أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَنـــُذِيۡقَنَّهُمۡ مِّنَ الۡعَذَابِ الۡاَدۡنٰى دُوۡنَ الۡعَذَابِ الۡاَكۡبَرِ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور ہم ان کو ضرور چھوٹا عذاب چکھائیں گے ‘ بڑے عذاب کے سوا تاکہ وہ (کفرو نافرمانی سے) رجوع کرلیں

السجدہ : ٢١ میں فرمایا : ہم ان کو ضرور چھوٹا عذاب چکھائیں گے ‘ چھوٹے اور ادنی عذاب سے مراد دنیا کے مصائب اور بیماریاں ہیں جن میں بندوں کو اس لیے مبتلا کیا جاتا ہے تاکہ وہ توبہ کرلیں ‘ حضرت ابن عباس نے فرمایا اس سے مراد حدود اور تعزیرات اور جرائم کی سزائیں ہیں ‘ حضرت ابنمسعود (رض) نے فرمایا اس سے مراد غزوہ بدر میں کفار کا قتل کیا جاتا ہے۔

مقاتل نے کہا اس سے مراد کفار مکہ پر مکہ میں نازل ہونے والے سات سال کا قحط ہے جس میں انہوں نے مردار تک کھا لیے تھے ‘ اور مجاہد نے کہا اس سے مراد عذاب قبر ہے ‘ اور بڑے عذاب سے مراد قیامت کا عذاب ہے اور دوزخ کا عذاب ہے۔

اور یہ جو فرمایا ہے تاکہ وہ رجوع کرلیں۔ گر اس کا تعلق عذاب ادنی سے ہو تو اس کا معنی ہے تاکہ وہ دنیا میں کفر اور معصیت سے رجوع کرلیں اور اگر اس کا تعلق عذاب اکبر سے ہو تو اس کا معنی ہے تاکہ وہ آخرت میں پھر دنیا کی طرف لوٹ جانے کی تمنا کریں۔

القرآن – سورۃ نمبر 32 السجدة آیت نمبر 21