بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ﴿﴾

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا (ف۱)

(ف1)

سورۂ بنی اسرائیل اس کا نام سورۂ اسراء اور سورۂ سبحان بھی ہے یہ سورت مکّیہ ہے مگر آٹھ آیتیں وَاِنْ کَادُوْا لَیَفْتِنُوْنَکَ سے نَصِیْراً تک ۔ یہ قول قتادہ کا ہے ۔ بیضاوی نے جزم کیا ہے کہ یہ سورت تمام کی تمام مکیہ ہے ، اس سورت میں بارہ ۱۲ رکوع اور ایک سو دس آیتیں بصری ہیں اور کوفی ایک سو گیارہ ۱۱۰ اور پانچ سو تینتس ۵۳۳ کلمے اور تین ہزار چار سو ساٹھ ۳۴۶۰ حرف ہیں ۔

سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِیَهٗ مِنْ اٰیٰتِنَاؕ-اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ(۱)

پاکی ہے اسے (ف۲) جوراتوں رات اپنے بندے (ف۳) کو لے گیا (ف۴)مسجدِ حرام(خانہ کعبہ) سے مسجد اقصا(بیت المقدس) تک(ف۵)جس کے گرداگرد ہم نے برکت رکھی(ف۶) کہ ہم اسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں بےشک وہ سنتا دیکھتا ہے

(ف2)

منزّہ ہے اس کی ذات ہر عیب و نقص سے ۔

(ف3)

محبوب محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ۔

(ف4)

شبِ معراج ۔

(ف5)

جس کا فاصلہ چالیس منزل یعنی سوا مہینہ سے زیادہ کی راہ ہے ۔

شانِ نُزول : جب سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم شبِ معراج درجاتِ عالیہ و مراتبِ رفیعہ پر فائز ہوئے تو رب عزّوجلَّ نے خِطاب فرمایا اے محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) یہ فضیلت و شرف میں نے تمہیں کیوں عطا فرمایا ؟ حضور نے عرض کیا اس لئے کہ تو نے مجھے عبدیّت کے ساتھ اپنی طرف منسوب فرمایا ۔ اس پر یہ آیتِ مبارکہ نازِل ہوئی ۔ (خازن)

(ف6)

دینی بھی دنیوی بھی کہ وہ سرزمینِ پاک وحی کی جائے نزول اور انبیاء کی عبادت گاہ اور ان کا جائے قیام و قبلۂ عبادت ہے اور کثرتِ انہار و اشجار سے وہ زمین سرسبز و شاداب اور میووں اور پھلوں کی کثرت سے بہترین عیش و راحت کا مقام ہے ۔ معراج شریف نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ایک جلیل معجِزہ اور اللہ تعالٰی کی عظیم نعمت ہے اور اس سے حضور کا وہ کمال قرب ظاہر ہوتا ہے جو مخلوقِ الٰہی میں آپ کے سوا کسی کو میسّر نہیں ۔ نبوّت کے بارہویں سال سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم معراج سے نوازے گئے مہینہ میں اختلاف ہے مگر اشہر یہ ہے کہ ستائیسویں رجب کو معراج ہوئی مکّہ مکرّمہ سے حضور پُرنور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا بیت المقدس تک شب کے چھوٹے حصّہ میں تشریف لے جانا نصِّ قرآنی سے ثابت ہے اس کا منکِر کافر ہے اور آسمانوں کی سیر اور منازلِ قرب میں پہنچنا احادیثِ صحیحہ معتمدہ مشہورہ سے ثابت ہے جو حدِّ تواتر کے قریب پہنچ گئی ہیں اس کا منکِر گمراہ ہے ، معراج شریف بحالتِ بیداری جسم و روح دونوں کے ساتھ واقع ہوئی یہی جمہور اہلِ اسلام کا عقیدہ ہے اور اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی کثیر جماعتیں اور حضور کے اجلّہ اصحاب اسی کے معتقد ہیں ۔ نصوصِ آیات و احادیث سے بھی یہی مستفاد ہوتا ہے ، تِیرہ دماغان فلسفہ کے اوہامِ فاسدہ مَحض باطل ہیں قدرتِ الٰہی کے معتقد کے سامنے وہ تمام شبہات مَحض بے حقیقت ہیں ۔ حضرت جبریل کا براق لے کر حاضر ہونا ، سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو غایت اکرام و احترام کے ساتھ سوار کر کے لے جانا ، بیت المقدس میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا انبیاء کی امامت فرمانا پھر وہاں سے سیرِ سمٰوٰت کی طرف متوجہ ہونا ، جبریلِ امین کا ہر ہر آسمان کے دروازہ کو کھلوانا ، ہر ہر آسمان پر وہاں کے صاحبِ مقام انبیاء علیہم السّلام کا شرفِ زیارت سے مشرف ہونا اور حضور کی تکریم کرنا ، احترام بجا لانا ، تشریف آوری کی مبارک بادیں دینا ، حضور کا ایک آسمان سے دوسرے آسمان کی طرف سیر فرمانا ، وہاں کے عجائب دیکھنا اور تمام مقرّبین کی نہایتِ منازل سِدرۃ المنتہٰی کو پہنچنا ، جہاں سے آگے بڑھنے کی کسی مَلَکِ مقرّب کو بھی مجال نہیں ہے ، جبریلِ امین کا وہاں معذرت کر کے رہ جانا ، پھر مقامِ قربِ خاص میں حضور کا ترقیاں فرمانا اور اس قربِ اعلٰی میں پہنچنا کہ جس کے تصوّر تک خَلق کے اوہام و افکار بھی پرواز سے عاجز ہیں ، وہاں موردِ رحمت و کرم ہونا اور انعاماتِ الٰہیہ اور خصائصِ نِعَم سے سرفراز فرمایا جانا اور ملکوتِ سمٰوٰت و ارض اور ان سے افضل و برتر علوم پانا اور امّت کے لئے نمازیں فرض ہونا ، حضور کا شفاعت فرمانا ، جنّت و دوزخ کی سیریں اور پھر اپنی جگہ واپس تشریف لانا اور اس واقعہ کی خبریں دینا ، کُفّار کا اس پر شورشیں مچانا اور بیت المقدس کی عمارت کا حال اور مُلکِ شام جانے والے قافلوں کی کیفیّتیں حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام سے دریافت کرنا ، حضور کا سب کچھ بتانا ، اور قافلوں کے جو احوال حضور نے بتائے قافلوں کے آنے پر ان کی تصدیق ہونا ، یہ تمام صحاح کی معتبر احادیث سے ثابت ہے اور بکثرت احادیث ان تمام امور کے بیان اور ان کی تفاصیل سے مملو ہیں ۔

وَ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَلَّا تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِیْ وَكِیْلًاؕ(۲)

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب (ف۷) عطا فرمائی اور اسے بنی اسرائیل کے لیے ہدایت کیا کہ میرے سوا کسی کو کارساز(کام بنانے والا) نہ ٹھہراؤ

(ف7)

یعنی توریت ۔

ذُرِّیَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍؕ-اِنَّهٗ كَانَ عَبْدًا شَكُوْرًا(۳)

اسے ان کی اولاد جن کو ہم نے نوح کے ساتھ (ف۸) سوار کیا بےشک وہ بڑا شکر گزار بندہ تھا(ف۹)

(ف8)

کشتی میں ۔

(ف9)

یعنی حضرت نوح علیہ السلام کثیر الشکر تھے جب کچھ کھاتے ، پیتے ، پہنتے تو اللہ تعالٰی کی حمد کرتے اور اس کا شکر بجا لاتے اور ان کی ذُرِّیَّت پر لازم ہے کہ وہ اپنے جدِّ محترم کے طریقہ پر قائم رہے ۔

وَ قَضَیْنَاۤ اِلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ فِی الْكِتٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِی الْاَرْضِ مَرَّتَیْنِ وَ لَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِیْرًا(۴)

اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب (ف۱۰) میں وحی بھیجی کہ ضرور تم زمین میں دوبار فساد مچاؤ گے (ف۱۱) اور ضرور بڑا غرور کرو گے (ف۱۲)

(ف10)

توریت ۔

(ف11)

اس سے زمینِ شام و بیت المقدس مراد ہے اور دو مرتبہ کے فساد کا بیان اگلی آیت میں آتا ہے ۔

(ف12)

اور ظلم وبغاوت میں مبتلا ہو گے ۔

فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ اُوْلٰىهُمَا بَعَثْنَا عَلَیْكُمْ عِبَادًا لَّنَاۤ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّیَارِ وَ كَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلًا(۵)

پھر جب ان میں پہلی بار (ف۱۳) کا وعدہ آیا (ف۱۴) ہم نے تم پر اپنے کچھ بندے بھیجے سخت لڑائی والے (ف۱۵) تو وہ شہروں کے اندر تمہاری تلاش کو گھسے (ف۱۶) اور یہ ایک وعدہ تھا (ف۱۷) جسے پورا ہونا

(ف13)

کے فساد کے عذاب ۔

(ف14)

اور انہوں نے احکامِ توریت کی مخالفت کی اور محارم و مَعاصی کا ارتکاب کیا اور حضرت شعیا پیغمبر علیہ السلام (وبقولے) حضرت ارمیا کو قتل کیا ۔ ( بیضاوی وغیرہ)

(ف15)

بہت زور و قوّت والے ان کو تم پر مسلّط کیا اور وہ سنجاریب اور اس کے افواج ہیں یا بُخْتِ نَصَر یا جالوت جنہوں نے بنی اسرائیل کے عُلَماء کو قتل کیا ، توریت کو جَلایا ، مسجد کو خراب کیا اور ستّر ہزار کو ان میں سے گرفتار کیا ۔

(ف16)

کہ تمہیں لوٹیں اور قتل و قید کریں ۔

(ف17)

عذاب کا کہ لازم تھا ۔

ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَیْهِمْ وَ اَمْدَدْنٰكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ جَعَلْنٰكُمْ اَكْثَرَ نَفِیْرًا(۶)

پھر ہم نے ان پر الٹ کر تمہارا حملہ کردیا (ف۱۸) اور تم کو مالوں اور بیٹوں سے مدد دی اور تمہارا جتھا بڑھا دیا

(ف18)

جب تم نے توبہ کی اور تکبُّر و فساد سے باز آئے تو ہم نے تم کو دولت دی اور ان پر غلبہ عنایت فرمایا جو تم پر مسلّط ہو چکے تھے ۔

اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ- وَ اِنْ اَسَاْتُمْ فَلَهَاؕ-فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ لِیَسُوْٓءٗا وُجُوْهَكُمْ وَ لِیَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوْهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ لِیُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِیْرًا(۷)

اگر تم بھلائی کرو گے اپنا بھلا کرو گے(ف۱۹)اور بُرا کرو گے تو اپنا پھر جب دوسری بار کا وعدہ آیا (ف۲۰) کہ دشمن تمہارا منہ بگاڑ دیں (ف۲۱) اور مسجد میں داخل ہوں (ف۲۲) جیسے پہلی بار داخل ہوئے تھے (ف۲۳) اور جس چیز پر قابو پائیں (ف۲۴) تباہ کرکے برباد کردیں

(ف19)

تمہیں اس بھلائی کی جزا ملے گی ۔

(ف20)

اور تم نے پھر فساد برپا کیا حضرت عیسٰی علیہ السلام کے قتل کے درپے ہوئے اللہ تعالٰی نے انہیں بچایا اور اپنی طرف اٹھا لیا اور تم نے حضرت زکریا اور حضرت یحیٰی علیہم السلام کو قتل کیا تو اللہ تعالٰی نے تم پر اہلِ فارَس اور روم کو مسلّط کیا کہ تمہارے وہ دشمن تمہیں قتل کریں ، قید کریں اور تمہیں اتنا پریشان کریں ۔

(ف21)

کہ رنج وپریشانی کے آثار تمہارے چہروں سے ظاہر ہوں ۔

(ف22)

یعنی بیت المقدس میں اور اس کو ویران کریں ۔

(ف23)

اور اس کو ویران کیا تھا تمہارے پہلے فساد کے وقت ۔

(ف24)

بلادِ بنی اسرائیل سے اس کو ۔

عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یَّرْحَمَكُمْۚ-وَ اِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَاۘ-وَ جَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِیْنَ حَصِیْرًا(۸)

قریب ہے کہ تمہارا رب تم پر رحم کرے (ف۲۵) اور اگر تم پھر شرارت کرو (ف۲۶) تو ہم پھر عذاب کریں گے (ف۲۷) اور ہم نے جہنم کو کافروں کا قید خانہ بنایا ہے

(ف25)

دوسری مرتبہ کے بعد بھی اگر تم دوبارہ توبہ کرو اور مَعاصی سے باز آؤ ۔

(ف26)

تیسری مرتبہ ۔

(ف27)

چنانچہ ایسا ہوا اور انہوں نے پھر اپنی شرارت کی طرف عود کیا اور زمانۂ پاکِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم میں حضورِ اقدس علیہ الصلٰوۃ و التسلیمات کی تکذیب کی تو قیامت تک کے لئے ان پر ذلّت لازم کر دی گئی اور مسلمان ان پر مسلّط فرما دیئے گئے جیسا کہ قرآنِ کریم میں یہود کی نسبت وارد ہوا ” ضُرِبَتْ عَلِیْھِمُ الذِّلَّۃُ ” الآیۃ ۔

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَهْدِیْ لِلَّتِیْ هِیَ اَقْوَمُ وَ یُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا كَبِیْرًاۙ(۹)

بےشک یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو سب سے سیدھی ہے (ف۲۸) اور خوشی سناتا ہے ایمان والوں کو جو اچھے کام کریں کہ ان کے لیے بڑا ثواب ہے

(ف28)

وہ اللہ تعالٰی کی توحید اور اس کے رسولوں پر ایمان لانا اور ان کی اطاعت کرنا ہے ۔

وَّ اَنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۠(۱۰)

اور یہ کہ جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم نے ان کے لیے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے