أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَالُوۡٓا ءَاِذَا ضَلَلۡنَا فِى الۡاَرۡضِ ءَاِنَّا لَفِىۡ خَلۡقٍ جَدِيۡدٍ ۚ بَلۡ هُمۡ بِلِقَآءِ رَبِّهِمۡ كٰفِرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور انہوں نے کہا جب ہم مٹی میں مل جائیں گے تو کیا پھر ہماری از سرنو پیدائش ہوگی ؟ بلکہ وہ اپنے رب سے ملاقات کے منکر ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور انہوں نے کہا جب ہم مٹی میں مل جائیں گے تو کیا پھر ہماری از سر نو پیدائش ہوگی ؟ بلکہ وہ اپنے رب سے ملاقات کے منکر ہیں آپ کہیے تمہیں موت کا فرشتہ وفات دیتا ہے جس کو تم پر مقرر کیا گیا ہے ‘ پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹائے جائو گے (السجدہ : ١١۔ ١٠)

ضلال کے معنی 

کفار قریش میں سے جو لوگ قیامت کے منکر تھے انہوں نے یہ اعتراض کیا کہ جب ہم مرنے کے بعد مٹی ہو کر مٹی میں مل جائیں گے تو کیا پھر ہماری از سر نو پیدائش ہوگی ‘ اس آیت میں ضللنا کا لفظ ہے اور اس کا مصدر ضلال ہے ‘ اور ضلال کے حسب ذیل معانی ہیں۔

ضلال جب ہدایت کے مقابلہ میں ہو تو اس کا معنی ہے صراط مستقیم سے انحراف کرنا ‘ قرآن مجید میں ہے :

فمن اھتدی فانما یھتدی لنفسہ ج ومن ضل فانما یضل علیھا ط (یونس : ١٠٨) سو جس نے ہدایت کو اختیار کیا تو اس نے اپنے فائدے ہی کے لیے ہدایت کو اختیار کیا اور جس نے گم راہی کو اختیار کیا تو اس نے (انجام کار) اپنے ضرر کے لیے گم راہی کو اختیار کیا۔

شدت شوق اور زیادہ محبت کو بھی ضلال کہتے ہیں ‘ جیسے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے حضرت یعقوب سے کہا :

انک لفی ضللک القدیم (یوسف : ٩٥) بیشک آپ اپنی اسی پرانی محبت میں ہیں۔

سہو اور اجتہادی خطا پر بھی ضلال کا اطلاق کیا جاتا ہے جب فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو الزام دیا کہ تم نے ایک بےقصور شخص کو قتل کردیا تھا تو حضرت موسیٰ نے فرمایا :

فعلتھآ اذا وانا من الضآلین (الشعراء : ٢٠) یہ کام میں نے سہو اور اجتہادی خطا سے کیا تھا۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے چونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر اس قبطی کو گھونسا مارا تھا جس کے نتیجہ میں وہ مرگیا اس لیے آپ نے اس کو سہو اور اجتہادی خطا قرار دے کر ضلال سے تعبیر فرمایا ‘ تاہم کسی اور شخص کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اس فعل کو ضلال کہنا جائز نہیں ہے۔

نسیان کو بھی ضلال کہا جاتا ہے ‘ قرآن مجید میں ہے ‘ دو عورتوں کو گواہ بنانے کی وجہ ذکر فرمائی :

ان تضل احد ھما فتذکر احد ھما الاخری۔ (البقرہ : ٢٨٢) تاکہ دو گواہ عورتوں میں سے ایک بھولے تو دوسری اس کو یاد دلادے۔

ضلال غفلت کے معنی میں بھی آتا ہے ‘ قرآن مجید میں ہے :

لایضل ربی ولا ینسی (طٰہٰ : ٥٢) میرا رب نہ غافل ہوتا ہے نہ بھولتا ہے۔

جس طرح اللہ نے ہدایت کے اسباب پیدا کیے ہیں اسی طرح اس نے گمراہی کے اسباب بھی پیدا کیے ہیں اور جب انسان خود گمراہی کے اسباب کو اختیار کرے تو ان اسباب کی تخلیق کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

کذلک یضل اللہ الکفرین (المومن : ٧٤) اللہ اسی طرح کافروں میں گم راہی پیدا فرماتا ہے۔

یعنی جب انسان نے اپنے اختیار اور ارادہ سے گم راہی کے اسباب کو چن لیا تو اللہ تعالیٰ نے اس میں گمراہی کو پیدا کردیا۔ (الفردات ج ٢ ص ٣٩٠۔ ٣٨٨‘ ملخصا ‘ مطبوعہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ ‘ ١٤١٨ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 32 السجدة آیت نمبر 10