أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمۡ جَنّٰتُ الۡمَاۡوٰى نُزُلًاۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

رہے وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے تو ان کی مہمانی میں ان کے رہنے کے لیے جنتیں ہیں جو کچھ انہوں نے عمل کیے تھے اس کی جزا میں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : رہے وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے تو ان کی مہمانی میں ان کے رہنے کے لیے جنتیں ہیں ‘ جو کچھ انہوں نے عمل کیے تھے اس کی جزا میں رہے وہ لوگ جنہوں نے نافرمانی کی ان کا ٹھکانا آگ ہے ‘ جب بھی وہ اس آگ سے نکلنے کا ارادہ کریں گے ‘ ان کو اسی آگ میں لوٹا دیا جائے گا ‘ اور ان سے کہا جائے گا اب اس آگ کا مزہ چکھو جس کی تم تکذیب کیا کرتے تھے اور ہم ان کو ضرور چھوٹا عذاب چکھائیں گے بڑے عذاب کے سوا تاکہ وہ (کفر یا نافرمانی سے) رجوع کرلیں اور اس سے بڑا ظالم کون ہوگا جس کو اس کے رب کی آیتوں سے نصیحت کی جائے پھر وہ ان سے اعراض کرے ‘ بیشک ہم مجرموں سے انتقام لینے والے ہیں (السجدہ : ٢٢۔ ١٩)

عذاب ادنیٰ اور عذاب اکبر کے مصادیق 

پہلی دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں اور کافروں دونوں کے اخروی ٹھکانوں کا ذکر فرمایا ‘ مومنوں کو ان کے ایمان اور نیک اعمال کی وجہ سے رہائش کے لیے جنتیں دی جائیں گی اور جس طرح مہمانوں کی تکریم اور ضیافت کی جاتی ہے ‘ ان کی تکریم اور ضیافت کی جائے گی ‘ عربی میں مہمانی کے لیے نزل کا لفظ ہے کیونکہ کسی معزز شخصیت کے نزول کے فوراً بعد اس کی خاطر تواضع کی جاتی ہے ‘ پھر اس کو کھانا وغیرہ کھلایا جاتا ہے اور اس کے دوسرے معاملات طے کیے جاتے ہیں ‘ اس وجہ سے عربی میں مہمانی کو نزل کہتے ہیں۔

اور کافروں کو اس آیت میں ” الذین فسقوا “ سے تعبیر فرمایا ‘ فسق کا معنی ہے خروج ‘ کیونکہ یہ لوگ ایمان کو چھوڑکر کفر کی طرف خروج کرچکے تھے اس لیے ان کو فاسق فرمایا ‘ ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے ‘ جب بھی یہ دوزخ سے نکلنے کا ارادہ کریں گے دوزخ کے بلند شعلے ان کو واپس اسی مقام کی طرف دھکیل دیں گے اور دوزخ کے پہرہ دار ان سے کہیں گے ‘ اب تم اس عذاب کا مزہ چکھو جس کا تم انکار کیا کرتے تھے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 32 السجدة آیت نمبر 19