے تاویل نہ فرماتے بلکہ اسے ان کا مذہب قرار دیتے۔معلوم ہوا کہ آپ کا مذہب تو وجوب قصر کا تھا مگر منٰی میں کسی تاویل کی بناء پر اتمام فرماتیں وہ تاویل کیا تھی رب جانے۔ظاہر یہ ہے کہ آپ مکہ معظمہ میں پندرہ دن قیام کی نیت کرلیتیں ہوں گی اور آپ کا خیال یہ ہوگا کہ مہاجرین کو پندرہ دن مکہ معظمہ میں ٹھہرنا حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی حیات شریف میں منع تھا آپ کی وفات کے بعد جائز ہے،یہ ممانعت مہاجرمردوں کے لیئےتھی عورتوں کے لیئے نہیں یا ان کے لیئے تھی جوبوقت ہجرت بالغ تھے،میں اس وقت نابالغہ تھی۔وَاﷲُ وَرَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ!