أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَفَمَنۡ كَانَ مُؤۡمِنًا كَمَنۡ كَانَ فَاسِقًا‌ ؕ لَا يَسۡتَوٗنَ ۞

ترجمہ:

تو کیا کوئی مومن کسی فاسق کی مثل ہوسکتا ہے ! وہ برابر نہیں ہیں

مومن اور فاسق کا دنیا اور آخرت میں مساوی نہ ہونا 

مومن فاسق کی مثل نہیں ہے ‘ مومن دنیا میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت کرتا ہے اور فاسق جو کافر ہو وہ اللہ کی معصیت کرتا ہے اور اللہ کے شریک قرار دے کر ان کی پرستش کرتا ہے ‘ اس لیے اللہ کے نزدیک مومنکے لیے دنیا میں تعریف اور تحسین ہے اور آخرت میں اس کے لیے جنت ہے ‘ اللہ کی رضا اور اس کا دیدار ہے ‘ اور کافر کے لیے اللہ کے نزدیک دنیا میں مذمت اور توہین ہے اور آخرت میں اللہ کے دیدار سے محرومی ‘ اس کی ناراضگی اور دوزخ ہے۔

حضرت ابن عباس (رض) اور عطا بنیسار نے کہا یہ آیت حضرت علی بن ابی طالب (رض) اور الولید بن عقبہ بن ابی معیط کے متعلق نازل ہوئی ہے ‘ ان دونوں مناقشہ ہوا ‘ الولیدنے کہا میری زبان تم سے بڑی ہے اور میرے دانت تم سے تیز ہیں ‘ اور میرا جسم تم سے مضبوط ہے ‘ حضرت علی نے فرمایا خاموش رہ تو فاسق ہے ‘ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔

فاسق اس شخص کو کہتے ہیں جو احکام شرعیہ کی خلاف ورزی کرے اس کا اطلاق مومن پر بھی ہوتا ہے اور کافر پر بھی ہوتا ہے۔ اس آیت میں فاسق کا اطلاق کافر پر ہے۔

ذمی کے بدلہ میں مسلمان کو قتل نہ کرنے کے متعلق ائمہ ثلاثہ کے دلائل 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : لایستون مومن اور فاسق برابر نہیں ہے۔

علامہ قرطبی مالکی متوفی ٦٦٨ ھ نے اس آیت سے یہ استدلال کیا ہے کہ قصاص میں مساوات ہوتی ہے اور مومن اور کافر میں مساوات نہیں ہے اس لیے ہم کہتے ہیں کہ اگر مسملان کسی ذمیکا فر کو قتل کردے تو اس سے قصاص نہیں لیا جائے گا ‘ امام شافعی اور امام احمد کا بھی یہی مسلک ہے ‘ اس کے برخلاف فقہاء احناف کا مسلک یہ ہے کہ اگر مسلمان نے کسی ذمی کافر کو قتل کردیا تو اس سے قصاص لیا جائے گا ‘ اور قصاص اس وقت لیا جاتا ہے جب قاتل اور مقتول میں مساوات ہو اور اس آیت میں یہ تصریح ہے کہ کافر اور مسلمان مساوی نہیں ہیں اس لیے کافر کا مسلمان سے قصاص نہیں لیا جائے گا اور یہ آیت احناف کے خلاف حذحجت ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن جز ١٤ ص ٩٩‘ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)

ائمہ ثلاثہ احناف کے خلاف اس حدیث سے بھی استدلال کرتے ہیں :

ولا یقتل مسلم بکافر۔ اور مسلمان کو کافر کے بدلہ میں قتل نہیں کیا جائے گا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١١١)

ائمہ ثلاثہ کے دلائل کے جوابات اور امام ابوحنیفہ کی طرف سے دلائل 

فقہاء احناف اس دلیل کے جواب میں یہ کہتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جس طرح کافر کے بدلہ میں مسلمان کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے اسی طرح آپ نے ذمی کو بھی اس کے عہد ذمہ میں قتل کرنے سے منع فرمایا ہے ‘ اس لیے اگر ذمی کو اس کے عہد کے دوران کسی مسلمان نے قتل کردیا تو اس سے قصاص لیا جائے گا ‘ امام بخاری کی روایت میں جو مذکور ہے کہ مسلمان کو کافر کے بدلہ میں قتل نہیں کیا جائے گا اس سے مراد کافر حربی ہے اور اس روایت میں پوری تفصیل نہیں ہے ‘ پوری تفصیل اس روایت میں ہے :

قیس بن عباد بیان کرتے ہیں کہ میں اور اشتر حضرت علی (رض) کے پاس گئے اور ہم نے پوچھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آپ سے کوئی ایساعہد کیا ہے جو عام لوگوں سے نہیں کیا ؟ حضرت علی نے فرمایا نہیں سوا ان چیزوں کے جو میری اس کتاب میں ہیں اور وہ کتاب ان کی تلوار کی میان میں تھی اور اس میں مذکور تھا ‘ تمام مومنین کے خون مساوی ہیں ‘ اور وہ اپنے ماسوا پر غالب ہیں ‘ اور ادنی مسلمان بھی کسی مسلمان کے عہد کے لیے کوشش کرے گا اور سنو کسی مسلمان کو کسی کافر کے بدلہ میں قتل نہیں کیا جائے گا ‘ اور نہ کسی ذمی کو اس کے عہد ذمہ میں قتل کیا جائے اور جس نے کوئی جرم کیا تو اس کا وہ ذمہ دا رہے ‘ اور جس نے کسی مجرم کو پناہ دی تو اس پر اللہ کی لعنت ہو اور فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی۔ (سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٥٣٠‘ سنن نسائی رقم الحدیث : ٤٧٥٩‘ مسند احمد ج ١ ص ١٢٢۔ ١١٩‘ طبع قدیم)

حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ تمام مسلمانوں کے خون مساوی ہیں اور ان کا ادنی فرد بھی اپنے ذمہ کے حصول کی کوشش کرے گا ‘ اور اپنے بعید پر اس کے حق کو لوٹائے گا ‘ اور وہ اپنے مساوا پر قوی ہیں اور سنو کسی مسلمان کو کسی کافر کے بدلہ میں قتل نہیں کیا جائے گا اور نہ کسی ذمی کو اس کے عہد ذمہ میں قتل کیا جائے گا۔ (سنن النسائی رقم الحدیث : ٤٧٤٥‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٠ ٢٦٦‘ مسند احمد ج ١ ص ١١٩)

نیز نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ذمی کو قتل کرنے پر سخت اظہار ناراضگی اور وعید فرمائی ہے :

حضرت ابوبکرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے کسی ذمی کو بغیر کنہہ (دلیل شرعی) کے قتل کردیا اللہ اس پر جنت حرام کردے گا۔ (سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٢٧٦٠‘ سنن النسائی رقم الحدیث ٤٧٦٢‘ مسند احمد ج ٥ ص ٥٠‘ صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣١٦٦ )

نیز نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود بھی ذمی کے بدلے میں مسلمان کو قتل کردیا ‘ یعنی قتل کرنے کا حکم دیا ‘ حدیث میں ہے :

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مسلمان کو ذمی کے بدلہ میں قتل کردیا اور فرمایا جو لوگ اپنے ذمہ (عہد) کو پورا کرتے ہیں میں ان میں سب سے بڑھ کر کریم ہوں۔ (سنن دارقطنی رقم الحدیث : ٣٢٣٤۔ ٣٢٣٣۔ ٣٢٣٢‘ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٧ ھ)

امام علی بن عمر دار قطنی متوفی ٣٨٥ ھ نے اس حدیث کی سند کو ضعیف کہا ہے ‘ لیکن انہوں نے اس حدیث کی تین مختلف سندیں ذکر کی ہیں اور تعدد اسانید تقویت کا موجب ہے اور اس وجہ سے یہ حدیث لائق استدلال ہے۔

متعدد صحابہ سے بھی یہ منقول ہے کہ انہوں نے ذمی کے بدلہ میں مسلمان کو قتل کردیا۔

ابراہیم التحعی بیان کرتے ہیں کہ بکر بن وائل کے ایک شخص نے ہل حیرہ کے ایک شخص کو قتل کردیا ‘ حضرت عمر نے اس معاملہ میں یہ لکھا کہ اس قاتل کو اولیاء مقتول کے سپرد کیا جائے وہ چاہیں تو اس کو قتل کردیں اور وہ چاہیں تو اسکو معاف کردیں پھر اس شخص کو مقتول کے ولی کے سپرد کیا گیا جو اہل حیرہ (ذمیوں میں) سے تھا اس کا نام حنین تھا اس نے اس (مسلمان) قاتل کو قتل کردیا۔ ( معرفۃ السنن والآ ثار ج ٦ ص ١٤٩‘ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ السنن الکبریٰ ج ٨ ص ٣٢)

الجنوب الاسدی بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے پاس ایک شخص کو لایا گیا جس نے ایک ذمی شخص کو قتل کردیا تھا ‘ جب اس مسلمان کے خلاف گواہی قائم ہوگئی تو حضرت علی نے اس کو قتل کرنے کا حکم دیا ‘ پھر اس ذمی مقتول کے بھائی نے آکرکہا ‘ میں نیخ اس مسلمان قاتل کو معاف کردیا ‘ حضرت علی نے فرمایا شاید مسلمانوں نے تم کو ڈرایا اور دھمکا یا ہوگا ! اس کے بھائی نے کہا ‘ نہیں لیکن مجھے خیال آیا کہ اس کو قتل کرنے سے میرا بھائی تو واپس نہیں آئے گا اور انہوں نے مجھے خون بہا کی پیش کش کی ہے سو میں راضی ہوگیا ‘ حضرت علی نے فرمایا تم اپنے معالمہ کو بہتر جانتے ہو ‘ ذمی شخص کا خون ہمارے خون کی طرح ہے اور اس کی دیت ہماری دیت کی طرح ہے۔ ( معرفتہ السنن والا ثار ج ٦ ص ١٥٠‘ رقم الحدیث : ٤٨١٧‘ السنن الکبری ج ٨ ص ٣٤)

امام بیھقی اور امام شافعی نے اس حدیث پر یہ اعتراض کیا ہے کہ حضرت علی کی مفصل روایت اس طرح ہے کہ مسلمان کو کافر کے بدلہ میں قتل کیا جائے اور نہ ذمی کو اس کے عہد ذمہ میں قتل کیا جائے جیسا کہ ہم متعدد کتب حدیث کے حوالوں سے بیان کرچکے ہیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 32 السجدة آیت نمبر 18